Jamia Umar Bin Al Khattab Multan جامعہ عمربن الخطاب ملتان

  • Home
  • Pakistan
  • Multan
  • Jamia Umar Bin Al Khattab Multan جامعہ عمربن الخطاب ملتان
Call Directions Website Contact the university

Jamia Umar Bin Al Khattab Multan جامعہ عمربن الخطاب ملتان Jamia is a religious organization that has been spreading the beautiful message of Islam since 1994.

27/10/2026
22/10/2026

یہ تحریر کاپی پیسٹ ہے لیکن بہت سارے اعتراضات کا حل بھی ہے اور ضد کا کوئی علاج نہی ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ جسکے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسی دین کی سمجھ بھی عطا فرماتے ہیں۔
خیر یہ تحریر سمجھ کی نیت سے پڑھیں 👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻

استاذ الاساتذہ محققِ اہلسنت مصنفِ کتبِ کثیرہ مولانا ابو ایوب قادری صاحب اور مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کے درمیان واٹسپ گروپ میں ہونے والے مکالمے کا خلاصہ

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا،
جو چیرا تو ایک قطرۂ خوں بھی نہ نکلا!

گزشتہ کئی دنوں سے احباب کی کوشش تھی کہ مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کو حضرت مولانا ابو ایوب قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ علمی گفتگو کے لیے آمادہ کیا جائے، ظاہر ہے کہ کسی بھی علمی مسئلے کا حل یہ نہیں کہ اسے اسٹیجوں پر اچھالا جائے، عوامی محافل میں اس پر شور برپا کیا جائے اور سوشل میڈیا پر بحث و تکرار کا بازار گرم رکھا جائے، بلکہ اصل حل یہ ہے کہ اہلِ علم باہم بیٹھیں، اپنے اپنے دلائل پیش کریں اور علمی اصولوں کی روشنی میں گفتگو کریں، تاکہ حقیقت واضح ہو اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔
بالآخر گزشتہ کل بروزِ منگل بڑی مشکل سے، منت سماجت کے بعد، مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کو ایک واٹس ایپ گروپ میں گفتگو کے لیے لایا گیا۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مفتی صاحب بالمشافہ نشست کے لیے کسی صورت آمادہ نہیں تھے، چنانچہ احباب نے یہی غنیمت جانا کہ چلیے، اگر روبرو بیٹھ کر گفتگو نہیں ہوسکتی تو کم از کم واٹس ایپ گروپ ہی میں علمی تبادلۂ خیال ہوجائے۔
لیکن افسوس! جب گفتگو کا آغاز ہوا تو مفتی صاحب کا اندازِ گفتگو، ان کی شرطیں اور ان کا طرزِ عمل دیکھ کر کم از کم مجھے تو یہ محسوس نہ ہوا کہ وہ کسی سنجیدہ علمی مذاکرے کے لیے آمادہ ہیں۔ ان شاء اللہ، اس گفتگو کی تفصیلات اور متعلقہ اقتباسات مناسب موقع پر اہلِ علم کے سامنے پیش کیے جائیں گے، تاکہ قارئین خود بھی صورتِ حال کا جائزہ لے سکیں۔
حضرت مولانا ابو ایوب قادری صاحب نے بڑی کوشش فرمائی کہ کسی طرح گفتگو کو اصل موضوع پر لایا جائے اور دلائل کی بنیاد پر بات آگے بڑھے، لیکن مفتی صاحب کی طرف سے بار بار ایک ہی شرط دہرائی جاتی رہی۔ اور بالآخر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ جب تک میری یہ شرط پوری نہیں ہوگی، وہ گفتگو نہیں کریں گے،اور یہاں تک کہا کہ اس گروپ میں آنا بھی میرا احسان سمجھا جائے۔
شرط یہ تھی کہ مولانا اللہ وسایا صاحب سے لکھوا کر لایا جائے کہ حضرت مولانا ابو ایوب قادری صاحب، مولانا اللہ وسایا صاحب کے نائب ہیں!
یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ مولانا ابو ایوب قادری صاحب ہر اعتبار سے قریشی صاحب سے سینئر ہے اور غالباً قریشی صاحب کے استاذ بھی رہ چکے ہیں ۔
جب قریشی صاحب نے یہ بے جا شرط رکھی تو مولانا ابو ایوب قادری صاحب نے نہایت خوبصورت بات ارشاد فرمائی۔ انہوں نے مفتی صاحب کو ان کے سابقہ طرزِ عمل کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ انجینئر مرزا کو مناظرے کا چیلنج دیتے تھے اور وہ آپ سے مطالبہ کرتا تھا کہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے لکھوا کر لائیں، تو آپ اسے یہی جواب دیتے تھے کہ دنیا کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ مناظرے کے لیے کسی بڑے سے لکھوا کر لانا ضروری ہے؟
آپ خود انجینئر مرزا سے یہی کہتے رہے کہ یہ محض بہانے ہیں، جو مناظرے سے راہِ فرار تلاش کرنے کے لیے اختیار کیے جاتے ہیں ۔
تو مفتی قریشی صاحب! آج جب آپ خود یہی شرط عائد کر رہے ہیں تو پھر آپ کے سابقہ اصول کہاں گئے؟ دوسروں کے لیے بہانہ اور اپنے لیے شرط ، آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟
کیا یہ علمی گفتگو سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے بہانہ نہیں؟
