Sad poetry Poet Usman Khan

Sad poetry Poet Usman Khan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sad poetry Poet Usman Khan, College & University, Mirpur.

03/04/2023

تم تو خدا کے بھی نا ہوئے تو کیا امید کرم رکھیں ہم تم سے

مجھے کوئی خوف نہیں ان کا ڈرتے ہو میرے یارو تم جن سے

صرف خدا سے مدد مانگو تم مددتیں مانگتے ہو کن کن سے

جو اپنے بچے پیدا نا کروا سکے کیا تم بچے مانگتے ہو ان سے

شاعر ایم عثمان

03/04/2023

ہمارے جسموں میں طاقت تو ہے مگر دماغ میں شعور نہیں ہے

یہاں سب کے سب فطرت کے بچھو ہیں کوئی مشکور نہیں ہے

سچ و حق بات کہہ دینا میرے خیال میں کوئی فتور نہیں ہے

اپنا گھر خود ہی اجھاڑا تم نے میرا کوئی قسور نہیں ہے

شاعر ایم عثمان

03/04/2023

ملک کے حالات ۔شاعرکے خیالات

لہو ہمارا نچوڑ کہ پی رہے ہیں چند درندے مفت شراب کی طرح ۔ہم بھی سب کے سب زندہ داخل شہر خاموشاں ہوئے مردہ جناب کی طرح

یہاں پہ فیصلے ترازو پہ ہوتے ہیں جو پلا بھاری ہو حق اسی کا ہے قانون ہے یہاں کا الماری میں رکھی ہوئی بند کتاب کی طرح

بتاؤ یہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا۔اگر مزید بھی ایسے ہی ظالم رہے تو یہ زلزلے کیا ہیں برسنے ہیں پتھر ہم پر سمود و ہاد کی طرح

ہمارے لہو سے تالاب بنا کہ اپنی کشتیاں چلاتے ہیں یہ مفت آب کی طرح اٹھو زرا ان کو اپنی آغوش میں لیں باغضب سیلاب کی طرح

غلامی کی زہر ہم سب کے خوں میں ملا دی ہے دشمن نے مانتے ہیں سب کے سب ہر حکم مغرب کا خدا کے ارشاد کی طرح

راہبر قرآن تھا ہمارا مقصود خدا پہ ایمان تھا ہمارا با وقار و با مراد تھے ہم ۔ کیا ہمیں رسوا اک احمق و نامراد کی طرح

کیسے نا کہوں کیوں نا کہوں حق بات ۔تم وقت کے فرعون ہو بے حس و بے ضمیر ہو اگر تم عادل ہو بھی تو قارون و شداد کی طرح۔
شاعر ۔ ایم عثمان

09/02/2023

آج میں کچھ لکھتا ہوں حقیقت کے نام

کہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کیا ہے پاکستان

ہمارا بوڑا ہے بچہ ہے یا جوان

وہ کیسے بنتا ہے انگریز کا غلام

اور کیسے مانتا ہے مغرب کا ہر فرمان

چاہے وہ ہے عوام یا ملک کا حکمران

کوئی عادل ہے یا سلطان

سب ہیں انگریز کے غلام

گوروں کا حکم کہ بچہ ہو گا ماں پیٹ میں تو اس کو وہیں غلامی کے انجکشن لگوانے ہیں

آنکھ کھولے دنیا میں تو پولیو کے نام پہ کچھ قطرے پلوانے ہیں

دو برس کو پہنچے تو اس کے ہاتھ میں کرکٹ کا گیند اور بلا تمامے ہیں

اس کو اس کی کامیابی کے منزل کے خواب کرکٹ کے نام پہ اس کے ذہن میں بٹھانے ہیں

جب جوانی پہنچے تو اس کو فلمیں دکھا دکھا کے بتانا ہے کہ تیری رگ رگ میں عشق معشوقی کے خزانے ہیں

یونیورسٹوں میں یہ سکھانا ہے کہ تم نے اپنے ہی بھائیوں خون نچوڑ کہ اپنے لیئے کاریں اور بنگلے کیسے بنانے ہیں

فطرت میں یہی بھی میری بھائیوں کی اپنے مسلمانوں خون چوس لے مگر اپنے لیئے محل برطانیہ میں بنانے ہیں

یہاں مخلصوں کی کمی ہے مطلب کا زمانہ ہے

زرہ سوچو یارو ہم نے اس ملک کو کیسے بچانا ہے

کان کھول کہ سنو آج مینے تمہیں کچھ بتانا ہے

ہمیں کونسا علم انگریز سے چاہئے ہمارے پاس تو قرآن ہے علم عالم جہان ہے

آئنسٹائن کیا چیز ہے ہمارا راہبر تو رحمان ہے

غفلت کے نیند چھوڑو خود کو زرہ جھنجھوڑو

ظلم کی زنجیر توڑو کشتی کو منزل کی طرف موڑو

ووٹوں کی ذلت کو چھوڑو

آؤ ملکر اس ملک کو بچاتے ہیں
جو خدا کا ہو اس کو ملکر لیڈر بناتے ہیں
اور انصاف کا قانون بناتے ہیں

