Fun&pranks

Fun&pranks Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fun&pranks, College & University, Rangpur.

28/08/2023

‏ایک دانا آدمی کی گاڑی گاؤں کے قریب خراب ہوگئی۔ اس نے سوچا کہ گاؤں میں سے کسی سے مدد لیتا ہوں۔
وہ جیسے ہی گاؤں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں۔ ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے، جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے۔ وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے ۔

تو اس بوڑھےشخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا۔ میں اسے اٹھا لایا۔ یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا۔ جب اس نے پہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا۔ یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا ۔

اس دانا شخص نے گاؤں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں، تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں۔ میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔
اس گاؤں والے نے باز کا بچہ، اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا۔
یہ اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا ۔

وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا، مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا۔ وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھاتا اور اسے کہتا کہ تو باز کا بچہ ہے، مرغی کا نہیں۔ اپنی پہچان کر۔

اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے، مرغی کا نہیں۔ اپنی پہچان کر، اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو۔

آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو۔ تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا ۔

باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے، تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگ۔ا

جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں

27/08/2023

‏*ایک پروفیسر کی تربیت کا انداز*

_کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔
ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ،
کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی،
اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے،
کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔_

*پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں،
آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔
یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔
ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔
جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے
لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔*

*سبق نمبر 1*

*کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔
طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں
اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔
پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
سوال تھا ہی ایسا۔*

*وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی
بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….*

*‘‘تم میں سے کون ہے
جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….*

*‘‘یہ ناممکن ہے۔’’،
کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘
لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور
آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’
باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔*

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور
کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس
لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔
اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

*پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:*

*‘‘آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے،
وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر،
ان کو بدنام کیے بغیر،
ان سے حسد کیے بغیر،
ان سے الجھے بغیر
ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’*’

*آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ
دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔
مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر
خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔
دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا،
ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔
یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے
اور قوموں کے لیے بھی۔
اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک
چین نے س

26/08/2023

Please follow

26/08/2023

‏کہا جاتا ہے کہ لندن کےایک امام صاحب روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہوتے۔
لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔

ایک مرتبہ یہ امام بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر بیٹھ گئے۔
ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پینس زیادہ آگئے ہیں۔

پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ اُنکا حق نہیں بنتے۔

پھر سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر رکھ لیتا ہوں۔

اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ آگیا۔
بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛

یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے۔
ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛
کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟

میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔

یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔

امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنےکیلئے ایک بجلی کے پول کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی،
یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔

یاد رکھئیے
بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔
یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔
کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے.
اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں۔
آج کل کتابیں پڑھنے کا دور نہیں لوگ روئیے پڑھتے ہیں۔ کان خلقہ القرآن کا یہی مطلب ہے

22/08/2023

‏ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں
جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد میندک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
ہماری زندگیوں میں بھی ایسے کاپیڈ۔۔۔۔ آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مظابق
اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں
شکریہ.

21/08/2023

‏*والدین کو اکیلا چھوڑ کر نہ جائیں..!*

میرے آفس میں ایک معزز لیڈی ڈاکٹر تشریف لائیں۔
پتہ چلا کہ وہ کراچی کے ایک بڑے مشہور ہاسپیٹل میں گاٸناکالاجسٹ ہیں ۔

کہنے لگیں سر آپ کی ایک تحریر صلہ رحمی پڑھنے کو ملی تو ارادہ کیا کہ جاکر اپنے دل کی بات آپ سے ضرور کرنی چاہیے ۔

میں نے کافی منگوائی۔
موباٸل خاموش کیا اور ہمہ تن گوش ہوکر بیٹھ گیا ۔

کہنے لگیں سر میرا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے ۔
کراچی کے بہترین رہاٸشی علاقے میں ایک ہی گلی میں میرے خاندان کے 7 بڑے بڑے گھر ہیں ۔

اگر ایک طرف سے شروع کروں تو ہر گھر میں صرف بزرگ رہتے ہیں اور کسی کی عمر بھی 65-70 سال سے کم نہیں ۔

ان گھروں میں میری 2 خالاٸیں ہیں ۔
1 پھوپھی ہے اور دو گھر ماموٶں کے ہیں ۔

سب کی اولادیں پڑھی لکھی ہیں ۔
ڈاکٹرز انجنیٸرز اور آٸی ٹی ماہرین کی بھرمار ہے مگر سب کے سب والدین کو چھوڑ کر باہر جا بسے ہیں ۔

پاکستان میں رہنے والوں میں سب سے چھوٹی میں ہوں ۔
میری عمر بھی 40 سال ہے اور میرا 15 سال کا ایک ہی بیٹا ہے ۔

میں اب 12 بزرگوں کی دیکھ بھال کرتی ہوں ۔ کسی کو بلڈ پریشر ہے ۔
کوٸی دل کا مریض ہے ۔
کسی کو چلنے میں تکلیف ہے ۔
میں ہاسپیٹل میں خود کام صرف ڈیپریشن سے بچنے کیلیے کرتی ہوں ۔

پھوپھی کو دیکھنے جاٶں تو خالہ کا فون آتا ہے کہ مجھے بخار سا لگ رہا ہے جلدی آٶ ۔

ماموں کا بلڈ پریشر چیک کرنے جاتی ہوں تو بیٹا فون کرتا ہے کہ مما گھر کب آٶ گی ۔

بہت کوشش کے بعد بھی بزرگ اپنے گھر چھوڑ کر کسی ایک گھر میں اکٹھے رہنے تیار نہیں ہوتے ۔

گھروں میں نوکروں ڈراٸیوروں اور آیاٶں کی حکومت ہے ۔
میں پلکیں جھپکاٸے بغیر خاموش بیٹھا اسکی باتیں ایسے سن رہا تھا کہ کہیں کوٸی ایک لفظ بھی چوک نہ جاٸے ۔

میں نے پوچھا آپ کے میاں کہاں ہیں۔.؟

کہنے لگی ۔ وہ میرے لیے اللہ کا انعام ہیں،
میں جب بھی ان کی طرف دیکھتی ہوں دل میں بہت دعاٸیں دیتی ہوں کہ وہ اپنے والدین کی وفات کے بعد صرف میری وجہ سے امریکہ میں بسے سب بہن بھاٸیوں کے پاس نہیں جا رہے ۔
سوچتی ہوں کہ اگر میرے امی ابو زندہ ہوتے تو کیا میں اپنے اکلوتے بھاٸی اور 25-30 کزنز کی طرح اپنے والدین کو تنہا چھوڑ کر امریکہ کینیڈا جا بستی؟

سر میں خود ہی جواب گھڑتی رہتی ہوں کہ والدین کو تو چھوڑیں مجھے تو ان 6 گھروں میں رہنے والے خاندان کے بزرگوں نے بھی بیڑیاں ڈال رکھی ہیں ۔

سر اب پریشان اس لی

20/08/2023

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔
اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔
امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔‘
عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔
آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے ا

Address

Rangpur

Telephone

+923022649560

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fun&pranks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Fun&pranks:

Share