10/07/2022
ایک طالبعلم کا خراج تحسین
قاری محمد نواز آٹھویں ، نویں اور دسویں کلاس میں ہمارے استاد تھے۔ آپ نے ہمیں صرف کتابیں یی نہیں ہڑھائی بلکہ زندگی ہڑھائی۔ زیرو پریڈ بھی لیتے رہے اور چھٹی کے بعد بھی کئی کئی گھنٹے اضافی پڑھاتے جب لگتا کہ خود تھک رہے ہیں یا بچے سست ہوگئے ہیں تو باجماعت "یا حیی و یاقیوم" اور کلمہ ہائے طیبہ کا ورد کراتے۔ تعلیم کے سسٹم کو سمجھتے تھے اس لیے سمجھانے کے ساتھ رٹے پر زور تھا اور زور بھی اسٹیبلشمنٹ والا تھا۔ ڈنڈا سپیشل بنوا کر رکھتے اس سے پوری خاطر داری نہ ہوتی تو توت کی پتلی چھمک سے ہاتھ ڈیسک پر الٹا رکھواتے اور سر سے بلند کرکے ایسے مارتے کے ہر مار پر لگتا کہ جان اب نکلی۔ یہ بعد میں سمجھ آیا کہ کبھی پورے زور سے تو مارتے ہی نہیں تھے بس زور سے مارنے کا جھانسہ دیتے تھے ہاتھ کی پشت پر تو ہلکی سی چوٹ بھی درد دیتی ہے۔ اپنی جماعت کو ظہر اور عصر کی نماز اپنی امامت میں پڑھاتے۔ بچوں ہر شفقت توجہ اور محبت ان پر بس تھی۔
دل میں بہت سالوں سے تمنا تھی کہ کبھی آپ کے در پر حاضری دوں اور قدم بوسی کروں لیکن آج عید کے دن ان کی وفات کا سن کر دل دکھی ہوگیا یے۔
اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کے شاگرد بلاشبہ ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہوں گے اور مجھے یقین ہے ایک بھی ایسا نہ ہوگا جو ان کے لیے دل سے دعا گو نہ ہوگا۔ قارعی محمد نواز بلاشبہ ایک مثالی، متحرک، نیک و پاک اور اعلیٰ کردار کے حامل استاد تھے۔
اللہ پاک ان پر رحمتیں نازل فرمائے آمین ❤️