Professor History

Professor History حقائق سے بھر پور تاریخی واقعات۔

رولا دینے والا واقعہ😢😢   حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ ...
15/05/2026

رولا دینے والا واقعہ😢😢
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔

لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ کلبی پر پڑی۔ آپؐ ﷺنے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن
نوجوان ہے۔

آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔

پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ کلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛

اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ کلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم❤️❤️ ، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ کلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟

حضرت دحیہ کلبی فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ،ﷺ میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔

دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟

میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،❤️ میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔

یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ کلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛

اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔

حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔

ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ کلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں

۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔

آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم❤️ دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛

بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔

آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔

بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️ میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛

اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔

یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے

اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔

اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم❤️ ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟

بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں
واللہ اعلم بالصواب. کوئی غلطی ہوئی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین.

کتاب" تنبیہات اسلام" سلسلہ نمبر 272 میں واقع ہے، ؟

روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی کل عمر 960 سال یا 1000 سال تھی۔ وفات سے پہلے آپؑ نے اپنے بیٹے حضرت شیثؑ کو بلایا...
11/05/2026

روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی کل عمر 960 سال یا 1000 سال تھی۔

وفات سے پہلے آپؑ نے اپنے بیٹے حضرت شیثؑ کو بلایا اور انہیں تمام ضروری علوم، اوقاتِ عبادت اور آنے والے طوفانِ نوحؑ کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا۔

آپؑ نے حضرت شیثؑ کو نصیحت کی تھی کہ وہ اپنی نسل کو اللہ کی اطاعت پر قائم رکھیں۔

​​جمعہ کا دن:
حضرت آدمؑ کی پیدائش بھی جمعہ کو ہوئی، زمین پر نزول بھی جمعہ کو ہوا اور آپؑ کی وفات بھی جمعہ کے دن ہی ہوئی۔

تاریخی روایات (جیسے تاریخِ طبری اور البدایہ والنہایہ) کے مطابق، حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی میں ان کی نسل بہت تیزی سے پھیلی۔

​مفسرین اور مورخین بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی وفات تک ان کی اولاد، پوتوں، پڑپوتوں اور ان کی نسل کی

مجموعی تعداد 40 ہزار (کچھ روایات میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زائد) تک پہنچ چکی تھی۔

​حضرت حواؑ کے ہر بطن سے جڑواں بچے (ایک لڑکا اور ایک لڑکی) پیدا ہوتے تھے۔

روایات کے مطابق حضرت حواؑ کے 20 بطن (40 بچے) یا بعض روایات کے مطابق 120 بطن ہوئے تھے۔

​​حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے وقت ان کے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کا دورِ نبوت شروع ہو چکا تھا بلکہ وہ حضرت آدمؑ کے جانشین مقرر ہو چکے تھے۔

​حضرت آدمؑ نے اپنی وفات سے قبل حضرت شیثؑ کو اپنا وصی اور جانشین مقرر کیا تھا۔ انہیں اللہ کی طرف سے 50 صحیفے عطا کیے گئے تھے۔

​حضرت شیثؑ نے اپنے والد کی وفات کے بعد اللہ کے دین کی تبلیغ جاری رکھی اور لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اور شریعتِ آدمؑ کی تعلیم دی۔

​حضرت ادریسؑ، حضرت آدمؑ کی وفات کے کافی عرصہ بعد تشریف لائے تھے،

تاہم حضرت آدمؑ نے اپنی زندگی میں اپنی نسل میں آنے والے بعض انبیاء کا ذکر غیب کی خبروں کے طور پر سنا رکھا تھا۔

آپؑ کی قبرِ مبارک کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ کے مطابق آپؑ مکہ میں جبلِ ابو قبیس کے پاس دفن ہیں،

جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ طوفانِ نوحؑ کے وقت حضرت نوحؑ نے آپؑ کا تابوت اپنی کشتی میں رکھ لیا تھا

اور بعد میں اسے بیت المقدس یا خلیل (فلسطین) میں دفن کیا گیا۔

​​حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد ان کی اولاد دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی.

​شیثؑ کی اولاد:
یہ لوگ پہاڑوں پر رہتے تھے، پرہیزگار تھے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے۔

​قابیل کی اولاد:
یہ لوگ میدانوں میں رہتے تھے اور ان میں برائیاں اور گناہ پھیلنے لگے تھے۔

حضرت شیثؑ نے برسوں تک ان دونوں گروہوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کی کوشش کی،

لیکن قابیل کی اولاد آہستہ آہستہ شرک اور فساد کی طرف مائل ہوگئی۔

​​حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد حضرت شیثؑ پر اللہ نے 50 صحیفے نازل فرمائے۔

آپؑ نے ہی سب سے پہلے کپڑا بننا اور تجارت کرنا سکھایا۔

آپؑ کی شریعت میں نکاح کے قوانین کو مزید واضح کیا گیا

تاکہ بھائی بہن کے درمیان نکاح (جو آغاز میں مجبوری کی بنا پر جائز تھا) کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے.