مزدور اور حکمران برابر ہو
ملک تمام مصنوعات کا پیداور ہو

غلامی کی زنجیر ٹوٹ جائے
غداروں کی غداری پھوٹ جائے

کمی کونسی ہے اس ملک میں مجھے آج بتاؤ زرہ

خدا راہ ووٹوں کی آپس کی جنگ کو چھوڑو
اس ملک کے ہونے والے ٹکڑوں کے جوڑو

تمام تحریکوں کو راہ سے ہٹاتے ہیں
اور عمر کے قانون کو اپناتے ہیں
راہبر قرآن کو بناتے ہیں
سب ملکر تحریک عمر بناتے ہیں
لیڈر ایک مسلمان کو بناتے ہیں
آؤ سب ملکر اس پاکستان کو بچاتے ہیں


تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہیکہ اس پیج کو فالو کیجئے
ہم انشاء اللہ تحریک عمر فاروق بناتے ہیں

جو لوگ چاہتے ہیں کہ تحریک عمر فاروق بنے وہ اس پوسٹ کو شیئر کریں پیج کو فالو کریں اور کمنٹ میں بتائیں کے ہم نے عمر کے قانون کو اپنا ہے ۔


میری تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو بتائیے
شکریہ

یہ تیری حسرتیں سدا تمنا ہی رہیں گی وہ کہنے والیاں تجھے بھی برا کہیں گی اے لا علم  یہ کیا رونا ہے   اب تو اشقوں کی قطاریں...
09/02/2023

یہ تیری حسرتیں سدا تمنا ہی رہیں گی

وہ کہنے والیاں تجھے بھی برا کہیں گی

اے لا علم یہ کیا رونا ہے اب تو اشقوں کی قطاریں بہیں گی

جب تجھے ہوش آیا تو میرا حال تجھے میری کتابیں کہیں گی

ایم عثمان

پیج کو لائک کیجئے فالو کیجئے ۔ شکریہ
31/01/2023

پیج کو لائک کیجئے فالو کیجئے ۔ شکریہ

پیج کو فالو کیجئے
29/01/2023

پیج کو فالو کیجئے

آج من چاہتا ہے سامنے تمہارے رکھوں  چند الفاظ اس کے نام جو کرواتا ہے بحر کفر کی تاریکیوں میں اسلام کی پہچان بن چراغ  تو م...
28/01/2023

آج من چاہتا ہے سامنے تمہارے رکھوں چند الفاظ اس کے نام

جو کرواتا ہے بحر کفر کی تاریکیوں میں اسلام کی پہچان

بن چراغ تو منزل تک نہیں پہنچ سکتا آندھی و تاریک شب میں صحرہ سے ہے اگر تو انسان

فرمایا رب نے 14 صدیوں پہلے , العلما وراثت الانبیاء ۔ہر حال میں اس آیت کو مان ہے اگر تو مسلمان

ہر لمحہ کھڑا ہے سرحد دین پر تان کہ سینہ ۔مقابل ہے جو آتا ہے اسلام کی طرف آندھی اور طوفان

انگریز پتلون پہن کر اور سیاست کا لبادہ اور غفلت کی چادر اوڑھ کر بن گیا ہے تو دشمن اسلام

یونیورسٹوں میں انگریز تو بن گا مگر نا قرآن پڑھا نا خدیث پڑھی نا سوچا نا سمجھا بس لگا لیا الزام

میری قلم بھی کانپ جاتی ہے میری سمجھ سے بالا تر ہے میں نا سمجھ سکا کہ تو کیسا ہے مسلمان

کفر کی آگ کا صحرہ ہے اور اس آگ کے صحرہ میں اسلام کا پرچم لہراتا ہے اک پہلوان جس نام ہے مولانا فضل الرحمان

وہ کچھ نہیں مانگتا تم سے اگر طلب ہے تم کو جنت کی تو اس کے قدموں میں بیٹھو اور کرو اس کا احترام

یہ علماء نا ہوتے ہندوستان آزاد نا ہوتا انگریز سے اور نا ہی بنتا یہ ہمارا پیارا پاکستان

علماء کے خون کی ندیوں سے ملا ہے تم کو رب کی طرف سے یہ انعام

تاریخ اٹھاؤ پڑھو زرہ اوراک تاریخ کہ بن سمجھے نا بنو یوں ہی نادان

تمہاری انگلیوں اٹھانے سے اور دھمکیوں سے گر نا جائے گا آسمان

گالیاں دیتے ہو دیتے رہو مگر آج یہ کہہ دوں تمہیں۔ اک روز آئے مخشر کا میدان

نا اس کو دولت کی تمنا ہے نا اس کو جان کی پروہ ہے بس چاہتا کسی صورت بچ جائے اسلام

تم جیسا چھور لٹیرا نہیں وہ اس کے سینے میں ہے علم قرآن ہے وہ سوچتا ہے تمہارا بھلا اے عوام

جب انگلیاں اٹھتی ہیں دشمانان دین کی نبی و صحابہ و اسلام پر تو سب سے پہلے یہی نظر آتا ہے برسرے میدان

