Spiritual university pakistan

Spiritual university pakistan "A place for your Spiritual & Inner growth" Live sessions on Zoom with authentic books on Spirituality & Sufism. Registration link in Linktree

17/05/2026
1 پیار پیام خالدہ کنول کمالیhttps://youtu.be/e_E1wSHPKTg?si=2fgxN78geWNHsZ_5شانزے کمالی کتاب اداب شیخ https://youtube.co...
16/05/2026

1 پیار پیام
خالدہ کنول کمالی
https://youtu.be/e_E1wSHPKTg?si=2fgxN78geWNHsZ_5

شانزے کمالی
کتاب اداب شیخ
https://youtube.com/?si=cXqhdwojITFfMClS

3 نصرت محمد علی
خواب زار کے پار

https://youtu.be/lndWrB13wEM?si=BGZUVksTFj2hXH4q

4 مسز شازیہ اعجاز
سخن سرا

https://youtu.be/jDOufkFvtuE?si=SrxYYLsCPcn7L2IE

5 راحیلہ جمال۔ نور مبین
حنا عنبرین۔ خیرالوریٰ
میم صدف۔ سیرا الافلاک

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

حصول رزقِ حلال عین عبادت ہے۔ جھیل کے کنارے بیٹھا وہ لمحہ محض ایک منظر نہیں تھا، ایک مکالمہ تھا،اپنے آپ سے، اپنے رب سے، ا...
03/05/2026

حصول رزقِ حلال عین عبادت ہے۔
جھیل کے کنارے بیٹھا وہ لمحہ محض ایک منظر نہیں تھا، ایک مکالمہ تھا،اپنے آپ سے، اپنے رب سے، اور اس خاموش کائنات سے جو بولتی نہیں مگر سب کچھ سنا دیتی ہے۔ سورج دھیرے دھیرے سرمئی رنگ بدلتا ہوا پانی میں اتر رہا تھا، جیسے دن اپنے اعمال کا حساب دے کر رخصت ہو رہا ہو۔ آسمان رنگ بدل رہا تھا، اور اس بدلتے ہوئے رنگ میں ایک سوال مسلسل دل میں اتر رہا تھا رزق آخر ہے کیا؟
ہم نے رزق کو بہت محدود کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں رزق صرف وہ ہے جو پلیٹ میں رکھا جاتا ہے، جو معدے میں اترتا ہے، جو جسم کو طاقت دیتا ہے۔ اسی لیے ہم حلال و حرام کی بحث کو صرف گوشت، کمائی اور کھانے تک محدود رکھتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ رزق صرف جسم کا ایندھن نہیں، روح کا نصیب بھی ہے۔
جو ہم دیکھتے ہیں، وہ بھی رزق ہے
جو ہم سنتے ہیں، وہ بھی رزق ہے
جو ہم سوچتے ہیں وہ تو سب سے گہرا رزق ہے۔
یہ آنکھیں، یہ کان، یہ دل ،یہ سب دروازے ہیں۔ اور ان دروازوں سے کیا اندر داخل ہو رہا ہے ، وہی ہماری اصل غذا ہے ہم اپنے جسم کے لیے تو اتنے محتاط ہیں کہ ایک ایک کیلوری گنتے ہیں، ایک ایک لقمہ دیکھتے ہیں، مگر روح کے معاملے میں ہماری بے احتیاطی حیران کن ہے۔ ہم گندی محفلوں میں بیٹھتے ہیں منفی گفتگو سنتے ہیں غیبت، جھوٹ، حسد یہ سب ہمارے اندر ایسے اترتے ہیں جیسے زہر رگوں میں اترتا ہے، اور ہم اسے رزق ماننے سے انکار کر تے ہیں ؟ یہ خود فریبی ہے
گناہ صرف وہ نہیں جو ہاتھ سے ہو جائے، گناہ وہ بھی ہے جو دل میں بسا لیا جائے۔ ہم کہتے ہیں “میں نے کیا تو کچھ نہیں”، لیکن آپ نے سوچا تو سب کچھ ہے۔ آپ نے اپنے ذہن کو وہی دیا جو آپ کے عمل کو جنم دے گا۔ یہی وہ باریک نکتہ ہے جسے ہم نظرانداز کرتے ہیں اور یہی ہماری تباہی کی جڑ ہے۔
حواس خمسہ صرف احساس کے ذرائع نہیں، یہ ہماری روح کے دربان بھی ہیں۔ اگر دربان ہی غافل ہو جائے، تو اندر آنے والا ہر مہمان ہماری تقدیر لکھ دیتا ہے۔ ہم حرام کھانے سے تو بچتے ہیں۔ مگر حرام خیالات سے نہیں بچتے۔ ہم شراب سے تو دور رہتے ہیں، مگر زہریلی باتوں، زہریلے لوگوں، اور زہریلے ماحول کو اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ دل بےچین کیوں ہے، سکون کیوں نہیں ملتا۔
جس طرح حرام خوراک جسم کو بگاڑتی ہے، ویسے ہی حرام خیالات روح کو سڑا دیتے ہیں۔
تصوف کوئی پراسرار راستہ نہیں، نہ ہی یہ صرف خانقاہوں کی چیز ہے۔ تصوف دراصل نگرانی ہے اپنے اندر آنے والی ہر چیز کی نگرانی۔ یہ ایک سخت ڈسپلن ہے، ایک مسلسل جنگ ہے اپنے نفس کے ساتھ۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی روح کو کیا کھلا رہے ہیں۔
کیونکہ آخر میں ہم وہی بن جاتے ہیں جو ہم مسلسل اپنے لاشعور میں ڈالتے ہیں۔
سورج مکمل غروب ہو چکا تھا۔ اندھیرا پھیل رہا تھا، مگر ایک حقیقت واضح ہو چکی تھی۔
رزق صرف روٹی نہیں، سوچ بھی ہے۔
اور سوچ کی طہارت ہی اصل نجات ہے۔
محمد حماد
ڈاکٹر
برسبین پوسٹ ۔274

