07/04/2026
نور نبی ع اور نور علی ع اپنے اباد و اجداد اور اپنے نسل پاک میں ھمشیہ قائم و دائم ھے اور یہ امامت کا دائمی تصور ھےاحدیث مبارک میں دلائیل
حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ السلام نے فرمایا
جماعتو! تم ہمیں چھوٹا مت سمجھنا ہم ال رسول ہیں ہمارے دادا حضرت امیر المومنین مرتضی علی اور دادی خاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہرا ہے ہم علی اور نبی دونوں کے نور ہیں ہمارا نور ازل سے ایک ہی نور چلا ایا ہے مولا مرتضی علی علیہ السلام اور ہمارے اباؤ اجداد(آئمہ طاہرین) میں ایک ہی نور تھا اور ہم میں بھی وہی نور ہے نور ازل سے ایک ہی ہے ظاہر میں ہم جامہ پہنتے ہیں اور اتارتے ہیں اور تم کو ھم میں ایک ہی نور دیکھنا چاہے یہ اخر زمانہ ہے اس میں جو ایماندار ھیں ان کو اپنے زمانے کے امام کی قدرت اور کرامات نظر ائے گی لیکن جو ادھور ے دل والے ہیں وہ ظاہری کرامات دیکھیں گے پھر بھی ان کو جھوٹا سمجھیں گے جن لوگوں نے پیغمبر نبی اور امام کی قدرت کو نہیں مانا ایسے لوگوں کی مثال اندھے کی طرح ہے اندھے کو اگر ائینہ اور ٹھیکڑی دے تو ان کے نزدیک دونوں برابر ہیں ہمیں ادھوری دل والے اپنا جیسا سمجھتے ہیں ظاہر میں ہم درویشی اختیار کر بیٹھے ہیں لیکن ہمیں خداوند تعالی کی بارگاہ سے بزرگی ملی ہوئی ہے وجہ یہ ہے ہم پیغمبر کی ال پاک ہیں ہمارے گھر کی تعریفیں اور قدرت جو علم میں واقف کار ہے وہ سمجھیں گے ادھوری دل والوں کو ہم پر بالکل بھروسہ نہ ہوگا جو ایسے ہیں وہ ہمیں کس طرح پیارے ہو سکتے ہیں وہ اپنے اپ کو نقصان پہنچائیں گے ہمیں کچھ بھی نہیں ہوگا
فرمان نمبر1 تاریخ یکم ستمبر 1885
مقام بمبئ
کلام امام مبین اسماعیلی کتاب
وروى ابن المغازلي بإسناده عن سلمان، قال: «سمعت حبيبي محمّداً يقول: كنت أنا وعلي نوراً بين يدي الله عزّوجلّ، يسبح الله ذلك النور ويقدسه قبل أن يخلق الله آدم بألف عام، فلما خلق الله آدم ركّب ذلك النور في صلبه فلم يزل في شيء واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب، ففيّ النبوة وفي علي الخلافة»(5).
اللہ تعالی نے ھمارا نور حضرت آدم علیہ السلام سے 14ھزار سال پہلے خلق فرمایا...حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں نور محمدی رکھا گیا وہ چلتے چلتے حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی پشت میں آیا
پھر اللہ پاک نے اس نور کے دو حصے کیے ایک حصہ حضرت عبداللہ علیہ السلام کی پشت میں رکھا دوسرے کو حضرت ابوطالب علیہ السلام کی پشت میں رکھا
حضرت عبداللہ علیہ السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور جناب ابوطالب علیہ السلام کی پشت میں جو نور تھا اس سے مولا علی علیہ السلام کی ولادت ھوئی۔پس علی علیہ السلام مجھے سے ھے اور میں صلعم اس سے ھوں
فرائد السّمطين، ج1، ص40.
(كفاية الطّالب، ص314.
المصدر ص315، ورواه الخوارزمي في المناقب، ص88.
مناقب عليّ بن أبي طالب ص88، الحديث130.
الفضائل (المناقب) ج1، الحديث 240، مخطوط، ورواه سبط ابن الجوزي في تذكرة الخواص ص46.