یہاں ایک دلچسپ بات عرض کر دوں : چند روز قبل مفتی قریشی صاحب کی ایک ویڈیو خاصی وائرل ہوئی، جس میں قریشی صاحب نے فرمایا تھا کہ ان پر تل ابیب سے جادو کا اثر ہوگیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مفتی صاحب پر انجینئر مرزا کا اثر ہوگیا ہے ۔ جہلم اکیڈمی کا اثر ہوگیا ہے ، ورنہ جو اصول وہ کل دوسروں کو سمجھاتے تھے، آج خود ان سے انحراف کیوں کر رہے ہیں؟
حضرت مولانا ابو ایوب قادری صاحب نے دوسری بات یہ فرمائی کہ دیکھیے مفتی صاحب! ہم مولانا اللہ وسایا صاحب کی ذات کا دفاع نہیں کر رہے، بلکہ ان اکابرِ اہلِ سنت کی کتب اور علمی مواد کا دفاع کر رہے ہیں جنہیں احتسابِ ناصبیت میں مرتب کیا گیا ہے۔
اور آپ نے عوامی اسٹیج پر صریح غلط بیانی کرکے عام مسلمانوں کے سامنے ان اکابر کی ایسی تصویر پیش کی گویا کہ وہ سب اکابر گستاخِ صحابہ تھے العیاذ باللہ، اس کا نقصان یہ ہوا کہ دینی علم سے ناواقف اور جذبات سے مغلوب بعض لوگ ان اکابر کو گستاخِ صحابہ سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ جملہ بھی سننے کو ملے کہ ہمارے اکابر تو کوئی ہیں ہی نہیں، ہمارے اکابر صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں!
سوال یہ ہے کہ ان اکابر کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقابل کھڑا کرنے کی نوبت آخر کیوں آئی؟ کیا کسی عبارت پر علمی نقد کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے مصنفین اور ناقلین کے بارے میں ایسی فضا بنا دی جائے کہ عوام انہیں گستاخِ صحابہ سمجھنے لگیں؟
ہماری گزارش بالکل واضح ہے: ہم ان اکابر کی عبارات کا دفاع کر رہے ہیں، ان کی علمی توضیح پیش کر رہے ہیں اور ان پر کیے گئے اعتراضات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اگر کسی عبارت پر اشکال ہے تو اسے علمی اصولوں کے مطابق زیرِ بحث لایا جائے، اس کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے، اس کے ماخذ کی تحقیق کی جائے اور پھر دلیل کی بنیاد پر بات کی جائے۔ محض جذباتی نعروں سے نہ علمی مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ اہلِ علم کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔
لیکن افسوس کہ مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کسی بھی صورت اصل موضوع پر گفتگو شروع کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ بار بار اسی مذکورہ شرط پر اصرار ہوتا رہا، اور گفتگو کا انداز بھی ایسا تھا کہ سنجیدہ آدمی سے اس کی امید نہیں کی جاسکتی ۔
واٹس ایپ گروپ میں بہت سارے جید اور صاحبِ علم علماء موجود تھے۔ جب حضرت مولانا ابو ایوب قادری صاحب نے محسوس کیا کہ مفتی صاحب اپنی شرط سے آگے بڑھ کر اصل موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہو رہے، تو خود ہی گفتگو کا آغاز فرمایا۔ مفتی قریشی صاحب کے سابقہ اعتراضات کو نقل کرنا شروع کیا ، اور ان پر علمی انداز میں گفتگو شروع کی ۔ ان کے اعتراضات کی تحقیقی حیثیت اور ان کے لازمی نتائج پر بھی روشنی ڈالنی شروع کی ۔
ساتھ ساتھ مولانا ابو ایوب قادری صاحب، مفتی قریشی صاحب کے سامنے ان کی اپنی تصانیف کے تناظر میں بھی سوالات رکھتے گئے، تاکہ گفتگو محض یک طرفہ اعتراضات تک محدود نہ رہے، بلکہ دونوں جانب کے علمی موقف کا جائزہ لیا جاسکے۔
جوں جوں گفتگو آگے بڑھی اور سوالات سامنے آتے گئے، قادری صاحب نے ان کے سامنے تقریباً آٹھ سوال رکھے مگر قریشی صاحب سوائے تکبرانہ گفتگو کے ایک اعتراض کا بھی جواب نہ دے سکے ۔ اور بالآخر ان اعتراضات کا قرضہ اپنے سر لے کر راہ فرار اختیار کرنے ہی میں عافیت سمجھی ۔
اب بھی حضرت مولانا ابو ایوب قادری صاحب کے یہ آٹھ نو سوالات مفتی قریشی صاحب کے جواب کے منتظر ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مفتی صاحب ان سوالات کے جوابات علمی دیانت کے ساتھ عنایت فرمائیں گے، اگر قریشی صاحب کے پاس اپنے موقف کے حق میں دلائل موجود ہیں تو انہیں علمی انداز میں پیش کرنے کی درخواست ہے ۔ اور مقروض رہنا اچھی صفت نہیں، اس لیے گزارش ہے کہ ابو ایوب قادری صاحب کے سوالات کے جوابات دیں گے ۔
اور اگر علمی گفتگو کی ہمت نہیں تو خدارا، سوشل میڈیا، فیس بک اور یوٹیوب پر شہرت کے حصول کی خاطر عام مسلمانوں کے جذبات سے ایسا معاملہ نہ کیجیے کہ وہ علمی حقائق سے بے خبر رہ کر اکابرِ اہلِ سنت کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہوجائیں اور اہلِ علم کے مابین مزید غلط فہمیاں جنم لیں۔
واللہ الموفق۔

