Spiritual university pakistan

Call Directions Website Contact the university

Spiritual university pakistan "A place for your Spiritual & Inner growth" Live sessions on Zoom with authentic books on Spirituality & Sufism. Registration link in Linktree

28/08/2026
حضرت خبیب کی داستانِ محبت۔ مسیلمہ کذاب نے نبی کریم ﷺ کو خط لکھ کر آدھی سلطنت کا نبی بننے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے جواب میں...
26/08/2026

حضرت خبیب کی داستانِ محبت۔
مسیلمہ کذاب نے نبی کریم ﷺ کو خط لکھ کر آدھی سلطنت کا نبی بننے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے جواب میں اسے "کذاب" لکھا، اور پوچھا کہ یہ پیغام کون لے کر جائے گا۔ ایک غریب، بارہ بچوں کے باپ، صحابی حضرت خبیب بن زید رضی اللہ عنہ نے فوراً کھڑے ہو کر عرض کی کہ یہ ذمہ داری کسی اور کو نہ دی جائے۔ وہ مسیلمہ کے دربار میں پہنچے، نیزہ گاڑا، اور بے خوفی سے اپنا تعارف کروایا۔ جب خط پڑھا گیا اور اس میں "کذاب" کا لفظ سامنے آیا تو مسیلمہ غصے سے تلوار لے کر اٹھا۔ حضرت خبیب نے فرمایا ،جسے میرا نبی کذاب کہے، وہ کذاب ہی ہے۔ مسیلمہ نے دھمکی دی کہ اس کے سب سپاہی پیچھے کھڑے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ جب اللہ کے رسول ﷺ کا پیغام لے کر نکلا تو اپنے بارہ معصوم بچوں کو بھی مڑ کر نہیں دیکھا، تیرے پہرے دار کیا چیز ہیں۔ ایک ایک کر کے مسیلمہ نے ان کے دونوں بازو کاٹے، اور ہر بار حضرت خبیب کا جواب یہی رہا میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا۔ آخر میں گردن پر تلوار رکھی گئی، اور آپ نے خود فرمایا کاٹتا کیوں نہیں؟ روایت میں ہے کہ مسیلمہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شہادت کے وقت مدینہ میں نبی کریم ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: میرا حبیب شہید ہو گیا، اور رب نے اس کے لیے جنت کے سارے دروازے کھول دیے۔

آج میلاد النبی ﷺ کا دن ہے، وہ دن جب رحمتِ عالم ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ کچھ لوگ خوشیاں منا رہے ہیں، اور کچھ لوگ اس پر سختی سے تنقید کرتے ہوئے دوسروں کو حقیر سمجھنے پر تُلے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تقسیم کس نے ڈالی؟ کیوں ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے محبت کا اظہار کریں، جج کرنے بیٹھ جاتے ہیں؟

حضرت خبیب بن زید رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ پڑھ کر دل سے پوچھیے کیا میں اُن کی جگہ ہوتا تو نبی ﷺ کے لیے یوں نکل جاتا؟ ایک عام کجھور بیچنے والا، جو مدینے کی گلیوں میں سر پر ٹوکرا اٹھائے پھرتا تھا، عشقِ رسول ﷺ میں اس مقام تک پہنچ گیا کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور انہیں جنت کی بشارت مل گئی۔ تو پھر کسی بھی عاشقِ رسول ﷺ کا، خواہ اس کا اظہارِ محبت کسی بھی رنگ میں ہو، مذاق اڑانا یا اسے حقیر جاننا کس اصول پر جائز ہے؟

اور جو لوگ آج خوشی منا رہے ہیں، ان کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہ کر منائیں نہ غلو ہو، نہ حد سے تجاوز۔ خوشی منانے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ آج کے دن نبی کریم ﷺ کے لئے دعا کی جائے اور رعا کا طریقہ یہ ہے کہ کثرت سے درود و سلام بھیجا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا کہ فرشتے بھی نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، سو اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔
اپنے لیے، امت کے لیے، اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائیں مانگیں۔ میرے لئے توآپ ﷺ کی ذات کائنات سے بھی مقدم ہے، اور ان کی محبت میں کسی کو نیچا دکھانا، خود محبت کی روح کے خلاف ہے۔
محمد حماد
ڈاکٹر
برسبین پوسٹ ۔285