جناب جابر -نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: بتحقیق خدا نے مجھے اور علی - کو حضرت آدم -کی خلقت سے دوہزار سال پہلے دو نور کی شکل میں عرش کے سامنے خلق کیا اور ہم خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے ۔جب خدا نے حضرت آدم -کو خلق فرمایا تو ہمارے نورکو ان کے صلب مبارک میں قرار دے دیا پھر ان کے صلب سے پاک و پاکیزہ اصلاب کے ذریعہ منتقل کرکے حضرت ابراہیم - کے صلب میں ٹھہرایا،پھر ان کے صلب اور پشت سے نکال کر جناب عبد المطّلب- کے صلب میں منتقل کیا پھر جناب عبد المطلب -کے صلب سے یہ نور اس طرح تقسیم ہواکہ دو حصے حضرت عبد اللہ بن عبد المطّلب- کے صلب میں قرار دیا گیاجبکہ ایک حصہ جناب ابو طالب بن عبد المطلب کے صلب میں قرار دیاگیا،پھر اس نور کے دونوں حصے فاطمہ = کے وجود مبارک میں جمع ہوئے لہٰذا حسن- و حسین- اللہ تعالیٰ کے دو نور ہیں۔اس روایت پر غور کیا جانا چاہئے کیونکہ گذشتہ روایت میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے نور کا کائنات کی خلقت سے پہلے موجود ہونے کو بتایا گیا ۔ اس روایت میں حضرت آدم - کی خلقت سے پہلے حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی - کا نورخلق ہونے کی خبر ...بحوالہ کتاب اثنا عشری .بحار الانوارج ١٥ ص٩۔
- عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَمُّونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سَهْلٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى- اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فَاطِمَةُ ع فِيها مِصْباحٌ الْحَسَنُ- الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ الْحُسَيْنُ- الزُّجاجَةُ كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌ فَاطِمَةُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ بَيْنَ نِسَاءِ أَهْلِ الدُّنْيَا- يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبارَكَةٍ إِبْرَاهِيمُ ع- زَيْتُونَةٍ لا شَرْقِيَّةٍ وَ لا غَرْبِيَّةٍ لَا يَهُودِيَّةٍ وَ لَا نَصْرَانِيَّةٍ- يَكادُ زَيْتُها يُضِيءُ يَكَادُ الْعِلْمُ يَنْفَجِرُ بِهَا- وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نارٌ نُورٌ عَلى نُورٍ إِمَامٌ مِنْهَا بَعْدَ إِمَامٍ- يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشاءُ يَهْدِي اللَّهُ لِلْأَئِمَّةِ مَنْ يَشَاءُ- وَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثالَ لِلنَّاسِ قُلْتُ أَوْ كَظُلُماتٍ قَالَ الْأَوَّلُ وَ صَاحِبُهُ- يَغْشاهُ مَوْجٌ الثَّالِثُ- مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ ظُلُمَاتٌ الثَّانِي- بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ مُعَاوِيَةُ لَعَنَهُ اللَّهُ وَ فِتَنُ بَنِي أُمَيَّةَ- إِذا أَخْرَجَ يَدَهُ الْمُؤْمِنُ فِي ظُلْمَةِ فِتْنَتِهِمْ- لَمْ يَكَدْ يَراها وَ مَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً إِمَاماً مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ ع- فَما لَهُ مِنْ نُورٍ إِمَامٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ قَالَ فِي قَوْلِهِ- يَسْعى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمانِهِمْ أَئِمَّةُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَسْعَى بَيْنَ يَدَيِ الْمُؤْمِنِينَ وَ بِأَيْمَانِهِمْ حَتَّى يُنْزِلُوهُمْ مَنَازِلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