فاتحِ ہند شہاب الدین غوری اور معرکہِ ترائن: جب غرورِ ہند خاک میں ملاتاریخِ عالم میں بعض معرکے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے محض...
10/05/2026

فاتحِ ہند شہاب الدین غوری اور معرکہِ ترائن: جب غرورِ ہند خاک میں ملا
تاریخِ عالم میں بعض معرکے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے محض ملکوں کی سرحدیں ہی نہیں بدلیں بلکہ تہذیبوں اور نظریات کے رخ موڑ دیے۔ 1192ء میں لڑا جانے والا ترائن کا دوسرا معرکہ بھی ایک ایسا ہی تاریخ ساز موڑ تھا جس نے ہندوستان میں مستقل اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس جنگ کا مرکزی کردار سلطان شہاب الدین غوری تھا، وہ مردِ مجاہد جس کا مقصود نہ مالِ غنیمت کا حصول تھا اور نہ ہی محض ملک گیری کی ہوس، بلکہ اس کی تگ و دو کا محور صرف اعلائے کلمۃ اللہ تھا۔ سلطان کی شخصیت کا خاصہ یہ تھا کہ وہ تخت و تاج کے شائق ہونے کے بجائے درویش صفت سپاہی تھے، جو میدانِ کارزار میں اپنے لشکریوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر رہتے کہ اجنبی کے لیے سلطان اور عام سپاہی میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب پرتھوی راج چوہان نے حملہ کیا تو وہ سلطان کی سادگی کی وجہ سے انہیں پہچاننے میں ناکام رہا۔
ترائن کی پہلی جنگ میں شکست کھا کر سلطان غوری خاموش نہیں بیٹھے تھے بلکہ ان کے دل میں حق کی سربلندی کی تڑپ مزید دوچند ہو گئی تھی۔ دوسری طرف پرتھوی راج چوہان پہلی فتح کے بعد تکبر کے نشے میں چور ہو چکا تھا اور اس نے رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے تھے۔ جب 1192ء میں دونوں افواج دوبارہ مدمقابل آئیں تو پرتھوی راج کی کثیر فوج، جو بظاہر ناقابلِ تسخیر معلوم ہوتی تھی، اسلامی لشکر کے عزم و استقلال کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ شکست کے آثار دیکھتے ہی پرتھوی راج نے ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہونے کی کوشش کی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک غوری سپہ سالار نے اسے عین اسی عالم میں گرفتار کر لیا اور سلطان کے سامنے پیش کر دیا۔ جس پرتھوی راج کے سر میں کل تک شہنشاہیت کا سودا تھا، آج وہ شہاب الدین غوری کے سامنے دونوں گھٹنوں کے بل ایک قیدی کی حیثیت میں جھکا ہوا تھا۔
سلطان غوری نے فاتحانہ وقار کے ساتھ جب پرتھوی راج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کہ "اگر آج تو مجھے گرفتار کر لیتا تو میرے ساتھ کیا سلوک کرتا؟" تو مغلوب راجہ نے اپنے شاہانہ مزاج کے مطابق جواب دیا کہ "میں تیرے لیے سونے کا ایک قید خانہ بنواتا اور تجھے اس میں رکھتا۔" اس پر سلطان نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ "لیکن ہم تیرے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ایک جنگی قیدی کا مقدر ہوتا ہے۔" اس فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو بے پناہ مالِ غنیمت حاصل ہوا۔ مورخین، بالخصوص ابنِ اثیر کے مطابق، اس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ چودہ ہزار ہاتھی آئے۔ سلطان نے ان میں سے اس خاص ہاتھی کو اپنے پاس رکھا جس نے پہلی جنگِ ترائن میں انہیں زخمی کیا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ سلطان اپنی ہر چوٹ اور ہر آزمائش کو یاد رکھتے تھے تاکہ اسے فتح کی شکر گزاری میں بدل سکیں۔
جب پرتھوی راج کو اپنی موت سامنے نظر آئی تو اس نے جان بچانے کے لیے سلطان کو لالچ دینے کی کوشش کی۔ اس نے پیشکش کی کہ وہ ہندوستان کا بادشاہ بننے میں سلطان کی مدد کرے گا اور اتنا مال و دولت دے گا کہ پورے لشکر کے گھوڑے بھر جائیں گے۔ سلطان اسے ساتھ لے کر اجمیر میں واقع اس کے قلعے پہنچے، جہاں نوکر چاکر اور بے پناہ آسائشیں موجود تھیں۔ سلطان نے اس قلعے میں داخل ہوتے وقت پرتھوی راج کو اسی ہاتھی پر باندھ کر بٹھایا جس سے اتر کر وہ بھاگ رہا تھا۔ غوری لشکر نے تیزی کے ساتھ گرد و نواح کے تمام شہروں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ آخر کار، سلطان نے اسی قلعے میں سب کی موجودگی میں پرتھوی راج کے انجام کا فیصلہ کیا اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچا کر تمام مفتوحہ علاقوں کا نظم و ضبط اپنے وفادار سپہ سالار قطب الدین ایبک کے سپرد کر دیا۔ شہاب الدین غوری، جس کے پیشِ نظر صرف اللہ کا دین تھا، سب کچھ ایبک کے حوالے کر کے خود واپس غزنی کی سادہ زندگی کی طرف لوٹ گئے، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ مومن کی اصل منزل دنیاوی مال و منال نہیں بلکہ شہادت اور حق کی فتح ہے۔