20/10/2026

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی جانب سے صوبہ پنجاب کے تمام مدارس، جامعات، مکاتبِ قرآنیہ اور مدارسِ بنات کے مہتممین کا ایک عظیم الشان اصلاحی و تربیتی اجتماع جامعہ دارالقرآن فیصل آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔
اسی سلسلہ میں مدارس و جامعات ملتان کے مہتممین بنین و بنات کو 22 اکتوبر بروز جمعرات بعد نماز ظھر جامعہ عمربن الخطاب ملتان میں جمع کیاگیاہے
تمام مہتمم حضرات سے گزارش ہے کہ بروقت جامعہ میں تشریف لائیں اور جامعہ کے منتظمین کو ممنون ہونے کاموقع عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو مدارس کی اصلاح، ترقی، اتحاد اور خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین
منجانب! مولانا محمد وقاص کریم صاحب مہتمم جامعہ عمربن الخطاب ملتان

20/10/2026
24/09/2026

الحمدللہ! جامعہ عمربن الخطاب ملتان کیلئے ایک بڑا اعزاز
جامعہ کے ہونہار درجہ سادسہ کا طالبعلم محمدیوسف بن محمداسلم نے
انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ملتان بورڈ سے پہلی پوزیشن حاصل کرکے
جامعہ اور والدین و اساتذہ کا نام روشن کیاہے
اس موقع پر جامعہ کی طرف سے طالبعلم اور اسکے والدین ، اساتذہ کو دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ محمدیوسف کو دین و دنیامیں مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین
عنقریب پوزیشن ہولڈر طالبعلم کا انٹرویو بھی نشر کیاجائے گا۔ ان شاءاللہ
اسی طرح جامعہ اور جامعہ کے متعلقین ،محبین، متوسلین، بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ جامعہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطافرمائے۔ آمین
والسلام
محمدمُعاذ کریم جامعہ عمربن الخطاب ملتان
شیئر بھی کریں۔ جزاکم اللہ خیرا

Address

T Chowk Shah Rukne Alam Colony
Multan
66000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Umar Bin Al Khattab Multan جامعہ عمربن الخطاب ملتان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Jamia Umar Bin Al Khattab Multan جامعہ عمربن الخطاب ملتان:

Shortcuts

Share