آندھیاں آتی ہیں گرانے کو تحت مگر انہیں آندھیوں پہ اڑھ جاتا ہے اس کا تحت جیسے کہ تحت سلیمان

آؤ آج سب ملکر نعرہ لگائیں ہم سب ہیں مسلمان اور قائد ہے ہمارا فضل الرحمان

آج کا بس یہی تھا میرا آپ لوگوں کو پیغام

بس زندگی رہی تو اور باتیں پھر کبھی کہوں گا وسلام


شاعر عثمان

آج لکھتا ہوں اپنی بیٹی کے نام اک  پیغام اے بیٹی تو نے صرف چند دن کی زندگی میرے ساتھ گزاری پھر عمر بھر کیلئے جدائی کی تقد...
28/01/2023

آج لکھتا ہوں اپنی بیٹی کے نام اک پیغام

اے بیٹی تو نے صرف چند دن کی زندگی میرے ساتھ گزاری پھر عمر بھر کیلئے جدائی کی تقدیر بن گئی ہو تم

وہ منکر جہالت کی انا مجھ سے جدا ہوئے اور بے وجہ دیکھنا نا چاہتے تھے مجھے مگر سامنے ان کے سدا میری تصویر بن گئی ہو تم

جب سے تو گئی ہے تیرے جانے کے غم سے میری آنکھوں نے اشقوں کے دریا اگلے ہیں اس آب کے ثمر سے آج کے تحریر بن گئی ہو تم

ہمدرد تھا اس کا میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مگر اس منکر نے میرے دل پہ وار کیا اس وار کی شمشیر بن گئی ہو تم

دیکھنے والے کیا جانیں بظاہر تو میں آزاد ہوں مگر حقیقت میں میرے گلے زنجیر بن گئی ہو تم

کوئی جنگ نا تھی کوئی اخلاف نا تھا بس میں خاموش تھا کوئی بات نا تھی مگر آج مسلہ کشمیر بن گئی ہو تم

چلتا پھرتا بن سوئے خوابیں دیکھتا ہوں اور ان جھوٹی خوابوں کی تعبیر بن گئی ہو تم

اے بیٹی تیری راہوں پہ نگاہیں رکھ کہ منتظر ہوں تا وفات سچ بتاؤں تو ہاتھوں کی لکیر بن گئی ہو تم

دو ٹوک چند الفظ کہنے تھے آج مگر پوری تقریر بن گئی ہو تم

میری شرافت کی انتہا تھی مگر آج مجھ پہ تنقید بن گئی ہو تم



عثمان

یہ مت سوچو کہ چاہتا ہو گا کہ جکے میرے سامنے نا ایسا ہوں نا دل ہے ایسا مگر کون پہچانے مجرم ہوتا تب کے کوئی آیا ہوتا منانے...
23/01/2023

یہ مت سوچو کہ چاہتا ہو گا کہ جکے میرے سامنے

نا ایسا ہوں نا دل ہے ایسا مگر کون پہچانے

مجرم ہوتا تب کے کوئی آیا ہوتا منانے

خیراں ہوں کیا جرم تھا میرا ناجانے

رہنا نہیں تھا تو کیوں آئے تھے میری زندگی کو ستانے

کرو یاد آج زرا میرے ساتھ گزرے ہوئے سمے اور زمانے

مخفی کیوں رکھتے ہو حقیقت دل میں ۔کیوں دلواتے ہو مجھ کو طعنے

تجاوز نا کرو اس سے کہ جو انسانیت کے ہیں پیمانے

آج جو کہتے ہیں تجھے کرو یہ بہانے

یہ نا آئیں محشر میں تجھے بخشوانے

جدائی منتحب کرتے ہو ۔ عثمان نا آئے گا میت بھی اٹھانے

کر کوئی حق کی بات کیسے ممکن ہے کہ عثمان نا مانے

کبھی آئے ہو تم اس بیچارے کا پتہ لگانے

آتے ہیں محسن تیرے ۔سامنے میرے ۔ تجھے طلاق دلوانے

اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں نہیں چاہتے تیرے مستقبل کو بچانے

کیا فیصلہ کر لیا ہے تم نے کہ تیر میرے جگر پر ہی ہیں چلانے

کیوں اتر گئے ہو دشمنی پر میرا خون بہانے

چاہتے ہو تم کیا مجھے زہر کا گونٹ پلانے

تم آئے عدالت میں مجھے عدالت میں نچانے

مینے کردار کیا حالات رکھے سب تیرے سامنے

تیرے ہی قاضی نے کہا تجھے سب تیرے ہاتھ میں ہے

اگر تو چاہے اپنے مستقبل کو بچانے

قاضی نے سمجھایا بہت مگر کون آتا تجھے سمجھانے

یہاں تک اس نے کہا جنت میں جانا ہے یا جہنم میں

جہنم میں جانا ہےتو نے یہ فرمایا

یہ سن کہ قاضی بھی شرمایا

شاعر عثمان

Address

Mirpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sad poetry Poet Usman Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share