کیا پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنی عوام کیلئے ایٹمی حملے سے بچاؤ کے لیے بنکرز بناتا ہے؟ 🤔دنیا کے کچھ ممالک نے اپ...
10/05/2026

کیا پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنی عوام کیلئے ایٹمی حملے سے بچاؤ کے لیے بنکرز بناتا ہے؟ 🤔

دنیا کے کچھ ممالک نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے بہت مضبوط نظام بنایا ہوا ہے، ان میں سوئٹزرلینڈ ایک خاص مثال ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں تقریباً 3.7 لاکھ زیرِ زمین شیلٹرز موجود ہیں، اور قانون کے مطابق ہر شہری کے لیے کسی نہ کسی محفوظ بنکر تک رسائی لازمی ہے۔
یہ شیلٹرز صرف جنگ کے لیے نہیں بلکہ ہنگامی حالات، بمباری یا آفات میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہاں کے کئی بنکر آج کل اسٹور روم یا عام استعمال کی جگہ بن چکے ہیں۔
پاکستان جیسے ایٹمی ممالک میں بھی دفاعی نظام موجود ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے سوئٹزرلینڈ جیسا بنکر سسٹم نہیں بنایا گیا۔ یہ فرق پالیسی اور معاشی ترجیحات کی وجہ سے ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں ایسے نظام کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے؟
آپ کی رائے کیا ہے، کیا پاکستان میں بھی شہریوں کے لیے ایسے حفاظتی شیلٹرز ہونے چاہئیں؟ 💬

(حقیقت کی جستجو؛ ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)ایڈم سمتھ بولا! Adam Smith دنیا کا سسٹم مسابقت/compiti...
10/05/2026

(حقیقت کی جستجو؛ ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)

ایڈم سمتھ بولا! Adam Smith

دنیا کا سسٹم مسابقت/compitition پر قائم ہے۔ جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود خوشحال ہو جائے گا۔ یہی سرمایہ داری نظام capitalism کا حسن ہے۔ آزاد منڈیindipendent trade میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔

کارل مارکس نے کہا! Karl marks

مگر یہ کیسا حسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف machine کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ تمہاری آزاد منڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیجGap between rich and poor بڑھتی ہی جاتی ہے۔ سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصالexploitation کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں۔

ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):Adam smith

دیکھو، یہ تگ و دوHardworking ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ اسی مسابقت میں ترقی کا راز Secret of success پوشیدہ ہے۔

کارل مارکس (تلخ لہجے میں):

یہی تو تمہارا دھوکہFraud ہے! محنت کشوں کو ان کی محنت کا پورا صلہreward کبھی نہیں ملتا۔ سرمایہ دار ان کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں۔ تمہاری مسابقت rivalry دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکزcentured ہو جاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے۔ یہی تو ظلم ہے، اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلابrevolution فرض ہو جاتا ہے۔

ایڈم سمتھ (سرگرداں ہو کر):

رُکو بھائی! کون سا دھوکہ، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت،class discrimination یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آ رہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے۔ پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے۔ وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔Patiencs pays off

کارل مارکس (غصہ ہو کر):

انہیں تو آپ رہنے ہی دیجیے۔ ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے۔ یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں۔ یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔Reject

(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں)

سمتھ صاحب! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا، جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے۔ اور مارکس...! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بخوبی پہچانا، کمال کر دیا۔ تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا۔ لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظرانداز کیا، بہت ہی بُرا کیا۔ انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے۔ جسم کی طرح روحSoul کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب کو رد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے۔

کارل مارکس (حیران ہو کر):

عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا؟ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟

شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):

یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت (Default Version) میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصافJustice and fairness قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزاد منڈی کو قبول کرتا ہے، اور نہ ہی تمہارے انقلاب کی بے روح مادیتMaterialism کو۔ یہ تو انسان کے جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اٹھاتا ہے۔ دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے۔

ایڈم سمتھ (مُخِل ہوتے ہوئے):

شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہےLife is a war۔ یہاں طاقتور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت ہے،Power and respect is with money شہرت ہے، اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے۔ نیز سرمایہ ہی اصلReality ہے۔ محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیونکہ اس کے پاس Bargaining Power نہیں ہوتی۔

شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں): سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں، محبت نظر آئے گی۔ آپ جان پائیں گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہےUnfair distribution۔ طاقتور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقتCompitition تو تب ہوگی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ دولت کمانے میں حرج نہیں .... لیکن اس کے لیے اساسbase foundation محنت ہونی چاہیے۔ محنت سرمایہ کا معاون نہیں، سرمایہ محنت کا معاون ہے۔ جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے۔ یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔

ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب..!!

