Jamia Hazrat Karmanwala (regd.)

Jamia Hazrat Karmanwala (regd.) The Official Fan-Page of Jamia Hazrat Karmanwala ® Sahiwal Pakistan. www.jhkarmanwala.com An Islamic Institution.....

08/06/2024

حضور مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ کی شان پاک میں فرامین مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
حدیث :- 1
"علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے"۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 11)

حدیث نمبر :- 2
"علی کا ذکر عبادت ہے"۔
حوالہ :- ( کنز العمال جلد 11
صفحہ 601)

حدیث نمبر :- 3
"علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے،جو موسی کو ہارون سے تھی سواے اس کے کہ میرے بعد کوی نبی نہیں"۔
حوالہ :- ( صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 1142)
(صحیح مسلم جلد 31 صفحہ نمبر 5931)

حدیث:- 4
یوم خیبر ، "کل علم اس کو دوں گا جو اللہ،اسکے رسول کا محبوب ترین ہوگا"۔
حوالہ :- ( صحیح مسلم جلد 31،صفحہ 5917)

حدیث:- 5
"میرے بعد جو چیزیں باعث اختلاف ہوں گی ، ان میں علی کی عدالت سب سے بہترین ہے" ۔
(کنز اعمال جلد 13، صفحہ 120)

حدیث نمبر:- 6
"علی تمہارے درمیان بہترین حاکم ہے"۔
(کنز اعمال جلد 13،صفحہ 120)

حدیث نمبر:- 7
" میں سردار فرزندان آدم ہوں، (علی) سرور عرب ہے"۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3، صفحہ 123)

حدیث نمبر:- 8
"یوم خندق ضربت علی, ثقلین کی عبادت سے افضل ہے "۔
حوالہ :- (مستدرک الحاکم جلد 3 صفحہ 34)

حدیث نمبر :- 9
"علی کے گھر کے علاوہ مسجد نبوی کے اندر کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں" ۔
حوالہ:- (مستدرک الحاکم جلد 3،صفحہ 125)

حدیث نمبر:- 10
"علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں"۔
حوالہ جات :- (مسند احمد ابن حمبل جلد 5،صفحہ 606)
( صحیح ترمذی جلد 13،صفحہ 168)

حدیث نمبر:- 11
لشکر روانہ کرتے وقت فرمایا، "خدایا مجھے اس وقت تک موت نا دینا جب تک علی کو دوبارہ دیکھ نہ لوں ،راوی ام ایمن " ۔
حوالہ :- (صحیح ترمذی جلد 13 صفحہ 178)

حدیث نمبر:- 12
علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے۔ حوالہ :- ( صحیح ترمذی جلد 31،صفحہ 166)

حدیث نمبر:- 13
اہل سنت کے مفسر امام جلال الدین سیوطی نے تفسیر در منثور میں درج کیا ہے جب قرآن کی یہ آیت آئی کہ :-
اے رسول ! پہنچا دیجئے اپنے رب کی طرف سے جو آپ پہ نازل ہوا... (سورہ مائدہ 67)
اس آیت کے بعد آخری حج سے واپسی پر خم غدیر کے مقام پر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے سوالاکھ صحابہ کرام کے مجمعے میں علی (علیہ السلام ) کا ہاتھ بلند کر کے اعلان کیا :- "جس جس کا میں مولا ، اس اس کا علی( علیہ السلام ) مولا

حدیث نمبر :- 14
"جس نے علی کو ستایا ، اس نے مجھے ستایا" ۔ حوالہ :- (مسند امام احمد ابن حمبل جلد 4 صفحہ 534)
حدیث نمبر:- 15

"جس نے علی سے دشمنی کی ، اس نے مجھ سے دشمنی کی"۔
(مناقب علی ابن ابی طالب صفحہ 192)

حدیث نمبر:- 16
"اے علی ! مومن کے علاوہ کوئی تم سے محبت نہیں کرسکتا، منافق کے علاوہ کوئی تم سے بغض نہیں رکھ سکتا"۔
حوالہ :- (صحیح ترمذی جلد 13 صفحہ 177)
مسلم شریف میں اسی حدیث کا مفصل طرق موجود ہے
مسلم شریف حدیث نمبر 240

حدیث نمبر:- 17
"علی کی دوستی برائیوں کو یوں کھاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو" ۔
حوالہ:- (کنز العمال جلد 11،صفحہ 125)

حدیث نمبر:-18
"اے علی ! جو ہماری اطاعت کرے گا اس نے خدا کی اطاعت کی"، راوی ابوذر غفاری
حوالہ:- (مستدرک الحاکم جلد 3،صفحہ 123)

