Chand Ke Paar چاند کےپار

Chand Ke Paar چاند کےپار Exclusive selection of urdu poetry ( اردو شاعری کی خوبصورت کولیکش )

اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو
بھنورے سے مِلتی جُلتی ہے میں نے کہا یہ خُو
پُوچھا، بتاؤ درد کو چُھو کر لگا ہے کیا ؟
آیا جواب ، پوروں سے رسنے لگا لہو
دیکھا ہے کیا فلک پہ وہ تنہا اُداس چاند؟
آیا جواب ، اُس کو کسی کی ہے جُستجو !
ہوتی ہے کیوں یہ اَشکوں کی برسات رات بھر
آیا جواب ، آنکھوں کا ہوتا ہے یُوں وضو
پُوچھا گیا نصیب کے سُورج کا کیا بنا ؟
میں نے کہا وہ سو گیا ، ایسا بنا عدو
پُوچھا ، نم

ی سے ، دُھند سی آنکھوں میں کس لئے ؟
آیا جواب ، ہجر کی ان میں ہوئی نمو
پُوچھا ، بچھڑتے پل کی کوئی اَن کہی ہے یاد ؟
تارِ نفس پہ لکھی ہے اب تک وہ گفتگو
پوچھا ، سنو وصال کی چٹخی ہے کیوں زباں؟
میں نے کہا ، فراق کا صحرا تھا رُوبرو

https://vt.tiktok.com/ZS5yJ1P2F/پیج کے تمام فالورز سے گزارش ہے کہ برائے کرم اس بیج کے ٹکٹاک اکاؤنٹ کو فالو کریں شکر گزار...
04/01/2026

https://vt.tiktok.com/ZS5yJ1P2F/
پیج کے تمام فالورز سے گزارش ہے کہ برائے کرم اس بیج کے ٹکٹاک اکاؤنٹ کو فالو کریں شکر گزار رہوں گی
😍😍

4116 likes, 336 comments. “‏آگــــــــ سے سِیکھ لیا ہے ٫ یہ قَرینہ ہم نے بُجھ بھی جانا تو ٫ بڑی دیر سُلگتے رَہنا جانے کِس عُمر میں ٫ جائے گی یہ عادت اَپنی رُوٹھنا اُس سے تو ٫ اَور...

13/04/2025

To all my followers. Facebook just activated my monitisation option. Now anyone can send me stars as a gesture of appreciation. I look forward to get stars from you soon. 😍🌟⭐

بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیتلوٹ جائیں گے اسی گریۂ بیداد سمیتجیسے ہم کار جہاں کے لئے موزوں ہی نہ ہوںہم کو لوٹا دی...
13/04/2025

بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیت
لوٹ جائیں گے اسی گریۂ بیداد سمیت

جیسے ہم کار جہاں کے لئے موزوں ہی نہ ہوں
ہم کو لوٹا دیا جاتا رہا اسناد سمیت

لوگ چوپال میں بیٹھے تھے مگر ساکت تھے
ہم بھی خاموش رہے زخم کی روداد سمیت

جوتشی کوئی الٹ پھیر کا حل ہے کہ نہیں
سب ستارے ہیں نحوست بھرے اعداد سمیت

میں نے ہی بھوک کو خیرات پہ برتر رکھا
لوگ آئے تھے مری سمت بھی امداد سمیت

میں تو جو دیکھ رہی ہوں وہی بولوں گی سدا
قید کر دیجئے مجھ کو لب آزاد سمیت

میں نے کس جبر میں کاٹی ہے یہ پسماندہ حیات
مجھ کو کوئی بھی نہ سمجھا مری اولاد سمیت

چل عمر کی گَٹھڑی کھولتے ہیں اور دیکھتے ہیںاِن سانسوں کی تضحیک میں سےاِس ماہ و سال کی بھیک میں سےاِس ضرب، جمع، تفریق میں ...
13/04/2025