کارل مارکس (سوچ میں پڑ کر): یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹلزم کے ردعمل میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہ کیا ہوتا ... میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی!

شاہ ولی اللہ (اطمینان سے): یہی مکالمے کا حسن ہے! سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور

مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!

✍️

‏آج وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دو ممالک کو واضح اور سخت پیغامپاکستان  کے وزیر خارجہ و ڈپٹی پرائم منسٹر اسحٰق ڈار نے بڑا سخت...
10/05/2026

‏آج وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دو ممالک کو واضح اور سخت پیغام

پاکستان کے وزیر خارجہ و ڈپٹی پرائم منسٹر اسحٰق ڈار نے بڑا سخت اور غیر معمولی بیان دیا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست میں کئی نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
اس بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ سعودی عرب، پاکستان
‏کے لئے “ریڈ لائن” ہے، اور اگر کسی نے بھی سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے یا اس کی طرف جارحانہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدوں کے تحت پوری طاقت کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

پاکستان کے اس بیان کو سعودی سوشل میڈیا اور سعودی حکومتی اہم لوگ زورو شور سے ‏پھیلا رہے ہیں، اسے ہر جگہ شئیر کر رہے ہیں اور فخر محسوس کر رہے ہیں لیکن پاکستان کے اس بیان کا پس منظر بہت کچھ بیان کرتا ہے۔
کیونکہ خلیج میں جنگ لگی ہوئی ہے اور عرب دنیا اب پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ایران کو پہلے جیسا دشمن نہیں سمجھتی، جیسے ماضی مین سمجھا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ سفارتی
‏حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ آخر پاکستان نے اتنا واضح اور دوٹوک پیغام دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر بکھرنے نہ پائے۔ اسلام آباد بخوبی جانتا ہے کہ اگر سعودی عرب کسی براہِ راست ‏عسکری دباؤ یا حملے کی زد میں آیا تو پورا خلیجی نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت، توانائی سپلائی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں پر بھی پڑیں گے۔ جب کہ اب سعودیہ اور ایران کے مفادات اور دشمن مشترکہ ہونا شروع ہو چکے ہیں تو سعودیہ کو ایران سے پہلے جیسا ‏خطرہ نہیں لیکن ایک خطرہ نیا پیدا ہو رہا ہے وہ کیا ہے؟
اسی دوران متحدہ عرب امارات کے حوالے سے بھی کئی دلچسپ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امارات بتدریج اُس “مسلم بلاک” سے فاصلے پر چلا گیا ہے جو کبھی مشترکہ دفاعی اور سیاسی مؤقف کی بات کرتا تھا، امارات کی علاقائی ‏پالیسیوں، اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات، اور بعض حساس معاملات میں آزادانہ سفارتی راستہ اختیار کرنے سے اسے خلیجی صف بندی سے مختلف مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ امارات نے خطے میں بیک وقت بہت زیادہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، کبھی ثالث، کبھی سرمایہ کار، کبھی ‏سکیورٹی پارٹنر، اور کبھی نئی علاقائی صف بندی کا معمار۔ مگر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہر عمل کا ردعمل بھی ہوتا ہے، اور اب شاید ابوظہبی انہی پیچیدہ پالیسیوں کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستانی حلقے اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ اسلام آباد نے امارات کے خلاف کوئی بساط بچھائی
‏ان کے مطابق پاکستان صرف یہ چاہتا ہے کہ خلیجی دنیا میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور کوئی بھی ایسا بحران پیدا نہ ہو جو پورے مسلم خطے کو مزید تقسیم کر دے۔
لیکن ایک بات کی حقیقیت موجود ہے امارت اس وقت اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اس وقت صرف ‏جنگوں کا نہیں بلکہ نئی صف بندیوں، بدلتی وفاداریوں کا میدان بن چکا ہے، جہاں ہر بیان اپنے اندر کئی پوشیدہ پیغامات رکھتا ہے۔ اور سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ پیغام کس کو دیا گیا ہے۔ امارات یہ بھی جانتا ہے کہ ایران اگر چاہے تو دوبئی پورٹ غیر فعال کر سکتا ہے، جب چاہے وہاں ڈرون
‏مار کر ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے، جیسا کہ 2 دن قبل ہوا۔ لیکن اس سے سرمایہ کار بھاگ جائیں گے، امارات اب یہ جان چکا ہے کہ ایران کو ایسا کرنے سے امریکہ یا اسرائیل نہیں صرف پاکستان روک سکتا ہے۔ لیکن یہ سمجھنے میں بہت دیر کر دی، لیکن پانی ابھی سر سے گزرا نہیں ہے۔ 😘
الحمدللہ مارخور جب ٹھوکتا ہے تو سب کو نظر آتا ہے
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

بحرِ ظلمات کی لہریں اور ایک گھڑ سوار: وہ کمانڈر جس کے لیے زمین ختم ہو گئی!تصور کریں... سال 682 عیسوی کا اواخر ہے۔ براعظم...
10/05/2026

بحرِ ظلمات کی لہریں اور ایک گھڑ سوار: وہ کمانڈر جس کے لیے زمین ختم ہو گئی!

