03/05/2026
*کمانڈنٹ باڑہ رائفل کرنل عامر توصیف نے کہا ہے کہ الجامعہ اسلامیہ فاروقیہ شاکس دینی ، عصری اور روحانی علوم سے آراستہ عظیم درسگاہ ہے۔ پاکستان سے فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے دیگر مدارس اس جامعہ کی پیروی کریں۔ خطے کے مسلمانوں کو دینی روحانی اور عصری علوم پر مبنی اس نوعیت کی مدارس کی ضرورت ہے*
ان خیالات کا اظہار فرنٹئیر کور باڑہ رائفل کے کمانڈنٹ ہیڈکوارٹر کرنل عامر توصیف نے جامعہ الاسلامیہ الفاروقیہ جمرود شاکس کے زیر انتظام قائم (انگلش میڈئم نجی سکول) ڈان ہارورڈ سکول میں منعقدہ یوم والدین کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کرنل عامر توصیف نے کہا کہ جامعہ الاسلامیہ الفاروقیہ صوبہ خیبر پختونخوا کے عظیم دینی درسگاہوں میں سے ایک ہے۔ تاہم یہاں قائم بین الاقوامی معیار کا نجی تعلیمی ادارہ ڈان ہارورڈ سکول سسٹم سمیت وکیشنل سنٹر دیگر مدارس سے ممتاز بناتی ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء بہ یک وقت روحانی ، دینی اور عصری علوم سے روشناس ہوتے ہیں۔ کمانڈنٹ عامر توصیف نے کہا کہ فرقہ واریت سے پاک روحانی ماحول دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور مئیں خطے کے دیگر مدارس کے لئے بھی تجویز کرتا ہوں کہ وہ دارلعلوم اسلامیہ فارقیہ کی پیروی کریں۔ کیونکہ امت مسلہ کی فلاح وبہود کے لئے حصول علم کا یہی بہترین طرز تدریس ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی پسماندہ علاقہ شاکس میں دارلعلوم الاسلامیہ الفاروقیہ علم و تعلیم کی روشنی پھیلارہی ہے۔ علاقہ کےسٹریٹ چائلڈز اور یتیموں کے لئے ڈان ہارورڈ سکول قائم کرنا دارلعلوم کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ یہاں بے سہارا بچے مفت جدید علوم حاصل کرتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
چیئرمین بی او جی جامعہ ھذا جناب پروفیسر ڈاکٹر نورالایمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کے دینی مدارس میں بھی ڈان ہاروڈ جیسے جدید طرز تعلیم کے ادارے قائم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ حکومت اور سول سوسائیٹی اس میں کردار ادا کریں۔ تقریب سے ڈائریکٹر دی ڈان ہارورڈ سکول سسٹم جناب ڈاکٹر سید حفیظ
ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل فدا حسین نے بھی خطاب کیا۔ کمانڈنٹ باڑہ رائفل کرنل عامر توصیف نے طلباء اور اساتذہ میں توصیفی اسناد تقسیم کئے۔
بعدآزاں کمانڈنٹ کرنل عامر توصیف نے ڈان ہاروڈ سکول سسٹم کی نئی عمارت کا افتتاح کیا اور جامعہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ جدید کمپیوٹر لیب ، کمپیوٹرائزڈ لائیبریری، عجائب گھر ، ووکیشنل سنٹر کا معائنہ کیا. آخر میں ملک وقوم کی سلامتی کے لئے اجتماعی دعاء بھی کی گئی.