حدیث نمبر:- 19
(میرا پروردگار مجھے رات کو آسمان لے گیا اور علی کے بارے میں مجھے 3 چیزوں کی وحی کی )
"علی پرہیز گاروں کا پیشوا ، مومنین کے ولی ، اور نورانی چہروں کے رہبر ہے"۔
حوالہ:- (مستدرک الحاکم جلد 3،صفحہ 138)

حدیث نمبر:- 20
میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے۔
حوالہ جات:- (کنز العمال جلد 13 صفحہ 148)
(مستدرک الحاکم جلد 3،صفحہ 127)

حدیث نمبر:- 21
مواخات مدینہ ، "اے علی تم دنیا آخرت میں میرے بھائی ہو"۔
حوالہ(تاریخ ابن کثیر جلد 3،صفحہ 223)

07/06/2024

بھینس اور بھینسے کی قربانی کرنا،بلاشبہ جائز ہے ،ا س میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں ،کیونکہ بھینس ،گائے ہی کی جنس (Gender)میں سے ہے ، تو جس طرح گائے کی قربانی کرنا ،جائز ہے،یونہی بھینس کی قربانی کرنا بھی جائز ہے اور یہ بات قرآن وحدیث ،اجماعِ علما، مفسّرین ،محدثین اور ائمۂ مجتہدین کےاقوال سے ثابت ہے۔

•قرآنِ پاک سے ثبوت:

اللہ پاک نے قربانی کے جانوروں کے لیے’’بَہِیۡمَۃِ الْاَنْعَامِ ‘‘ کا لفظ ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:(وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنۡسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الْاَنْعَامِ) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی تا کہ وہ اس بات پر اللہ کا نام یاد کریں کہ اس نے انہیں بے زبان چوپایوں سے رزق دیا۔

(پارہ 17 ،سورۃ الحج ،آیت 34) اور پھر خود قرآنِ کریم نے ’’بَہِیۡمَۃِ الْاَنْعَامِ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا:(ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ…وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ) ترجمہ کنزالعرفان:(اللہ نے) آٹھ نر و مادہ جوڑے (پیدا کیے) ایک جوڑا بھیڑ سے اور ایک جوڑا بکری سے... اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا۔

(پارہ8،سورۃ الانعام ،آیت 143،144)

اوپر بیان کردہ آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں مشہور تابعی مفسّرحضرت لیث بن ابو سلیم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :”الجاموس والبختي من الأزواج الثمانية “ ترجمہ:بھینس اور بختی (اونٹ کی ایک قسم) اُن آٹھ جوڑوں میں سے ہی ہیں(جن کا اللہ پاک نے ذکر فرمایا)۔

(تفسیرِ درمنثور ،تحت ھذہ الآیۃ ،جلد3 ،صفحه 371 ،مطبوعه دارالفكر، بيروت)

معلوم ہوا کہ بھینس ثمانیۃ ازواج اور بھیمۃ الانعام میں داخل ہے ،لہٰذا اس کی قربانی کرنا بھی جائز ہے۔۔ •حدیثِ پاک سے ثبوت:

سننِ ابو داؤد میں ہے:”عن جابر بن عبد اللہ، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال:البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة “ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:گائے سات افراد کی طرف سے اور اونٹ بھی سات افراد کی طرف سے (قربان ہو سکتاہے )۔

(سننِ ابو داؤد ،کتاب الضحايا ،باب فی البقر والجزور عن کم تجزی ،جلد2صفحہ 40 ،مطبوعہ لاھور)

حدیثِ پاک میں” بقرۃ“ کا لفظ استعمال کیا گیا اور بقرۃ ایک جنس ہے جس کے تحت مختلف قسم کے جانور آتے ہیں،ان میں سے ایک جاموس یعنی بھینس بھی ہے ،جیساکہ لسان العرب میں ہے:’’البقر جنس والجاموس نوع من البقر‘‘ ترجمہ:گائے جنس ہے اور اسی کی قسم جاموس یعنی بھینس ہے۔

(لساب العرب ،جلد 6 ،صفحہ 51 ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت)

حضرت مولائے کائنات علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :”الجاموس تجزی عن سبعة فی الأضحيۃ “ ترجمہ:بھینس قربانی میں سات افراد کی طرف سے کافی ہے ۔

(مسندالفردوس ،کتاب الاضحیۃ ،جلد 2 ،صفحہ124 ،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ،بیروت )

•اقوالِ ائمہ سے ثبوت:

مصنّف ابنِ ابی شیبہ میں ہے:” عن الحسن انّہ کان یقول : الجوامیس بمنزلۃ البقر “ ترجمہ:حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بھینس گائے کی طرح ہی ہے( یعنی تمام احکام میں گائے کی طرح ہے)۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ،جلد4،صفحہ357، رقم:10839،مطبوعہ مکتبۃ الرشد)

فقہِ حنبلی کے بانی حضرت ِ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے بھینس کی قربانی کے متعلق سوال کیاگیا ،تو آپ نے فرمایا:”لااعرف خلاف هذا “ ترجمہ:میں اس کے جواز کے متعلق کسی کااختلاف نہیں جانتا۔

(مسائل الامام احمد بن حنبل ،کتاب الاضحیۃ ،صفحہ 4027 ،مسئلہ2865،مطبوعہ مدینۃالمنورۃ)

علامہ ابنِ مُنذِر نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:318ھ) لکھتے ہیں:” واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر “ترجمہ:اور علماء کااس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔

(الاجماع ،کتاب الزکاۃ،صفحہ 52 ،مطبوعہ مکتبۃ الفرقان ،دولۃ الامارات العربیہ)

کروڑوں مالکیوں کے پیشوا امامِ مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :”انّما ھی بقر کلّھا “ ترجمہ:بے شک بھینس تمام احکام میں گائے کی طرح ہے۔

(مؤطا امامِ مالک ،کتاب الزکوٰۃ ،ماجاء فی صدقۃ البقرۃ ،صفحہ 294 ،مطبوعہ کراچی )

حضرت امامِ یحیٰ بن شرف نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:”انّ البقر جنس ونوعہ الجوامیس “ترجمہ:گائے جنس ہے اور بھینس اسی کی قسم ہے(لہٰذا جو احکام گائے کے ہیں وہی بھینس کے ہیں)۔

(المجموع شرح المھذب ،کتاب الزکاۃ ،باب زکاۃ الغنم ،جلد6،صفحہ 426 ،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ،بیروت)

فقیہ النفس امام قاضی خان حنفی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات :592 ھ) لکھتے ہیں:”الاضحیۃ تجوز من اربع من الحیوان الضان والمعز والبقر والابل ذکورھا واناثھا وکذلک الجاموس لانّہ نوع من البقرالاھلی “ ترجمہ:جانوروں میں سے چار کی قربانی جائز ہے،بھیڑ، بکری ،گائے اوراونٹ ،ان کے مذکر و مؤنث (دونوں کی جائز ہے)اسی طرح بھینس کی قربانی بھی جائز ہے،اس لیے کہ یہ پالتو گائے کی ہی قسم ہے۔

(فتاویٰ قاضی خان ،کتاب الاضحیۃ ،فصل فیما یجوز فی الضحایا ،جلد3،صفحہ348 ،مطبوعہ کوئٹہ)

اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے:)”اما جنسه )فهو ان يكون من الاجناس الثلاثة الغنم او الابل او البقر و يدخل فى كل جنس نوعه و الذكر و الانثى منه الخصى و الفحل لاطلاق اسم الجنس على ذالك والمعز نوع من الغنم و الجاموس نوع من البقر “ترجمہ:بہرحال جانور کی جنس ،تو وہ بکری ،اونٹ ،اور گائے تین اجناس میں سے ہو اور ہر ایک کی جنس میں اس کی نوع بھی داخل ہے،چاہے وہ جانور نر ہو یا مادہ ،خصی ہو یا غیر خصی اور بھیڑ ،بکری کی اوربھینس ،گائے کی ہی ایک قسم ہے۔

(فتاوی عالمگیری ،کتاب الاضحیۃ ،الباب الخامس ،جلد5،صفحہ 297 ،مطبوعہ کوئٹہ)

نیز یہ کہ ہر حلال جانور کی قربانی جائز نہیں بلکہ وہ حلال جانور جن پر زکوٰۃ ہے اس کی قربانی ہے یعنی جن جانوروں سے نفع اٹھایا جاتا ہے ۔۔۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

منجانب: مفتی محمد غضنفر علی نقشبندی نائب مہتمم جامعہ حضرت کرمانوالا (رجسٹرڈ) ساہیوال

جامعہ حضرت کرمانوالا 90/9-ایل ساہیوال میں اجتماعی قربانی کے جانور آچکے ہیں،کٹے،جھوٹی،گائے،ویہڑا۔۔۔۔۔فی حصہ 18500روپے سے ...
05/06/2024