چل عمر کی گَٹھڑی کھولتے ہیں
اور دیکھتے ہیں
اِن سانسوں
کی تضحیک میں سے
اِس ماہ و سال کی بھیک میں سے
اِس ضرب، جمع، تفریق میں سے
کیا حاصل ہے، کیا لاحاصل؟؟

چل گَٹھڑی کھول کے لمحوں کو
کچھ وَصل اور ہِجر کے برسوں کو
کچھ گِیتوں کو، کچھ اَشکوں کو
پھر دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں
یہ درد بَھری سوغات ہے جو
یہ جیون کی خیرات ہے جو
اِک لمبی کالی رات ہے جو
سب اپنے پاس ہی کیوں آئی؟؟
یہ ہم کو راس ہی کیوں آئی؟؟

یہ دیکھ، یہ لمحہ میرا تھا جو اور کسی کے نام ہوا
یہ دیکھ، یہ صُبح کا منظر تھا جو صُبح سے مِثلِ شام ہوا
اور یہ میرا آغاز پڑا جو بدتَر اَز انجام ہوا
اب چھوڑ اُسے، آ دیکھ اِدھر
یہ حَبس پڑا اور ساتھ اِس کے
کچھ اُکھڑی اُکھڑی سانسیں ہیں
اِک دُھندلا دُھندلا منظر ہے
اور اُجڑی اُجڑی آنکھیں ہیں
یہ جُھلسے ہوئے کچھ خواب ہیں، جن کے ساتھ کوئی تعبیر نہیں
یہ دیکھ حِنائی ہاتھ بھی ہیں پَر وَصل کی ایک لکیر نہیں
دو نازک ہونٹ گلاب سے ہیں پَر داد جو دے وہ مِیر نہیں
اِک اِسم محبت والا ہے اور اُس کی بھی تفسیر نہیں

بس اِتنی ہمّت تھی تجھ میں؟؟
بس تیری آنکھیں بھیگ گئیں؟؟
ابھی اور بہت سے لمحے ہیں
ابھی اور بہت سی باتیں ہیں
ابھی ہِجر بَھرا اِک حُجرہ ہے
ابھی درد بَھری اِک کُٹیا ہے
چل چھوڑ اِس درد کہانی کو
روک آنکھ سے بہتے پانی کو
آ ڈھونڈ کہیں اِس گَٹھڑی میں
اِک ہِجر آلُود سا وعدہ ہے
وعدہ بھی سیدھا سادہ ہے
بس اپنے اپنے رستے پر
چلتے رہنے کا ارادہ ہے
تُو دیکھ اگر وہ مِل جائے
ممکن ہے زخم بھی سِل جائے
ورنہ ہم ہِجر جو کاٹ چکے
وہ اس جیون سے زیادہ ہے

یہی ھے نا..! تمہاری بے دھیانی سے گریزاں ھیںکہ اب تو ھم بھی اپنی رائیگانی سے گریزاں ھیںتجھے بس ایک پَل کو دیکھنا تھا بات ...
18/02/2025

یہی ھے نا..! تمہاری بے دھیانی سے گریزاں ھیں
کہ اب تو ھم بھی اپنی رائیگانی سے گریزاں ھیں

تجھے بس ایک پَل کو دیکھنا تھا بات کرنا تھی
مگر اب تیرے لہجے کی گرانی سے گریزاں ھیں

تمہارے نام پر جلتا دِیا بُجھنے نہیں دیتے
مگر دِل پر تمہاری حکمرانی سے گریزاں ھیں

فریبِ گفتگو نے دیر تک محصور رکھا ھے
مگر اب ھم فضائے خُوش گُمانی سے گریزاں ھیں

عذابِ تشنگی نے جسم و جاں کو ریت کر ڈالا
لبِ دریا کھڑے ھیں اور پانی سے گریزاں ھیں

تجھے تسخیر کرنا تھا کسی دلدار ساعت میں
مگر یوں ھے کہ اب ساری کہانی سے گریزاں ھیں

کبھی شاخِ بدن پر روشنی کی آیتیں اتریں
کبھی یہ رتجگے، اس مہربانی سے گریزاں ھیں

{ نوشیؔ گیلانی }

تلخی کی بوند  بوند سے لہجہ ہوا زہر.....میں رفتہ رفتہ نیم کے پتوں میں ڈھل گئی!
18/02/2025

تلخی کی بوند بوند سے لہجہ ہوا زہر.....
میں رفتہ رفتہ نیم کے پتوں میں ڈھل گئی!