کیا اللہ، آپ کے پاسپورٹ جتنا قیمتی ہے؟ یہ ​بات 2009 کی ہے، اسلام آباد کی ایک خاموش رات میں ایک سنسان بیوٹی پارلر کی تیسر...
30/04/2026

کیا اللہ، آپ کے پاسپورٹ جتنا قیمتی ہے؟
یہ ​بات 2009 کی ہے، اسلام آباد کی ایک خاموش رات میں ایک سنسان بیوٹی پارلر کی تیسری منزل پر ہم چند دوست فرش پر گدے بچھائے سو رہے تھے۔ رات دو بجے زمین زور سے لرزنے لگی۔ شدید زلزلہ تھا ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے نیچے بھاگا، میں بھی دروازے تک پہنچ گیا تھا، لیکن اچانک رک گیا..اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوبارہ گھر کے اندر کی طرف بھاگا۔
​میں نے اپنا پاسپورٹ اٹھایا اور پھر نیچے کی طرف دوڑا۔ جب زلزلہ تھما تو دوستوں نے حیرت سے پوچھا: تیرا دماغ ٹھیک ہے؟ بلڈنگ گر جاتی تو تو پاسپورٹ کو روتا؟ اپنی جان کی فکر نہیں تھی؟
​میں نے جواب دیا اس پاسپورٹ پر چائنا کا سٹوڈنٹ ویزا لگا ہوا ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے میں نے 18 سال کی عمر میں پولیس کے چکر کاٹے، کاغذات بنوائے اور کڑی محنت کی تھی۔ یہ میری محنت کا نچوڑ تھا، میں اسے ملبے میں دفن ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
​آج جب میں اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو ایک لرزہ دینے والی سوچ میرے ذہن میں آتی ہے۔ ہم جس چیز پر محنت کرتے ہیں، جسے وقت دیتے ہیں، اس سے ہمیں ایسی محبت ہو جاتی ہے کہ ہم موت کے سائے میں بھی اسے نہیں چھوڑتے۔
​لیکن ہم اللہ کو اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ دیتے ہیں؟
​جب بھی گناہ کا موقع آتا ہے، جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے، ہم اللہ کی رسی کو اتنی آسانی سے ہاتھ سے کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ کیا کبھی ہم نے سوچا؟
​شاید اس لیے کہ ہم نے کبھی اللہ کو پانے کے لیے محنت ہی نہیں کی
​ہماری عبادات محض ایک عادت بن کر رہ گئی ہیں۔
​ہم نے کبھی اپنے سکون کے وقت سے وقت نکال کر اسے تلاش ہی نہیں کیا۔
​سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کو پانے میں تھکن نہ ہو، اسے کھونے میں دکھ بھی نہیں ہوتا۔ ہم نے اللہ کو مفت میں پا لیا ہے، اس لیے اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ہمارا دل نہیں کڑھتا۔
​قارئینِ کرام اگر ایک گھر گر جائے تو انسان سڑک پر آ جاتا ہے، لیکن خدا کی قسم! اگر اللہ کا ساتھ ، ہاتھ سے چھوٹ گیا تو ہم نہ اس دنیا کے رہیں گے، نہ اگلی کسی بھی دنیا کے۔ ہم تو سڑک پر آنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔
​آئیے آج سے اللہ کو پانے کی محنت شروع کردیں۔ اسے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی متاع بنا لیں، تاکہ جب زندگی کا آخری زلزلہ آئے، تو ہمارے ہاتھ میں صرف ہماری روح نہ ہو، بلکہ اللہ کی رضا کا وہ پاسپورٹ ہو جو ہمیں ابدی کامیابی کی منزل تک پہنچا دے۔
یاَ اٴَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةّ ارْجِعِی اِٴلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً فَادْخُلِی فِی عِبَادِی وَ ادْخُلِی جَنَّتِی۔الفجر 27-30