جامعہ حضرت کرمانوالا 90/9-ایل ساہیوال میں اجتماعی قربانی کے جانور آچکے ہیں،کٹے،جھوٹی،گائے،ویہڑا۔۔۔۔۔فی حصہ 18500روپے سے لیکر 35000 روپے تک حصے موجود ہیں،جانور کو دیکھ کر حصہ رکھیں ۔۔۔آن لائن کی سہولت موجود ہے۔۔۔۔۔یاد رہے اس کے علاوہ میرا کوئی اور نمبر نہیں ہے۔۔۔جازکیش،ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈر۔۔۔۔محمد غضنفر علی 03003518151 اور UBL Account Number:0102294476846 M Ghazanfar Ali۔

03/06/2024

جدید دور،جدید انداز۔۔۔۔۔۔آن لائن جانور پسند کریں،آن لائن رسید حاصل کریں اور آن لائن بکنگ کروائیں اور آن لائن رقم جمع کروائیں۔۔۔۔۔اجتماعی قربانی کے جانور جامعہ حضرت کرمانوالا 90/9-ایل ساہیوال میں موجود ہیں ۔۔۔۔جازکیش،ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈر۔۔۔۔محمد غضنفر علی 03003518151 اور UBL Account Number:0102294476846 M Ghazanfar Ali

جامعہ حضرت کرمانوالا 90/9-ایل ساہیوال میں قربانی کے جانور آچکے ہیں،کٹے،جھوٹی،گائے،ویہڑا۔۔۔۔۔فی حصہ 20,000روپے سے لیکر 35...
03/06/2024

جامعہ حضرت کرمانوالا 90/9-ایل ساہیوال میں قربانی کے جانور آچکے ہیں،کٹے،جھوٹی،گائے،ویہڑا۔۔۔۔۔فی حصہ 20,000روپے سے لیکر 35000 روپے تک حصے موجود ہیں،جانور کو دیکھ کر حصہ رکھیں ۔۔۔ برائے رابطہ: مفتی محمد غضنفر علی نقشبندی 03003518151

02/06/2024

"غلط فہمی دور کرنے کا واحد طریقہ گفتگو ہے اور ہم ہیں کہ غلط فہمی پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے یہی دروازہ بند کرتے ہیں"
اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے آمین
السلام علیکم صبح بخیر. ............... منجانب: مفتی محمد غضنفر علی نقشبندی نائب مہتمم جامعہ حضرت کرمانوالا (رجسٹرڈ) ساہیوال

23/05/2024

*[السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ]*
*اچھے کاموں میں محنت کرنے سے "سونا" بنو گے، جبکہ فضول وقت گزارنے پر زندگی بیکار ہوجائےگی---*
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اطاعت خداوندی اور اتباع نبوی میں زندگی گزارنے کے جذبات نصیب فرمائے------------------------منجانب: مفتی محمد غضنفر علی نقشبندی نائب مہتمم جامعہ حضرت کرمانوالا (رجسٹرڈ) ساہیوال
{کثرت سےدرود شریف پڑھتے رہیں}
14-ذوالقعدہ1445ھجری
23-مئی2024عیسوی
9-جیٹھ2081بکرمی بروزجمعرات

07/05/2024
یوم وصال 02 مئی
02/05/2024

یوم وصال 02 مئی

چیئر مین ساہیوال بورڈ حافظ محمد شفیق صاحب کے ساتھ قاری محمد علی نقشبندی صاحب جامعہ حضرت کرمانوالا ساہیوال کے دفتر میں یا...
02/05/2024

چیئر مین ساہیوال بورڈ حافظ محمد شفیق صاحب کے ساتھ قاری محمد علی نقشبندی صاحب جامعہ حضرت کرمانوالا ساہیوال کے دفتر میں یادگار تصویر ۔۔۔۔۔2 مئی 2024ء بروز جمعرات بعد نماز عصر ۔۔۔

26/04/2024

*اپنی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے مصروفیات کے سمندر میں اتنا ڈوب جاؤ کہ کسی دوسرے کے عیب ڈھونڈنے کی فرصت ہی نہ ملے---*
دعا ہےکہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو تعلیماتِ نبوی کے سایہ تلے اپنی اور اپنے ماحول کی اصلاح کرنے کا ذوق نصیب فرمائے--- الداعی الی الخیر: مفتی محمد غضنفر علی نقشبندی نائب مہتمم جامعہ حضرت کرمانوالا (رجسٹرڈ) ساہیوال
*جمعہ مبارک ہو*
{کثرت سےدرود شریف پڑھتے رہیں}
17-شوال المکرم 1445ھجری
26-اپریل2024عیسوی
13-بیساکھ2081بکرمی.

Address

Jamia Hazrat Karmanwala
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Hazrat Karmanwala (regd.) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Jamia Hazrat Karmanwala (regd.):

Share