سنو !!!!!!!!!!!!! ‏ہر انسان کیلئے ،،ظرف اور مُحبت کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے ،،چھوٹے ییمانےمیں ،،بڑی مُحبت گُھٹن بن جاتی ہے...
18/02/2025

سنو !!!!!!!!!!!!! ‏
ہر انسان کیلئے ،،
ظرف اور مُحبت کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے ،،
چھوٹے ییمانےمیں ،،
بڑی مُحبت گُھٹن بن جاتی ہے ،،
اور ،،
بڑے پیمانے میں چھوٹی مُحبت ،، تشنگی ۔۔

اسی موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگیہر شہ جہاں حسین تھی ھم تم تھے اجنبیلے کر چلے تھے ھم جنہیں جنت کے خواب تھےپھولوں کے خواب...
24/02/2024

اسی موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی
ہر شہ جہاں حسین تھی ھم تم تھے اجنبی

لے کر چلے تھے ھم جنہیں جنت کے خواب تھے
پھولوں کے خواب تھے وہ محبت کے خواب تھے

لیکن کہاں ھے ان میں وہ پہلے سی دلکشی
رہتے تھے ھم حسین خیالوں کی بھیڑ میں

الجھے ھوئے ہیں آج سوالوں کی بھیڑ میں
آنے لگی ھے یاد وہ فرصت کی ہر گھڑی

شاید یہ وقت ھم سے کوئی چال چل گیا
رشتہ وفا کا اور ھی رنگوں میں ڈھل گیا

اشکوں کی چاندنی سے تھی بہتر وہ دھوپ تھی
اسی موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی

نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کرجو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دےاُسے خواب کرابھی منتشر نہ ہو اجنبی،...
07/12/2023

نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دےاُسے خواب کر

ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر

مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دوپہر پہ یہ ابر کیوں؟
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر

کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر

یہ ہُجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر

یہ جُلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست، یار، سجا اِسے
کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر۔۔۔

‏حُکم تیــــرا ھے تو تعمیــــل کیئے دیتــے ہیںزنــــدگی ہجــــر میں تحلیــــل کیئے دیتـــےتو مرے وصـــل کی خواہش پہ بگڑت...
07/12/2023

‏حُکم تیــــرا ھے تو تعمیــــل کیئے دیتــے ہیں
زنــــدگی ہجــــر میں تحلیــــل کیئے دیتـــے

تو مرے وصـــل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے
راسـتہ ہی ھے ،چلو تبدیــل کیئے دیتـے ہیں

آج سب اشکوں کو آنکھــوں کے کنارے پہ بلاؤ
آج اِس ہجـــر کـی تکمیـــــل کیئے دیتــے ہیں...

کوئی شام بٙخش دے دِسمبر کیہٙمراہ آگ تاپیں گے...............میں تُجھے شال اٙوڑھاؤں گا......تُو شانے پہ میرے سٙر رٙکھ دینا...
06/12/2023

کوئی شام بٙخش دے دِسمبر کی
ہٙمراہ آگ تاپیں گے...............
میں تُجھے شال اٙوڑھاؤں گا......
تُو شانے پہ میرے سٙر رٙکھ دینا.......
پِھر کُچھ خٙط پُرانے دورِ فِراق کے.......
مِل کہ وٙصل کے اٙلاؤ میں جھونک دیں گے
دِل سٙماجٙت پہ اُتر آیا ھے دیکھ نہ......
کوئی شام بٙخش دے دِسمبر کی......

Address

Lahore
54810

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chand Ke Paar چاند کےپار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share