محمد حماد
ڈاکٹر
برسبین پوسٹ ۔273

ٹیکس کا غرور انسانی نفسیات بڑی عجیب شے ہے، خاص طور پر جب اسے "ٹیکس گزار" ہونے کا خبط لاحق ہو جائے۔ ہمارے ہاں اور بیرونِ ...
29/04/2026

ٹیکس کا غرور
انسانی نفسیات بڑی عجیب شے ہے، خاص طور پر جب اسے "ٹیکس گزار" ہونے کا خبط لاحق ہو جائے۔ ہمارے ہاں اور بیرونِ ملک بھی، سرکاری ملازم کو دیکھتے ہی اکثر لوگوں کے اندر کا شہنشاہ بیدار ہو جاتا ہے اور وہ اسے اپنی جاگیر کا نوکر سمجھنے لگتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک معروف اینکر پرسن کی گرج چمک اور چیخ و پکار پر مبنی ویڈیو دیکھی تو مجھے آسٹریلیا کے ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں گزرا اپنا ایک واقعہ یاد آگیا۔
بات کچھ یوں ہے کہ ایمرجنسی میں ڈیوٹی کا ایک مصروف دن تھا، جہاں مریضوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ آسٹریلیا میں یہ عام بات ہے کہ اگر آپ کی طبیعت جانی نقصان والی حد تک خراب نہیں ہے تو آپ کو پانچ سے سات گھنٹے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی انتظار کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک پچاس پچپن سالہ صاحب آپے سے باہر ہو گئے۔ وہ ایک جونیئر خاتون ڈاکٹر پر برس رہے تھے، تمہیں میرے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ ملتی ہے میں تمہیں پال رہا ہوں میری ہمت دیکھو کہ میں تمہیں برداشت کر رہا ہوں۔
خاتون ڈاکٹر بیچاری ڈری ڈری سوری کہہ رہی تھیں اور انہیں معائنے کی دعوت دے رہی تھیں، مگر صاحب کا ٹیکس والا جن قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ میں نے مداخلت کی اور انہیں اپنے کمرے میں لے گیا۔ کمرے کا دروازہ میں نے اس لیے کھلا رکھا کہ اگر صاحب کا ٹیکس کا غصہ فزیکل وائلنس میں بدلے تو مجھے بھاگنے میں آسانی ہو۔
وہاں بھی انہوں نے وہی راگ الاپا کہ میرے پیسوں پر پلنے والے لوگ مجھے انتظار کرواتے ہیں۔ میں نے بڑے سکون سے ان سے پوچھا، سر، آپ نے آخری بار جاب کب کی تھی؟ وہ تھوڑا ہڑبڑا گئے۔ میں نے سسٹم کی سکرین ان کی طرف موڑی اور کہا، ریکارڈ بتا رہا ہے کہ آپ پچھلے سات آٹھ سال سے بیروزگار ہیں اور حکومت (سینٹر لنک) آپ کو پیسے دے کر پال رہی ہے۔ یعنی تکنیکی طور پر میری تنخواہ سے کٹنے والے ٹیکس سے آپ کا خرچہ چل رہا ہے۔ اب اگر میں کہوں کہ آپ میرے پیسوں پر پل رہے ہیں، تو کیسا لگے گا؟
یقین جانیے، وہ صاحب جو ابھی شیر بنے ہوئے تھے، ایک دم بھیگی بلی بن گئے اور معذرتیں کرنے لگے۔
یہی حال ان لیڈرز اور اینکرز کا ہے جو کیمرے کے سامنے چیخ چیخ کر لوگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ گویا وہ کوئی ماورائی مخلوق ہیں اور باقی سب ان کے زیرِ دست۔ اقرار الحسن صاحب کی ویڈیو میں جو چیخ و پکار نظر آئی، وہ اسی مریضانہ انا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم اپنی ڈیوٹی کے پیسے لیتا ہے، وہ آپ کا غلام نہیں ہے۔ اس کی اپنی ایک سیاسی رائے ہو سکتی ہے، اس کی ایک ذاتی زندگی ہے اور اسے اپنی سوچ رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اگر آپ عوامی لیڈر بننا چاہتے ہیں تو آپ میں اتنی برداشت تو ہونی چاہیے کہ تنقید سن سکیں۔ آسٹریلیا جیسے ممالک میں، جہاں اوکیپیشنل وائلنس (کام کے دوران تشدد) کا سب سے زیادہ شکار پولیس اور پھر میڈیکل عملہ اور ڈاکٹرز ہوتے ہیں، وہاں بھی قانون تب تک حرکت میں نہیں آتا جب تک بات ہاتھا پائی تک نہ پہنچے۔ گالی گلوچ یا چیخنے چلانے پر وہاں کوئی آپ کو جیل نہیں بھیجتا۔ اگر ایک پبلک فیگر کے بارے میں کوئی سرکاری ملازم اپنی نجی محفل میں یا نجی حیثیت میں کوئی بات کر دیتا ہے، تو کیا وہ گناہِ کبیرہ ہو گیا؟
کیا ہمارے یہ نام نہاد راہنما اتنے کمزور ہیں کہ ایک عام آدمی کی بات برداشت نہیں کر سکتے؟ یاد رکھیے، آپ کوئی امیر المومنین نہیں ہیں، اور اگر ہوتے بھی تو تاریخ گواہ ہے کہ لوگوں نے خلفائے راشدین کے سامنے کھڑے ہو کر ان سے سوال کیے اور تنقید کی، مگر وہاں کبھی ایسا ڈرامہ تخلیق نہیں کیا گیا۔
اگر یہ سب کچھ محض "ریچ" بڑھانے، لائکس بٹورنے اور فالوورز کی تعداد میں اضافے کے لیے ایک پلانٹڈ ڈرامہ تھا، تو یہ اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔ کسی ایسے شخص کو اس گھٹیا کھیل میں گھسیٹنا جس کا واقعے سے براہِ راست تعلق بھی نہ ہو، صرف اس لیے کہ آپ کی ویڈیو وائرل ہو جائے، صحافت ہے نہ سیاست۔
قارئین کرام ! دوسروں کو ٹیکس کے پیسوں کا طعنہ دینے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں آپ کی اپنی انا کی دکان دوسروں کے جذبات کی تجارت پر تو نہیں چل رہی؟ سیاست اور عوامی خدمت کے لیے بڑے گردے کی ضرورت ہوتی ہے، کیمرے کے سامنے چھوٹے دل کے ساتھ چیخنے سے کوئی قد آور نہیں بن جاتا۔
عزت، ٹیکس سے نہیں، رویے سے کمائی جاتی ہے۔اور جو شخص اپنے رویے پر قابو نہیں رکھ سکتا، وہ کسی نظام، کسی عہدے، اور کسی سچ کا نمائندہ نہیں ہو سکتا۔
چیخنے سے سچ اونچا نہیں ہوتا ،صرف شور بڑھتا ہے۔
محمد حماد
ڈاکٹر
برسبین پوسٹ ۔272

