New Hazara university confession

New Hazara university confession for fun and enjoyment

😂😁
09/10/2021

😂😁

Doctor SB ki Jaiz demond 😁😂
26/11/2020

Doctor SB ki Jaiz demond 😁😂

شاعر پتہ نہیں اس شعر میں کیا کہنا چاہ رہا ہے 😂😁
26/11/2020

شاعر پتہ نہیں اس شعر میں کیا کہنا چاہ رہا ہے 😂😁

For your information please read it.
12/09/2020

For your information please read it.

11/09/2020
😢
11/08/2020

😢

11/08/2020

Confession No.53SS
MALE
Hide my identity
My confession is for a boy of Pak study deprt . Second semester ,name starts with u bhtt funny hn sath mn 3 frndz hoty hn , aur girls sy chezyn mang k khaty hn 😂 if u reading this I want to tell u that I have a secret crush on u from the day I saw u . Ab uni open hony ka wait nahi kr skti isliye yahan keh rhii Hun plz plz contact me I really like u .

11/08/2020

Confession No.52Cy
Male
Male . hide my name . mera confession maths department ke aik larki k lya ha . m n usko bohat piyar kea tha lakin us Mary sath bohat burra kea. Mera ya wada ha k agar wo mujy akhri saans par mili to m usko nai chorun ga .