تصور کریں... سال 682 عیسوی کا اواخر ہے۔ براعظم افریقہ کا انتہائی مغربی اور غیر دریافت شدہ ساحل (موجودہ مراکش کا علاقہ 'سوس الاقصٰی')، جہاں زمین اپنی طبعی حدود ختم کر دیتی ہے اور 'بحرِ ظلمات' (Atlantic Ocean) کی سیاہ اور بپھری ہوئی لہریں شروع ہوتی ہیں۔ مصر سے لے کر اس ساحل تک ہزاروں میل کا سنگلاخ، کٹھن اور خونریز جنگی سفر طے کرنے کے بعد، ایک عرب کمانڈر اپنی تھکی ہوئی مگر منظم پیادہ اور گھڑ سوار فوج کے ساتھ اس آخری جغرافیائی سرحد پر کھڑا ہے۔

وہ کمانڈر اپنی پیش قدمی روکنے اور خیمے لگانے کے بجائے، ایک انتہائی غیر متوقع عسکری قدم اٹھاتا ہے۔ وہ اپنے جنگی گھوڑے کو ایڑ لگاتا ہے اور اسے سیدھا بحرِ اوقیانوس کی خوفناک لہروں میں اتار دیتا ہے۔ پانی گھوڑے کے سینے تک آ جاتا ہے۔ لہروں کے اس شور اور طوفانی ہواؤں کے درمیان، وہ کمانڈر اپنی تلوار آسمان کی طرف بلند کرتا ہے اور ایک خالص عسکری اور ریاستی اعلان کرتا ہے:

"اے اللہ! تو گواہ رہنا کہ اگر یہ سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری زمین کے آخری کنارے تک ان لوگوں سے لڑتا چلا جاتا جو تیری حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے!"

یہ کسی جدید ڈرامے کا خیالی سین یا جذباتی مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ اسلامی عسکری تاریخ کی سب سے طویل اور کٹھن زمینی مہم کی 100 فیصد مستند اور ٹھوس زمینی حقیقت ہے۔ یہ کہانی ہے خلافتِ امویہ کے سب سے عظیم، سخت گیر اور تزویراتی (Strategic) ملٹری کمانڈر، 'عقبہ بن نافع الفہری' (Uqba ibn Nafi) کی، جنہوں نے شمالی افریقہ (Maghreb) کا جغرافیہ، سیاست اور تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی۔

خاندانی پس منظر اور ابتدائی عسکری تربیت
عقبہ بن نافع کا تعلق مکہ کے قبیلہ قریش کی شاخ بنو فہر سے تھا۔ وہ مشہور مسلم سپہ سالار اور مصر کے فاتح، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ان کی جسمانی ساخت ایک روایتی اور سخت گیر صحرائی جنگجو جیسی تھی—انتہائی مضبوط، کھردرے خدوخال، اور مسلسل جنگی مہمات کی وجہ سے ان کے مزاج میں ایک ٹھوس عسکری سختی (Austere and unyielding nature) موجود تھی۔

ان کا عسکری کیریئر خلافتِ راشدہ کے دور میں شروع ہوا جب انہوں نے اپنے چچا کے زیرِ کمان مصر، برقہ (Cyrenaica) اور طرابلس (Tripoli) کی ابتدائی فوجی مہمات میں حصہ لیا۔ ان مہمات نے انہیں شمالی افریقہ کے پیچیدہ جغرافیے اور مقامی بربر (Berber) قبائل کی جنگی تکنیک (Hit-and-run tactics) کا ماہر بنا دیا۔

قیروان کا قیام: ایک تزویراتی (Strategic) ماسٹر اسٹروک (670 عیسوی)
سال 670 عیسوی میں، اموی خلیفہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عقبہ بن نافع کو افریقیہ (موجودہ تیونس) کا باقاعدہ گورنر اور ملٹری کمانڈر مقرر کیا۔ اس وقت تک مسلمانوں کے فوجی کیمپ ساحلی علاقوں میں ہوتے تھے، جن پر بازنطینی (رومی) بحریہ کی طرف سے اچانک حملوں کا شدید خطرہ رہتا تھا۔

عقبہ بن نافع نے ایک خالصتاً عسکری اور تزویراتی فیصلہ کیا۔ انہوں نے ساحل سے دور اور پہاڑوں سے فاصلے پر (تاکہ بربر قبائل کے چھاپہ مار حملوں سے بچا جا سکے) ایک گھنے اور خطرناک جنگل کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ اس جنگل کو کاٹ کر صاف کیا جائے۔ اس مقام پر انہوں نے 'قیروان' (Kairouan) کے نام سے ایک مستقل فوجی چھاؤنی (Garrison city) کی بنیاد رکھی۔ قیروان کا یہ قیام شمالی افریقہ میں مسلمانوں کا پہلا مستقل جغرافیائی اور لاجسٹک مرکز ثابت ہوا، جس نے اگلے کئی سو سالوں تک اندلس (اسپین) اور افریقہ کی فتوحات کو سپلائی لائن فراہم کی۔