22/04/2026

یہ متن **قرآن مجید** کے بائیسویں پارے کے منتخب حصوں کے **اردو ترجمہ** پر مشتمل ہے، جس میں ایمانیات اور اخلاقیات کے اہم پہلو اجاگر کیے گئے ہیں۔ اس میں **ازواجِ مطہرات** کے لیے مخصوص آداب، **اہلِ بیت** کی پاکیزگی اور مومن مردوں و عورتوں کے لیے **عظیم اجر** کا وعدہ بیان ہوا ہے۔ تحریر میں **حضرت محمد ﷺ** کے مقامِ ختمِ نبوت، اللہ کی وحدانیت اور کائنات میں اس کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ مزید برآں، یہ ذرائع **قیامت** کی حقیقت، سابقہ قوموں کے انجام اور نیک اعمال کے ذریعے ملنے والی **اخروی کامیابی** کی وضاحت کرتے ہیں۔ آخر میں **سورہ یٰسین** کی ابتدائی آیات کے ذریعے رسالت کی سچائی اور ہدایت کے راستے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ مجموعی طور پر انسانی زندگی کے لیے **الٰہی رہنمائی** اور اخلاقی اصلاح کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔

Address

Quaid Azam Street Habib Pura Hamza Ghouse
Sialkot
0092

Opening Hours

Monday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Tuesday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Wednesday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Thursday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Friday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20
Saturday 21:20 - 22:20
Sunday 06:00 - 07:00
21:20 - 22:20

Telephone

+923117860011

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Spiritual university pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Spiritual university pakistan:

Share