دو گھنٹے کی جدائی، ایک عمر کا سبقرات کے کسی پہر آنکھ لگی تو ایک خواب نے مجھے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں سے میں بیدار...
16/08/2026

دو گھنٹے کی جدائی، ایک عمر کا سبق
رات کے کسی پہر آنکھ لگی تو ایک خواب نے مجھے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں سے میں بیدار ہونے کے بعد بھی واپس نہ آ سکا۔ کہتے ہیں خواب تو محض ذہن کی بھول بھلیاں ہوتے ہیں، لیکن کچھ خواب دراصل دل کے دروازے پر دستک ہوتے ہیں، یہ خواب بھی ایسا ہی تھا۔
میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ، اپنے چھوٹے بھائی کی معیت میں، ایک مقامی پاکستانی بس میں سفر کر رہا تھا۔ سفر معمول کا تھا، دل مطمئن تھا، اپنوں کا ساتھ تھا۔ پھر بَس ایک پُل کے قریب رکی تو میں کچھ کسی کام سے نیچے اترا۔ چند لمحوں کا وقفہ تھا، بس اتنا کہ موبائل فون سیٹ پر ہی رہ گیا۔ اور جب واپس مڑا تو نہ بس تھی، نہ فون، نہ میری بیٹیاں، نہ بھائی۔ ایک ویرانی تھی جو میرے چاروں طرف پھیل گئی۔
اس لمحے جو کیفیت طاری ہوئی، اسےلفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔

قارئین کرام آج کے دور میں موبائل فون محض ایک آلہ نہیں رہا یہ ہماری دنیا سے، ہمارے پیاروں سے، ہمارے مالی معاملات سے جڑا ایک انمول کنکشن بن چکا ہے۔ میں نے برسوں سے جیب میں نقدی، بٹوہ کچھ نہیں رکھتا، سب کچھ اسی چھوٹے سے آلے میں سمٹا ہوا ہے۔ تو جب وہ کنکشن کٹا، تو گھبراہٹ نے میرے پورے وجود کو گھیر لیا۔ دل دھڑکنے لگا، بے بس آنکھیں ادھر ادھر اسے تلاش کرنےلگیں، اور پورے وجود میں ایک انجانی سی بےچینی سی پھیل گئی۔

پھر دور کہیں ایک مسجد کی جھلک نظر آئی۔ میں اس طرف بڑھا تو دیکھا تو ہماری آسٹریلوی مسجد کے امام صاحب وہاں موجود تھے، اور ایک جماعتِ دعوت و تبلیغ بھی وہیں ٹھہری ہوئی تھی۔ جماعت کے امیر نے اپنا فون میری طرف بڑھایا، اور میں نے کانپتے ہاتھوں سے بھائی کا نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے آواز آئی تو خبر ملی کہ فون بھی محفوظ ہے اور بیٹیاں بھی بھائی کے ساتھ ہیں۔ ایک پل میں دو گھنٹے کی اذیت اطمینان میں بدل گئی۔

مگر جیسے ہی کال ختم ہوئی، میں مسجد کے فرش پر بیٹھ کر رو پڑا۔ امیر صاحب نے حیرت سے پوچھا کہ اب تو خوشی کا موقع ہے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟ اور اس سوال نے دراصل مجھے میرے اصل مسئلے سے آشنا کروا دیا۔

میں نے عرض کیا، کیا بتاؤں امیر صاحب کہ ایک دنیاوی، فانی، ٹوٹنے والا رابطہ محض دو گھنٹے مجھ سے دور رہا تو میری روح تڑپ اٹھی، میرا سکون غارت ہو گیا، میں بےبس ہو کر رہ گیا۔ لیکن وہ رابطہ جو میری روح کا میرے خالقِ حقیقی سے ہے، وہ برسوں سے کمزور پڑ رہا ہے، اور مجھے کبھی اس کی تڑپ محسوس ہی نہیں ہوئی۔ میں نے کبھی اس گمشدگی پر آنسو نہیں بہائے۔ میں اپنے رب سے دور ہوتا چلا گیا اور مجھے خبر تک نہ ہوئی۔