داخلی سیاست، معزولی اور عسکری اختلاف
کہانی میں 100% تاریخی حقیقت کو برقرار رکھتے ہوئے اس داخلی ریاستی سازش اور سیاسی کشمکش کا ذکر کرنا ضروری ہے جس نے عثمانی یا اموی تاریخ کے ہر بڑے کمانڈر کا پیچھا کیا۔

عقبہ بن نافع مقامی بربر قبائل کے ساتھ انتہائی سختی اور خالص عسکری طاقت کے استعمال پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی اس سخت گیر پالیسی سے مصر کے نئے گورنر، مسلمہ بن مخلد کو اختلاف تھا۔ 673 عیسوی میں، مسلمہ نے خلیفہ کو قائل کر کے عقبہ کو ان کی کمان سے معزول کر دیا اور ان کی جگہ 'ابو المہاجر دینار' کو نیا کمانڈر بنا کر بھیجا۔ ابو المہاجر کی حکمتِ عملی سفارتی تھی؛ اس نے طاقتور بربر سردار 'کسیلہ' (Kusaila) کے ساتھ اتحاد کیا اور اسے مسلمان کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ معزولی کے اس عرصے کے دوران عقبہ بن نافع کو انتہائی سخت حالات میں قید یا نظر بند رکھا گیا۔

کمان کی واپسی اور بحرِ ظلمات کا عظیم مارچ (681 عیسوی)
یزید بن معاویہ کے خلیفہ بننے کے بعد، 681 عیسوی میں عقبہ بن نافع کو دوبارہ افریقیہ کی عسکری کمان سونپ دی گئی۔ قیروان واپس آتے ہی انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ ابو المہاجر دینار کو بیڑیوں میں جکڑ دیا اور بربر سردار 'کسیلہ' کو گرفتار کر کے اس کی شدید تحقیر کی (یہ وہ سیاسی اور عسکری فیصلہ تھا جس کا انجام انتہائی خونی ثابت ہوا)۔

یہاں سے عقبہ بن نافع نے اپنی زندگی کی سب سے طویل اور خطرناک عسکری مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے قیروان سے مغرب کی طرف ایک عظیم مارچ (The Great Western Expedition) شروع کیا۔ ان کی فوج نے اطلس کے دشوار گزار پہاڑوں (Atlas Mountains) کو عبور کیا، راستے میں بازنطینی سلطنت کے بچے کھچے قلعوں کو فتح کیا، اور الجیریا سے ہوتے ہوئے موجودہ مراکش (Morocco) کے علاقے طنجہ (Tangier) تک پہنچ گئے۔ یہیں سے وہ جنوب کی طرف مڑے اور سوس الاقصٰی کے ساحل پر پہنچ کر انہوں نے اپنے گھوڑے کو بحرِ ظلمات کی لہروں میں اتارا۔

معرکہِ تہودہ اور آخری مزاحمت (683 عیسوی)
سمندر تک پہنچنے کے بعد، واپسی کے سفر پر عقبہ بن نافع سے ایک انتہائی خطرناک تزویراتی (Tactical) غلطی ہوئی۔ 683 عیسوی میں، جب ان کی فوج 'تہودہ' (Vescera/Biskra - موجودہ الجیریا) کے سنگلاخ علاقے سے گزر رہی تھی، تو عقبہ نے یہ سوچ کر کہ اب دشمن کی کمر ٹوٹ چکی ہے، اپنی بھاری فوج کو قیروان کی طرف آگے روانہ کر دیا اور خود محض 300 ایلیٹ جنگجوؤں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔

اسی دوران، گرفتار بربر سردار 'کسیلہ' (Aksil) ان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اس نے مقامی بربر قبائل اور بازنطینی فوج کی باقیات کو اکٹھا کر کے 50,000 سے زائد کی ایک دیوہیکل فوج تیار کی اور تہودہ کے مقام پر عقبہ بن نافع کے اس 300 افراد کے مختصر دستے کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔

جب عقبہ بن نافع نے دیکھا کہ موت یقینی ہے اور چاروں طرف دشمن کا سمندر ہے، تو انہوں نے ہتھیار ڈالنے یا مذاکرات کرنے سے قطعی انکار کر دیا۔ انہوں نے اور ان کے 300 سپاہیوں نے اپنی تلواروں کی میانیں (Scabbards) توڑ کر پھینک دیں (جو اس دور کی عسکری روایت میں 'مرتے دم تک لڑنے' اور پیچھے نہ ہٹنے کا حتمی اعلان تھا)۔ ایک انتہائی خوفناک اور غیر متوازن قریبی محاذ آرائی (Close-quarters combat) ہوئی، جس میں عقبہ بن نافع، ابو المہاجر دینار (جو ان کے ساتھ قیدی کی حیثیت سے تھے اور آخری وقت میں زنجیریں توڑ کر ان کے شانہ بشانہ لڑے)، اور تمام 300 مسلمان جنگجو لڑتے ہوئے میدانِ جنگ میں مارے گئے۔

