25/05/2026
Trout is not an sustainable choice, as it is a predator and feed on other fish
ٹراؤٹ ماحول دوست مچھلی نہیں ہے، کیوں کہ یہ خود شکاری ہے۔
محمد نفیس، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
برصغیر پاک و ہند میں ٹراؤٹ مچھلی دریائی ایکو سسٹم میں بگاڑ کا سبب ہے، جس کی وجہ سے اس کا یہاں لانا ایک غلط فیصلہ تھا۔ اگر چہ ٹراؤٹ ایک خوش ذائقہ اور خوبصورت مچھلی ہے۔ یہ پاکستانی مچھلی نہیں ہے۔ اس کو انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں متعارف کروایا تھا۔ اس خیال سے کہ ایک تو یہ ذائقے میں اچھا ہے اور دوسرا خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صحت افزاء مچھلی ہے۔ یہ مچھلی ٹھنڈے پانی میں بلکل صاف ستھرا ماحول میں زندہ رہ سکتا ہے۔ پانی میں آلودگی ہو یا پانی کی درجہ حرارت دس سے پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو، یہ مچھلی وہاں نہیں رہ سکتی۔ اس کے علاؤہ یہ مچھلی گوشت خور ہے۔ اور دوسرے مچھلیوں کے بچوں کا شکار کرتی ہے۔ انگریز سرکار کو یہ تو معلوم تھا کہ اس کا گزر بسر دوسرے مچھلیوں پر ہوتا ہے۔ لیکن یہ معلوم کرنے کی تکلیف نہیں کی کہ کون کونسی مچھلی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اور یہ ہے وہ نکتہ جو دریائے سوات، اپر دریائے سندھ اور دریائے کنہار میں ایکولاجیکل بگاڑ کی وجہ بنی۔ لیکن ہم نے آج تک اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکے یا کرنا ہی گورا نہیں کیا۔
برصغیر میں ٹراؤٹ مچھلی پالنے کا آغاز برطانوی دورِ حکومت میں ہوا تھا۔ انگریز افسران اپنے شوق (اسپورٹ فشنگ) اور انگلینڈ کے ماحول کی یاد تازہ کرنے کے لیے 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں اسے پہاڑی علاقوں میں لائے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے پہلی کامیاب کوشش 1900ء میں جموں و کشمیر کے علاقوں، جیسے پنزگام اور دھاچی گام میں کی گئی۔ برطانوی افسر فرینک مچل نے لاکھوں انڈے یہاں کے ندی نالوں میں کامیابی سے منتقل کیے۔ گلگت میں ٹراؤٹ مچھلی کا تعارف برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ 'ایف بروس' نے جموں و کشمیر سے لا کر کیا۔ بعد ازاں چترال اور کاغان کی وادیوں میں بھی اس کا تجربہ کیا گیا۔ دریائے سوات میں ٹراؤٹ مچھلی متعارف کروانے کی پہلی کوشش برطانوی دورِ حکومت میں مالاکنڈ کے پولیٹیکل ایجنٹ ایچ آر ہے نے 1930ء میں کی تھی۔ تاہم، تکنیکی مہارت اور دیکھ بھال کی کمی کے باعث وہ ابتدائی اسٹاک زندہ نہ رہ سکا اور یہ مہم ناکام ہو گئی۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ گرمیوں میں زیادہ درجہ حرارت تھا۔ قیام پاکستان کے بعد، والی سوات کے تعاون سے مدین، سوات میں تجربہ کیا گیا۔ جو کامیاب رہا۔ اور آج تک وہاں ٹراؤٹ پالا جاتا ہے۔ ان کی بدولت آج ایشیا کا سب سے بڑا ٹراؤٹ فارم بن چکا ہے، جبکہ پاکستان میں سوات اور گلگت بلتستان کے علاقے اس کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔
ٹراؤٹ (خصوصاً براؤن ٹراؤٹ) ایک انتہائی جارحانہ گوشت خور مچھلی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے ٹھنڈے پانیوں میں پائی جانے والی تقریباً 10 سے 12 مقامی مچھلیوں کی اقسام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات (خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر) کے ٹھنڈے پانیوں میں مجموعی طور پر تقریباً 26 مقامی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ٹراؤٹ درج ذیل مچھلیوں کا شکار کرتی ہے یا ان سے خوراک چھین لیتی ہے۔
مہاشیر، جس کو ذولوجیکل نام ہے ٹار پٹیٹورا، یہ پاکستان کی قومی مچھلی ہے جو ٹھنڈے اور نیم ٹھنڈے پانیوں میں رہتی ہے۔ ٹراؤٹ اس کے بچوں کو کھا جاتی ہے اور اس کی نسل تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
برفانی چڑو / سنو ٹراؤٹ، ذولوجیکل نام ہے شائع تھوریکس۔ اس کو سنو ٹراؤٹ بھی کہتے ہیں۔ یہ کارپ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ براؤن ٹراؤٹ ندیوں میں اس مچھلی کے انڈے اور بچے کھا کر اس کی آبادی کو ختم کر رہی ہے۔
لوچ مچھلیاں، ندیوں کے پیندے میں رہنے والی چھوٹی مچھلیاں ہیں جو ٹراؤٹ کی پسندیدہ خوراک بن چکی ہیں۔
کیٹ فش کی مقامی ٹھنڈے پانی کی قسم ہے، اس کے کئی سپشیز ہیں جو ٹراؤٹ مچھلی کی جارحیت کا شکار ہیں۔
اس مچھلی کے جارحانہ رویے کی وجہ سے دریا کا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ مچھلیاں جو سبزی خور ہیں اور چھوٹے پودوں اور الجی پر گزارا کرتی ہیں، پانی کی قدرتی ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ ماحولیات اب کھلے دریاؤں اور قدرتی جھیلوں، جیسے سیف الملوک یا مہودنڈ میں ٹراؤٹ کو آزادانہ چھوڑنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ٹراؤٹ کی افزائش کو صرف بند کمرشل فش فارمز اور کنٹرولڈ ہیچریز تک محدود رکھا جائے تاکہ پاکستان کے قدرتی دریاؤں کا ماحولیاتی توازن اور یہاں کی مقامی مچھلیاں محفوظ رہ سکیں۔
آج کل مہاشیر خبروں میں ہے، جس کی نسل تقریباً ختم ہونے کو ہے۔ اس کے ختم ہونے کے کئی وجوہات ہیں۔ جس میں آلودگی، حد سے زیادہ شکار، شکار کے غیر قانونی طور طریقے، زرعی ادویات کا استعمال ہے۔ ان میں سے ایک بڑی وجہ ٹراؤٹ بھی ہے۔
Nafees Mohammad , Department of Environmental Sciences, University of Peshawar