5۔ امام جعفر صادق (ع) نے آیہ اللہ نور السمٰوات والارض مثل نور مشکوٰۃ میں، مشکوٰۃ (چراغدان ) سے مراد فاطمہ ہیں اور فیھا مصباح (اس میں چراغ ) میں مصباح سے مراد حسن (ع) ہیں اور وہ چراغ شیشہ میں ہیں اور شیشہ سے مراد حسین (ع) ہیں اورفاطمہ زنان عالم کے درمیان روشن ستارہ ہیں اور وہ چراغ روشن ہے شجر مبارک ابراہیم سے تیل اس چراغ کا زیتون ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے یعنی نہ یہودی ہے نہ نصرانی اس کا روغن روشن ہے یعنی قریب ہے کہ علم اس سے پھوٹ نکلے اور اگر چہ آگ مس نہ کرے تب بھی نور علی نور ہے یعنی امام کے بعد امام ، خدا اس نور سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے یعنی آئمہ کے ذریعہ سے اور اللہ ایسی ہی مثالیں بیان کرتا ہے میں نے پوچھا اور ظلمات سے کیا مراد ہے فرمایا اول اس کا صاحب جس کو ڈھانپ لیا ۔ ثالث نے تاریک کی موجیں ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی ہیں اور وہ معاویہ اس کے زمانے کے قصے ہیں اور اس میں لم یجعل اللہ لہ نورا سے یہ مراد جس کو اولاد فاطمہ زہرا(س) کے نور سے ہدایت نہ ہوتی اس کے لئے روز قیامت نور نہ ہوگا اور آیت میں جو یہ ہے ان کا نور ان کے سامنے اور داہنی طرف دوڑتا ہوگا تو اس سے مراد آئمہ مومنین ہیں جن کا نور مومنین کے سامنے اور داہنی طرف دوڑے گا اور وہ ان کو منازل جنت کی طرف لی جائیگا
اصول کافی
بَابُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ ع نُورُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ
1- الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَحْيَى وَ الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ- فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنا فَقَالَ يَا أَبَا خَالِدٍ النُّورُ وَ اللَّهِ- الْأَئِمَّةُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ص إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَ فِي الْأَرْضِ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَنُورُ الْإِمَامِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ أَنْوَرُ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ بِالنَّهَارِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَحْجُبُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ نُورَهُمْ عَمَّنْ يَشَاءُ فَتُظْلِمُ قُلُوبُهُمْ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَا يُحِبُّنَا عَبْدٌ وَ يَتَوَلَّانَا حَتَّى يُطَهِّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ وَ لَا يُطَهِّرُ اللَّهُ قَلْبَ عَبْدٍ حَتَّى يُسَلِّمَ لَنَا وَ يَكُونَ سِلْماً لَنَا فَإِذَا كَانَ سِلْماً لَنَا سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ شَدِيدِ الْحِسَابِ وَ آمَنَهُ مِنْ فَزَعِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَكْبَرِ.
1۔ ابوخالد سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر (ع) سے آیہ فآمنو باللہ و رسولہ والنور الذی انزلنا کے متعلق پوچھا ۔ فرمایا اے ابو خالد نور سے مراد نور آئمہ (ع) ہیں ۔ آل محمد سے قیامت تک ہونے والے اور وہی وہ نور ہیں جو نازل کیا گیا اور وہی اللہ کے نور ہیں زمین و آسمان میں واللہ اے ابو خالد نور امام قلوب مومنین میں سے ہے وہ نصف النہار کے سورج سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور وہ (آئمہ) قلوب مومنین کو منور کر دیتے ہیں اور اللہ ان کے نور کو جس سے چاہتا ہے چھپاتا ہے ان کے قلوب تاریک ہو جاتے ہیں واللہ ۔ اے ابوخالدہم سے نہیں محبت کرتا کوئی بندہ اور نہیں دوست رکھتا ہم کو ، مگر یہ کہ اللہ اس کے قلوب کو پاک کرتا ہے اور پاک نہیں کرتا ، کسی کے دل کو جب تک وہ ہمیں زمانے اور ہم سے صلح نہ کرے پس جب ہم سے صلح کرتا ہے تو خدا اس کو سخت عذاب سے اور روز قیامت کے خوف عظیم سے محفوظ رکھتا ہے ۔
اصول کافی
اس احدیث مبارکہ اور آئمہ طاہرین علیہم السلام اجمعین کی فرامین سے پتہ چلا کہ اسماعیلی عقیدے رسول اللہ اور مولا علی کا نور ان آل اور اولاد کے ھر زمانے امام میں حاضر موجود ھے اس لیے نبی اور علی کا نور ھر زمانے کے امام کی صورت ۔لوگوں کے اعمال پر گواہ اور رحمت ھے اسلیے قرآن کریم میں رسول اللہ کو رحمت العالمین فرمایا گیا ھے
اللھم صلی علی محمد و آلہ محمد