Urdu Department Emerson University Multan

Urdu Department Emerson University Multan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Department Emerson University Multan, College & University, Bosan Road, Multan, Multan.

01/07/2025

ایمرسن یونیورسٹی ملتان، داخلے کی تاریخ 21 جولائی تک بڑھا دی گئی ہے،
admissions.eum.edu.pk

03/06/2025

شعبہ اردو ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں داخلے جاری ہیں
●بی ایس
●ایم فل

05/05/2025
کالم:شاکر حسین شاکر روزنامہ خبریں(23 اپریل 2025)23 اپریل کو  پوری دنیا میں کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ماضی قریب می...
23/04/2025

کالم:شاکر حسین شاکر
روزنامہ خبریں(23 اپریل 2025)

23 اپریل کو پوری دنیا میں کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ماضی قریب میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی طرف سے اسلام آباد میں شاندار کتاب میلہ منعقد کیا جاتا تھا۔حکومتوں کی تبدیلی اور کتاب سے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے وہ میلہ اب صرف یادوں میں باقی رہ گیا ہے۔حکومت اگر اب بھی مظہرالاسلام ، ڈاکٹر انعام الحق جاوید اورسینٹر عرفان صدیقی کو یہ ذمہ داری سونپ دیں۔کہ علم و ادب سے وابستہ یہ اصحاب دوبارہ سے کتاب میلے کا انعقاد کریں۔تو معاشرے میں کتاب کا دوبارہ احیاءہو سکتا ہے۔چونکہ حکومت کی ترجیحات میں فی الحال جہالت کا خاتمہ نہیں ہے۔اس لیے کتاب میلہ بھی دور دور تک ہمیں ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
ملتان میں بھی گزشتہ کئی برسوں سے کتابوں کے عالمی دن پر کوئی تقریب منعقد نہیں ہو رہی تھی۔البتہ 22 اپریل 2025 کو ایمرسن یونیورسٹی ملتان نےاس دن کے حوالے سے کتابوں کی نمائش اور سیمینار کا انعقادکیا۔کتابوں کی نمائش میں جس طرح کی کتابیں رکھی گئیں۔ ان کا معیار دیکھ کر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے۔آج کا نوجوان ان کتابوں کو دیکھ کر کتاب سے اور دور ہو جائے گا۔اس کا قصور وار کون ہے؟
آج کی پوسٹ میں یہ بحث ممکن نہیں
البتہ احباب کو یہ بتانا مقصود ہے،ایمرسن یونیورسٹی شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر سجاد نعیم نے کتابوں کے عالمی دن کے حوالے سے ایسے سیمینار کا انعقاد کیا۔جس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان نے کی۔جبکہ مہمانان خصوصی کے طور پروفیسر نعیم مسعود ،ڈاکٹر ام کلثوم اور ڈاکٹر شازیہ انجم موجود تھے۔
کتابوں کے عالمی دن کے موقع پر خطاب کرنے والوں میں جمشید رضوانی، شوکت اشفاق، ڈاکٹر امجد بخاری اور پروفیسر نسیم شاہد شامل تھے۔تمام مقررین نے کتاب کی اہمیت پر بڑی پرمغز گفتگو کی۔
کتابوں کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی یہ تقریب اس اعتبار سے منفرد رہی،ملتان کے سینکڑوں تعلیمی اداروں میں صرف ایمرسن یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ۔جس نے کتابوں کا عالمی دن منایا۔اس موقع پر طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام نے کتنی کتابیں خریدی؟
یہ حساب کتاب ہم نے نہیں کرنا،