آج بھی الجیریا کے شہر سیدی عقبہ (Sidi Okba) میں اس عظیم سالار کی قبر موجود ہے، جو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اموی سلطنت کی سرحدوں کو سمندر کے کناروں تک پہنچانے والے اس جرنیل نے آخری سانس تک اپنی تلوار نہیں رکھی۔

تاریخی حوالہ جات: عبد الرحمٰن ابن عبد الحکم (فتوح مصر والمغرب)، احمد بن یحییٰ البلاذری (فتوح البلدان)، عزالدین ابن اثیر (الکامل فی التاریخ)، ابن عذاری المراکشی (البیان المغرب فی اخبار اندلس والمغرب)، ابن خلدون (تاریخ ابن خلدون / کتاب العبر)، اور شہاب الدین النویری (نہایۃ الأرب فی فنون الأدب)۔

سال 1326 عیسوی۔ اناطولیہ میں واقع 'برسا' (Bursa) کا نو فتح شدہ قلعہ۔ سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کا انتقال ہو چکا ...
10/05/2026

سال 1326 عیسوی۔ اناطولیہ میں واقع 'برسا' (Bursa) کا نو فتح شدہ قلعہ۔ سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کا انتقال ہو چکا تھا اور نوزائیدہ ریاست ایک انتہائی سنگین آئینی اور جغرافیائی دوراہے پر کھڑی تھی۔ قدیم وسطی ایشیائی اور ترکمان ریاستی روایات کے تحت، بانی کی موت کے بعد ریاست کے تمام علاقوں اور عسکری طاقت کو اس کے بیٹوں کے درمیان برابر تقسیم کیا جانا لازمی تھا۔ عثمان کے دو بیٹے، اورحان اور علاء الدین، ریاستی خیمے میں موجود تھے۔ اورحان نے اس قدیم روایت کے تحت علاء الدین کو ریاست کا آدھا جغرافیائی حصہ اور آزاد حکمرانی کی پیشکش کی۔ لیکن علاء الدین نے ایک ایسا غیر متوقع اور ٹھوس سیاسی فیصلہ کیا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم کو سختی سے مسترد کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ جغرافیائی تقسیم ریاست کی عسکری اور سیاسی مرکزیت (Centralization) کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے سلطنت کی واحد اور غیر منقسم کمان اورحان غازی کے حوالے کر دی اور خود ماتحت رہ کر ریاست کا انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی ذمہ داری لی۔ یہ علاء الدین پاشا تھے، سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے باقاعدہ 'وزیرِ اعظم' (Grand Vizier)، جن کے اس ایک ٹھوس آئینی فیصلے نے عثمانی ریاست کو دیگر چھوٹی ترکمان ریاستوں (Beyliks) کی طرح بکھرنے سے بچا لیا اور اسے ایک عالمی سلطنت بننے کی بنیاد فراہم کی۔

خاندانی پس منظر اور جسمانی خدوخال
علاء الدین پاشا عثمان غازی کے بیٹے تھے۔ تاریخی دستاویزات میں ان کی والدہ کے حوالے سے دو آراء موجود ہیں؛ بعض کے نزدیک وہ رابعہ بالا خاتون کے بیٹے تھے اور بعض کے نزدیک مالہون خاتون کے، تاہم ان کا اورحان غازی کا سگا یا سوتیلا بھائی ہونا ایک مستند تاریخی حقیقت ہے۔
عثمانی تاریخ کے ابتدائی حوالوں (جیسے عاشق پاشا زادہ کی تاریخ) کے مطابق، علاء الدین کے جسمانی خدوخال خالص اناطولیائی ترکمان تھے۔ ان کا قد درمیانہ، جسمانی ساخت انتہائی گٹھی ہوئی (sturdy build)، اور چہرے کی ہڈیاں (cheekbones) نمایاں تھیں۔ اورحان غازی کی خالص جنگجویانہ اور عسکری ہیئت کے برعکس، علاء الدین کی نشست و برخاست میں ایک منتظم (Administrator) اور قانون دان کا ٹھوس جمود تھا۔ ان کا لباس انتہائی سادہ لیکن اعلیٰ معیار کی اونی اور سوتی کتان پر مشتمل ہوتا تھا، اور وہ سر پر ابتدائی عثمانی طرز کا سادہ عمامہ پہنتے تھے۔

پہلے وزیر کا تقرر اور ریاستی مرکزیت (1326 عیسوی)
عثمان غازی کے دور میں عثمانیوں کے پاس کوئی باقاعدہ شہری یا ریاستی بیوروکریسی موجود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک خانہ بدوش اور قبائلی عسکری ڈھانچہ تھا۔ اورحان غازی نے تخت سنبھالتے ہی علاء الدین کو اپنا 'وزیر' مقرر کیا۔ (بعد ازاں جب سلطنت وسیع ہوئی تو اس عہدے کو 'وزیرِ اعظم' کا نام دیا گیا)۔
علاء الدین پاشا نے عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے ریاست کے آئینی، مالیاتی اور عسکری خدوخال کو ایک قبائلی نظام سے نکال کر ایک مستقل شہری حکومت (Settled State) کے نظام میں تبدیل کیا۔