یہ سن کر امیرِ جماعت نے مجھے گلے لگا لیا، اور وہ خود بھی رو پڑے۔ ہم سب نے مل کر دعا کی کہ اللہ ہمیں وہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنا تعلق اللہ کے ساتھ اسی شدت سے محسوس کریں جس شدت سے ہم کسی دنیاوی رشتے، کسی دنیاوی سہولت کے ٹوٹنے پر بےچین ہو جاتے ہیں۔ کاش ہمارا دل اس وقت بھی تڑپے جب سجدے سست پڑ جائیں، جب ذکر زبان سے دور ہو جائے، جیسے وہ فون کی جدائی پر تڑپا تھا۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔اے خالقِ کائنات، میں تجھ سے ملاقات کا خواہش مند ہوں۔ میرا رابطہ اپنے ساتھ استوار فرما دے۔ میں کمزور ہوں، بہت کمزور ہوں،مگر تیرے حضور سرِتسلیم خم کرتا ہوں۔ مجھ پر رحم فرما، مجھے وہ تڑپ عطا کر جو دنیا کی معمولی جدائی پر آتی ہے، مگر تجھ سے دوری پر بھی آئے۔

کبھی کبھار زندگی ہمیں خواب کے پردے میں وہ آئینہ دکھا دیتی ہے جو بیداری میں ہم دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارا فون کتنی دیر کے لیے گم ہوا سوال یہ ہے کہ ہمارا رب سے رابطہ کتنے برسوں سے مدھم پڑا ہوا ہے، اور ہمیں خبر تک نہیں۔ انہیں خیالات کے ساتھ آنسوؤں اور ندامت میں ڈوبی میری نیند کی ڈوری ٹوٹ گئی۔
محمد حماد
ڈاکٹر
برسبین پوسٹ ۔284

"یہ گھر میرا نہیں ہے" میری والدہ قریباً ہر سال میرے پاس آتی ہیں۔ پاکستان سے آسٹریلیا، ہزاروں میل کا سفر، صرف اس لیے کہ ،...
07/08/2026

"یہ گھر میرا نہیں ہے"
میری والدہ قریباً ہر سال میرے پاس آتی ہیں۔ پاکستان سے آسٹریلیا، ہزاروں میل کا سفر، صرف اس لیے کہ ،اپنے بیٹے اور اپنی پوتیوں کے ساتھ چار پانچ، یا کبھی چھ مہینے وقت گزار سکیں۔ وقت گزرتا ہے، دن مہینوں میں ڈھلتے ہیں، اور پھر وہی رخصتی کی گھڑی آ جاتی ہے۔
اس بار بھی وقتِ رخصت آیا اور جاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میری بیٹیوں کو گلے لگایا، بیگ سنبھالا، اور ایئرپورٹ کی طرف بڑھ گئیں۔ لیکن جانے سے پہلے ان کے منہ سے ایک جملہ نکلا جو میں پچھلے کئی دنوں سے اپنے دل میں لیے پھر رہا ہوں،"اب یہ گھر مجھے اپنا گھر سا لگنے لگا ہے۔ لیکن مجھے علم ہے کہ یہ میرا اپنا گھر نہیں ہے۔"
قارئین کرام انسان کسی بھی عمر میں پہنچ جائے، ماں کے لیے وہ بچہ ہی رہتا ہے۔ اور ماں کی جدائی، کسی بھی عمر میں ہو، دل پر بھاری ہی گزرتی ہے۔ لیکن اس دفعہ جو چیز میرے دل میں اتری، وہ صرف جدائی کا دکھ نہیں تھا۔ وہ ایک جملہ تھا جس نے مجھے میری اپنی حقیقت کا آئینہ دکھا دیا۔