البتہ میرا خیال ہے کہ آج کے دن کینٹین پر سموسے، کولڈ ڈرنک،چپس، چائے ،جوس اور دیگر اشیاء معمول کے مطابق فروخت ہوئی ہوں گی ۔ کتابوں والوں نے عالمی دن پر کیا کھٹیا وٹیا ؟یہ ہمارا معاملہ نہیں ۔البتہ اس دن ہمارے پیارے دوست ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا اپنی کتاب کے ساتھ اکادمی ادبیات پاکستان کے سٹال پر موجود تھے۔جبکہ منشورالقرآن کے مرتب عبدالحکیم ملک نے بھی اس تقریب اور نمائش کو رونق بخشی۔اس طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد ہر تعلیمی ادارے میں ہونا چاہیے۔چونکہ کتاب ہماری ترجیحات میں نہیں اس لیے کتابوں کے عالمی دن کے موقع پر کتاب لکھنے والوں، کتاب چھاپنے والوں، کتاب پڑھنے والوں اور کتاب فروخت کرنے والوں نے بھی اس دن کو اہمیت نہیں دی۔ایسی صورت میں کتاب کا معاشرے سے غائب ہو جانا کچھ عجب نہیں۔ایسی صورت میں کتاب کی موت کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کتاب سانس لیتی رہے۔دو مہینے میں ایک کتاب اپنے لیے اور ایک کتاب بچوں کے لیے لازمی خریدیں۔اگر آپ یہ کام کر سکتے ہیں تو پھر دیکھیے گا۔ آپ کا بچہ دوسروں سے ممتاز ہو جائے گا۔
مجھے یاد ہے کتابوں ہے۔ جب اسلام آباد میں کتاب میلے کا انعقاد ہوتا تھا۔تب کتاب لکھنے والوں کے بڑے بڑے ہولڈنگ آویزاں کیے جاتے تھے۔ان کو اعزازات سے نوازا جاتا۔صدر پاکستان کی جانب سے تمام مندومین کے اعزاز میں ڈنر کا ایک پروگرام بھی رکھا جاتا۔جس میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ،سینٹر عرفان صدیقی اور صدر مملکت اظہار خیال کرتے۔ پورے پاکستان سے پبلشرزاپنی کتابوں کے سٹال لگاتے۔کتاب میلے کے دوران کروڑوں روپے کی کتابیں فروخت ہوتی۔ہزاروں لوگ صبح سے لے کر شام تک مختلف سیشنز میں موجود رہتے۔اپنے پسندیدہ قلم کاروں کے ساتھ تصاویر بنواتے، ان کی کتابوں پر اٹوگراف لینے کا سیشن کے علاوہ ہر شعبے کے نامور افراد بھی کتاب میلے میں شریک ہو کر اس کو چار چاند لگا دیتے۔
یہ میں کوئی پرانی بات نہیں کر رہا۔یہ سلسلہ عمران خان کے دور میں بند ہوا،اور ابھی ابھی تک بند چل رہا ہے۔اس وقت اکادمی ادبیات پاکستان اور نیشنل بک فاؤنڈیشن جو سربراہ ہیں۔ان میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ مل کر ایک مرتبہ پھر کتاب میلے کا اجراء کر سکتے ہیں۔
پوری دنیا میں کتابوں کے عالمی دن کا منانے کا مقصد دُنیا کو آگاہی دینا ہے۔ ویسے تو دُنیا کے اکثر ممالک میں کتابوں کا عالمی دن 23 اپریل کو منایا جاتا ہے لیکن امریکہ اور برطانیہ میں کتابوں کا عالمی دن 4 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز کچھ یوں ہوا ۔ 1616 میں سپین کے شمال مشرق میں واقع کیٹولینیا میں ہر سال 23 اپریل کو جہاں کے مرد اپنی پیاری خواتین اور لڑکیوں کو گلاب کے پھول دیتے تھے اور اس روایت میں دنیا بھر سے خاص طور یورپ سے لاکھوں کی تعداد میں خواتین و حضرات اور لڑکے لڑکیاں کیٹولینیا جاتے۔ یہ سلسلہ دو دن جاری رہتا ہے اس دوران جگہ جگہ مشہور ناول ڈان کیہوٹی کے حصے، شیکسپئر کے ڈرامے اور دوسرے مصنفیں کی کتب کے اقتباسات پڑھے جاتے۔