عسکری تنظیمِ نو: پہلی باقاعدہ فوج کا قیام
عثمانیوں کی ابتدائی فتوحات 'آقنجی' (Akıncı) کہلانے والے ہلکے گھڑ سواروں کے ذریعے ہوئی تھیں، جو جنگ کے بعد اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے تھے۔ جب بازنطینی سلطنت کے بڑے قلعہ بند شہروں کا محاصرہ کیا گیا، تو یہ قبائلی فوج ناکافی ثابت ہوئی۔
اس سنگین عسکری مسئلے کو حل کرنے کے لیے، علاء الدین پاشا نے قاضی چاندارلی کارا خلیل کے ساتھ مل کر سلطنتِ عثمانیہ کی پہلی باقاعدہ، مستقل اور تنخواہ دار فوج (Standing Army) کی بنیاد رکھی۔
اس نئی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا:

یایہ (Yaya): باقاعدہ پیادہ فوج (Infantry)، جنہیں ریاستی خزانے سے روزانہ ایک 'آقچہ' (چاندی کا سکہ) تنخواہ دی جاتی تھی۔

مسلم (Müsellem): باقاعدہ رسالہ یا گھڑ سوار دستے (Cavalry)، جنہیں جنگ کے دوران تنخواہ اور امن کے دوران جاگیریں دی گئیں۔
یہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ریاست کی طرف سے قائم کی جانے والی پہلی باقاعدہ تنخواہ دار ملٹری فورسز میں سے ایک تھی، جو بعد میں مشہور 'ینچری' (Janissary) کور کی بنیاد بنی۔

فوجی یونیفارم اور 'بُورک' (Börk) کا نفاذ
اناطولیہ میں عثمانیوں کے علاوہ کئی دیگر ترکمان ریاستیں موجود تھیں۔ میدانِ جنگ میں عثمانی فوج کو دیگر ریاستوں اور بازنطینی دستوں سے واضح طور پر الگ شناخت دینے کے لیے، علاء الدین پاشا نے ایک سخت عسکری ڈریس کوڈ نافذ کیا۔
انہوں نے عثمانی فوجیوں کے لیے سفید رنگ کی اونی ٹوپی، جسے 'بُورک' (Börk) کہا جاتا تھا، پہننا لازمی قرار دیا۔ دیگر ریاستوں کے فوجی سرخ ٹوپیاں پہنتے تھے، لیکن سفید بُورک عثمانی عسکری شناخت کا حتمی نشان بن گیا، جو اگلی کئی صدیوں تک عثمانی پیادہ فوج کے زیرِ استعمال رہا۔

مالیاتی خودمختاری اور پہلے عثمانی سکے کا اجراء
عثمان غازی کے دور تک عثمانی ریاست میں سلجوقی سلطنت یا ایل خانی (منگول) سلطنت کے سکے استعمال ہوتے تھے، جو ان کی مالیاتی ماتحتی کا ثبوت تھا۔
علاء الدین پاشا نے ایک آزاد ریاست کی حتمی شرط پوری کرتے ہوئے 1327 عیسوی میں اورحان غازی کے نام کا پہلا آزاد چاندی کا سکہ (Akçe) جاری کیا۔ اس ایک مالیاتی اقدام نے سلطنتِ عثمانیہ کو سلجوقیوں اور منگولوں کے معاشی تسلط سے مکمل طور پر کاٹ کر ایک خود مختار جغرافیائی اور مالیاتی اکائی بنا دیا۔

آخری ایام اور وفات
ریاست کا مکمل انتظامی اور عسکری ڈھانچہ کھڑا کرنے کے بعد، علاء الدین پاشا نے بتدریج خود کو ریاستی سیاست سے الگ کر لیا۔ انہوں نے برسا شہر کے اندر ایک نظامت (Dervish lodge / Tekke) قائم کی اور باقی زندگی اسی مقام پر گزاری۔
ان کا انتقال 1331 یا 1332 عیسوی کے لگ بھگ برسا میں ہوا۔ ان کی تاریخی اور آئینی خدمات کے پیشِ نظر، انہیں برسا میں سلطنت کے بانی، عثمان غازی کے تاریخی مقبرے (Osman Gazi Türbesi) کے بالکل ساتھ پورے ریاستی پروٹوکول کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی تشکیل دی گئی بیوروکریسی اور عسکری بنیادوں پر ہی اورحان غازی نے آگے چل کر پورے اناطولیہ اور بلقان کو فتح کیا۔

تاریخی حوالہ جات: درویش احمد عاشق پاشا زادہ (تواریخ آلِ عثمان)، محمد نشری (کتاب جہان نما / تاریخ نشری)، اوروچ بے (تواریخ آلِ عثمان)، ادریس بتلیسی (ہشت بہشت)، ابنِ بطوطہ (سفرنامہ ابنِ بطوطہ / تحفۃ النظار)، خلیل انالجک (تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ)، اور اسماعیل حقی اوزون چارشلی (تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ)۔

Address

Swabi
2300

Telephone

+923167727707

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor History posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Professor History:

Share