آج رات میں نے عشاء کی نماز کے بعد اللہ کی بارگاہ میں سر جھکایا۔ اور میری زبان پر وہی جملہ آ گیا، یا اللہ مجھے علم ہے کہ یہ دنیا میرا گھر نہیں۔ یہ صرف میرے سفر کے راستے کا ایک پڑاؤ ہے۔ لیکن اس کے باوجود میرے دل میں اس دنیا کی محبت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہاں کا گھر مجھے اپنا لگنے لگا ہے۔ یہاں کی چیزیں مجھے اپنی لگنے لگی ہیں۔ میرا شعور جانتا ہے کہ یہ سب عارضی ہے، لیکن میرا دل اس عارضی دنیا سے مانوس ہوتا جا رہا ہے۔
میری والدہ نے میرے گھر کے بارے میں جو جملہ کہا، وہی جملہ در اصل ہر انسان کی اس دنیا کے ساتھ کہانی ہے۔ ہم سب اسی مغالطے میں جیتے ہیں کہ یہ دنیا ہمارا گھر ہے، حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ صرف ایک مسافر خانہ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو اسی حقیقت سے آگاہ فرمایا کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ چلتا راہی ہو۔ یہ الفاظ زندگی گزارنے کا ایک مکمل فلسفہ ہیں۔ ایک مسافر جانتا ہے کہ سرائے میں اس کا قیام عارضی ہے۔ وہ سرائے کو سجاتا ضرور ہے، اس میں آرام بھی کرتا ہے، مگر اس کا دل جانتا ہے کہ اصل منزل ابھی باقی ہے۔
میرا المیہ یہ ہے کہ میں سرائے کو منزل سمجھ بیٹھا ہوں۔ ہم گھر بناتے ہیں، رشتے سنوارتے ہیں، سامان جمع کرتے ہیں یہ سب جائز ہے، بلکہ ضروری ہے مگر جب دل ان چیزوں سے ایسا جڑ جائے کہ اصل گھر کی یاد ہی دھندلا جائے، تو یہی وہ لمحہ ہے جس سے میری والدہ کے آنسو مجھے خبردار کر گئے۔
وہ لمحہ جب رخصتی، رخصتی نہ لگےمیری دعا صرف یہ نہیں تھی کہ اللہ مجھے دنیا کی محبت سے پاک کر دے۔ میں نے دعا کی۔ یا اللہ جب میں اس دنیا سے رخصت ہوں، تو مجھے تجھ سے ملنے کی خوشی نصیب ہو۔ میں ایسے اعمال کروں کہ تیرے حضور پیش ہونے سے پہلے شرمسار نہ ہوں۔ میں ایسا جیوں کہ دنیا چھوڑتے وقت ایسا نہ لگے کہ میں اپنا گھر چھوڑ رہا ہوں، بلکہ ایسا لگے کہ میں اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں۔
یہی وہ فرق ہے جو ایک مومن کی موت کو باقی سب سے الگ کرتا ہے۔ ایک عام انسان کے لیے موت بچھڑنا ہے، چھن جانا ہے۔ مگر جس دل نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا ہو، اس کے لیے موت وہ گھڑی ہے جب مسافر آخرکار اپنے اصل گھر کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔
میری والدہ کے آنسوؤں نے مجھے وہ سبق دیا جو شاید کوئی واعظ، کوئی خطبہ نہ دے پاتا۔
اللہ کرے کہ ہماری کوشش ایک مسافر کی سی ہو۔ ایک ایسا مسافر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنا رہنما بنائے۔ ایک ایسا مسافر جو قرآن کی روشنی میں اپنی زندگی کے راستے متعین کرے۔ اور جب اس مسافر کی رخصتی کی گھڑی آئے، تو اس کے دل میں خوف نہیں، بلکہ اپنے اصل گھر لوٹنے کی خوشی ہو۔
آمین، یا رب العالمین۔
محمد حماد
ڈاکٹر
برسبین پوسٹ-283

12/07/2026

Spiritual institute and knowledge کیا روحانی علوم اداروں سے حاصِل کیا جانا چاہئے

09/07/2026

Negative to positive

Address

Quaid Azam Street Habib Pura Hamza Ghouse
Sialkot
0092

Opening Hours

Monday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Tuesday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Wednesday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Thursday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Friday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Saturday 21:20 - 22:20
Sunday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20

Telephone

+923117860011

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Spiritual university pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Spiritual university pakistan:

Shortcuts

Share