اس کے بعد یہ رسم سپین کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلتی چلی گئی اور آہستہ آہستہ یہ روایت عالمی کتاب دن کی شکل اختیار کر گئی۔ اب کیٹولینیا میں ہر سال صرف گلاب ہی نہیں بلکہ کتابیں بھی ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔اس رجحان کو دیکھتے ہوئے 1995 میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جنرل کونسل کا فرانس میں اجلاس ہوا تو اس نے تئیس اپریل کو"
ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹس ڈے "
قرار دے دیا اور اب یہ دن کتابوں اور جملہ حقوق کی حفاظت کے عالمی دن کے طور پر دُنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں منایا جاتا ہے۔
اس میں ایک اور اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ رواں صدی کے آغاز سے کسی ایک شہر کو کتابوں کا عالمی دارالحکومت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ دوہزار ایک کا میڈرڈ تھا، پھر بالترتیب سکندریہ، نئی دہلی، اینٹ روپ، مونٹریال، ٹورِن، بگوٹہ، ایمسٹرڈم اور بیروت دارالحکومت قرار دیے گئے۔ برطانیہ نے اس دن کے لیے مارچ کی پہلی جمعرات کا انتخاب کیا اور اسے سکولوں کے بچوں میں کتابیں خریدنے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں کتب بینی کی جو صورتحال ہے۔اس کے بعد سال میں ایک مرتبہ کتاب کا عالمی دن منانے کی بجائے ہر ماہ کتاب کا ایک ہفتہ منایا جائے۔تاکہ کتاب سے دوری نے معاشرے پر جو بد اثرات مرتب کیے ہیں وہ آہستہ آہستہ ختم ہوں۔ حکومتی سطح پر ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو تحائف میں کتاب لازمی دی جائے۔
تعلیمی اداروں میں شیلڈ اور ٹرافی کی بجائے کتاب کا تحفہ دیا جائے۔نصابی کتابوں کے علاوہ غیر نصابی کتب کے فروغ کے لیے کتابیں سستی کی جائیں۔یونین کونسل کی طرز پر آنا لائبریری کی طرزمنی لائبریری بنائی جائے۔تاکہ لوگوں میں کتاب پڑھنے کا شوق دوبارہ پیدا ہو جائے۔
ملتان میں اس سلسلے کی ایک شاندار مثال ڈاکٹر محمد ارشد حسین راں کی ہے۔ یہ پیشے کے اعتبار سے معروف سرجن ہیں۔ لیکن انہوں نے قادرپور راں میں ایک لائبریری قائم کی ہے۔جس میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ خواتین کے رسائل کے علاوہ اخبارات موجود ہوتے ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ یہ لائبریری مزید وسیع کی جائے۔اس کے لیے وہ دوستوں کا تعاون چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس فالتو کتاب موجود ہے تو ان کی لائبریری کو عطیہ کر دی جائیں۔میرے ملک کو ڈاکٹر ارشد حسین جیسے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔جو لوگوں کو کتاب کی طرف راغب کر رہے ہیں۔اور اس کے صلہ میں شہر والوں سے وہ کتابیں مانگ رہے ہیں جو آپ کے گھر میں بیکار رکھی ہیں۔

عید کیسی گزری!شعبہ اردو ایمرسن یونیورسٹی کی خواتین اساتذہ ایمرسن سٹوڈیو میں میزبان: ڈاکٹر سامیہ کومل گفتگو: ڈاکٹر شمیم م...
03/04/2025

عید کیسی گزری!
شعبہ اردو ایمرسن یونیورسٹی کی خواتین اساتذہ ایمرسن سٹوڈیو میں
میزبان: ڈاکٹر سامیہ کومل
گفتگو: ڈاکٹر شمیم منیر،بشری بلال، حافظہ کہکشاں علی
●یہ پروگرام جلد اپلوڈ کیا جائے گا

عبداللطیف قمر کے شکریے کے ساتھ
22/03/2025

عبداللطیف قمر کے شکریے کے ساتھ

Address

Bosan Road, Multan
Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Department Emerson University Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share