11/08/2020

Confession
Male
Qadeer Khan
*Copied*
السلام و علیکم!
ہم گورنمنٹ ڈگری کالج اوگی میں بی ایس انگلش کے طالبعلم ہیں۔ اگست 2019 میں یہ خوشخبری ملی کہ علاقے کے واحد کالج میں بی ایس انگلش کی کلاسز کا اجراء کردیا گیا ہے۔ خواہشمند طلباء داخلے کے حصول کیلئے درخواستیں جمع کرائیں۔ 100 سے زائد طالبعلموں نے 40 سیٹوں کیلیے اپلائی کیا اور کالج انتظامیہ نے میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے چالیس طلباء کو داخلہ دیا۔اسوقت داخلہ ملنے پر خوشی دیدنی تھی۔ ستمبر 2019 میں پہلے سمسٹر کا آغاز ہوا۔ کالج انتظامیہ، ڈیپارٹمنٹ اور اساتذہ کافی اچھے اور تعاون کرنے والے تھے۔ 2 مہینے ہم کلاسز لیتے رہے اور خود کو مڈ ٹرم(ششماہی) امتحانات کیلئے تیار کرنے لگے اور یوں ایک دن مڈ ٹرم کے امتحانات آگئے۔یونیورسٹی قاعدے کے مطابق امتحانات اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ(کالج انتظامیہ) نے لینے تھے(جس کی رو سے مڈٹرم امتحانات کے ایک مضمون کے کل 100 نمبروں میں سے 45 نمبر کالج انتظامیہ کے پاس ہوتے ہیں اور باقی 55 یونیورسٹی کے پاس ہوتے ہیں اور فائنل ٹرم کے امتحان کے نتائج میں دونوں امتحانات کے نمبر یکجا کردیئے جاتے ہیں اسطرح 100 نمبروں کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔ نوٹ:(کالج ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے ساتھ ملحق ہے)۔
40 میں سے 4 طالبعلم ذاتی وجوہات کی بناء پر امتحانات سے پہلے ہی کالج چھوڑ چکے تھے یوں پہلے سمیسٹر کے مڈ ٹرم امتحانات میں 36 طلباء نے حصہ لیا اور کالج سٹاف کی طرف سے امتحانات میں سختی کے باوجود ریزلٹ میں تمام کے تمام طلباء پاس ہوئے جن میں 15 طالبعلموں نے بہت اچھا سکور کیا۔ مڈ ٹرم کے فورا بعد فائنل ٹرم کی تیاریاں شروع کردی گئی جوکے یونیورسٹی کے زیر اہتمام ہونے تھے۔آخر کار وہ لمحہ آگیا جب یونیورسٹی نے امتحانات کا اعلان کیا اور باقاعدہ یونیورسٹی کی زیر سرپرستی اور ان کے مرتب شدہ پیپرز اور بیجھے ہوئے سٹاف کی موجودگی میں فائنل ٹرم کے امتحانات شروع ہوگئے۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے تمام طلباء نے امتحانات میں پورے جوش و خروش اور تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔ 36 میں سے ایک دو طلباء کے علاوہ تمام طالبعلموں نے بہت اچھا پرفارم کیا جس کے معترف خود یونیورسٹی کے بھیجے ہوئے سٹاف ممبران تھے۔ پیپرز یونیورسٹی کو بھیجے گئے اور ہم ریزلٹ کا انتظار کرنے لگے۔ یونیورسٹی نے اپنے طلباء کا ریزلٹ امتحانات کے دس دنوں کے اندر اندر جاری کیا جبکہ ہم سمیت تمام الحاق شدہ کالجز کو دو مہینوں سے زیادہ کا انتظار کرایا گیا۔ یوں مارچ میں اچانک یونیورسٹی نے امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا اور ریزلٹ دیکھنے کے بعد ایسے لگا جیسے ہم پر آسمان ٹوٹ گیا ہوں۔ 36 میں سے 30 بچوں کو ڈراپ کردیا گیا جس میں سے کئی بچوں کے تمام مضامین فیل کئے گئے صرف 4 بچے پروموٹ ہوئے اور دو کو پروبیشن(چانس) دیا گیا اور ان پروموٹ ہونے والے چھ بندوں کا جی پی اے 3 سے کم تھا اور نہ صرف یہ کہ ڈیپارٹمنٹ(کالج انتظامیہ) کی جانب سے مڈٹرم کے بھیجے گئے ریزلٹ کو فائنل ٹرم کی DMC میں نظر انداز کردیا گیا اور اوپر سے یونیورسٹی نے اس میں خود ساختہ نمبرز لگائے جس میں کسی کے 55 تو کسی کے 40 نمبرز بلاوجہ کاٹے گئے اور کسی کے بڑھا دیئے گئے جس سے ریزلٹ پر اور طلباء پر بہت برا اثر پڑا۔ طلباء سمیت ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس ریزلٹ پر غم و غصے کا اظہار کیا اور رزلٹ کو مسترد کردیا۔ طالبعلموں نے ڈیپارٹمنٹ سے احتجاج ریکارڈ کروایا ڈیپارٹمنٹ نے کسی اور قدم اٹھانے سے منع کیا اور یونیورسٹی کو ریزلٹ پر نظرثانی کی درخواست کی جو قبول ہوئی۔ مارچ میں ریزلٹ کے دو دنوں بعد کورونا وائرس کے پیش نظر کالج اور یونیورسٹی کو بند کردیا گیا۔ ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی انتظامیہ نے بچوں کو یقین دہانی کی کہ ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا آپ پریشان نہ ہوں۔ کورونا کی چھٹیوں کے دوران طلباء مسلسل ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ سے رابطے میں رہے اور ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ یہ جواب دیتے کہ کورونا کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہے کھلنے پر مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ہمیں اپنے اساتذہ پر پورا یقین تھا کیونکہ یہ نا صرف ہمارے ساتھ زیادتی تھی بلکے کالج اور علاقے کے ساتھ بھی بڑا ظلم تھا۔ کورونا پاکستان میں بڑھتا گیا اور یونیورسٹی نے تعلیمی سرگرمی جاری رکھنے کیلئے آن لائن کلاسز کا آغاز کردیا۔ اور ڈیپارٹمنٹ نے صرف ان 6 بچوں کو آن لائن کلاسز میں شامل کیا اور باقی طلبہ کے اس مسئلے کو نظرانداز کردیا گیا۔ توجہ دلانے پر کہا گیا کہ ہم یونیورسٹی سے رابطے میں ہیں اور پیپرز کی دوبارہ چیکنگ کی جائیگی ۔ یو مسلسل مسئلہ ہمارے توجہ دلانے کے باوجود نظرانداز ہوتا رہا اور اس دوران آن لائن کلاسز میں صرف 6 طلبہ کےکالج انتظامیہ کے زیر اہتمام دوسرے سمیسٹر کے آن لائن مڈٹرم امتحانات کا آغاز بھی ہوا اور مسئلے کو دوبارہ نظرانداز کردیا گیا۔ طلبہ نے سیاسی طور پر بھی کوششیں کی لیکن مقامی MPA اور دوسرے متعدد سیاسی رہنماوں نے مسئلے پر ٹال مٹول سے کام لیا اور کوئی خاطر خواہ دلچسپی نہیں دکھائی۔۔۔۔
ہم 3 مہینے ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی کے منتظر تھے اور وہ تھے کہ ان پر جوں تک نہ رینگی اور بالآخر ہمارے بار بار پوچھنے سے تنگ آکر کالج ڈیپارٹمنٹ(انتظامیہ) کی جانب سے حتمی جواب یہ دیا گیا کہ آپ کہیں اور داخلہ لے لیں اور یوں مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ دب گیا یا دبایا گیا۔ ہمارے ذہن میں اس کی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی یہاں پر ڈیپارٹمنٹ کو کسی صورت کامیاب نہیں کرانا چاہتی ہے کیونکہ اگر یہاں ڈیپارٹمنٹ کامیاب ہوجاتا ہے تو یونیورسٹی پر اس کا یہ اثر پڑتا کہ علاقے کے ہزاروں طلباء یونیورسٹی کی بجائے کالج میں داخلہ لیتے جس سے یونیورسٹی کو کافی نقصان ہوگا۔ یوں یونیورسٹی نے اپنی مفاد کیلیے ہزاروں طلباء کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ یونیورسٹی اپنے ادارے میں پڑھنے والے بچوں کو 3 سے اوپر جی پی اے دے دیتی ہے جن کے وہ مستحق نہیں ہوتے اور کالج کے بچے جو دن رات ایک کرکے پڑھتے ہیں اور بدلے میں ان کو یا تو فیل کردیا جاتا اور ایک آدھ اگر پاس کر بھی دیا جاتا ہے ہے تو بہت کم GPA دیا جاتا ہے کیا کالج کے طلبہ ساتھ ایسا سلوک جائز ہے؟؟؟
ہمارا سوال ہے کہ کیوں طلبہ کو اب تک بٹھایا گیا، کیوں اتنی بڑی زیادتی کی گئی، پہلے ہی سمسٹر میں 30 بچوں کو ڈراپ کر کے ان کے مستقبل کو کیوں تباہ کیا گیا، کیوں علاقے کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کی گئی؟ قومیں تعلیم سے ترقی کرتی ہیں اور اس طرح کیسے ترقی کرے گی کوئی قوم۔۔۔۔؟؟
ہم اس پلیٹ فارم پر نہیں آنا چاہتے تھے اور ہم نے 3 مہینے اس کو اگنور کیا لیکن اب نہیں کر سکتے کیونکہ نہ ہمارا ڈیپارٹمنٹ اور نہ ہی کالج انتظامیہ ہمارے لیئے سٹینڈ لے سکی اور نہ لے سکتی ہے اور نہ یونیورسٹی تعاون کر رہی ہے۔۔۔

Address

University
Mansehra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when New Hazara university confession posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share