Mianwali Cotton Factory

Mianwali Cotton Factory It is created to provide facility to customer's
Social media is being used by farmers to....Daily ra

26/06/2024
الحمدللہ کاٹن سیزن 23-2022 میانوالی کاٹن فیکٹری یونٹ 1 واں بھچراں  خریداری شروع کر دی ۔اللّه پاک سب کے کاروبار میں برکت ...
15/09/2022

الحمدللہ کاٹن سیزن 23-2022 میانوالی کاٹن فیکٹری یونٹ 1 واں بھچراں خریداری شروع کر دی ۔اللّه پاک سب کے کاروبار میں برکت ڈالے آمین🤲🤲🤲

23/04/2022

*بریکنگ*
*اپٹما نے حکومت سے کپاس کی امدادی قیمت 8000 روپیے فی من کرنے کی اپیل کر دی*

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیزن 2022/23 کے لیے کپاس کی امدادی قیمت 8000 روپے فی من کا اعلان کرے۔
اس وقت پنجاب میں گندم کی کٹائی ہو رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں کپاس کی بوائی شروع ہو جائے گی اور کپاس کے زیادہ سے زیادہ رقبے پر کاشت کرنے کے لیے اس ونڈو کو ضائع یا تاخیر سے نہیں جانا چاہیے۔
"کم سے کم امدادی قیمت (MSP) ان کسانوں کے منافع اور اعتماد میں اضافہ کرے گی جو گنے، چاول اور مکئی جیسی دوسری فصلوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ پچھلے سال، ایم ایس پی کا بھی اعلان کیا گیا تھا، لیکن حکومت نے قیمت کا اعلان کرنے میں اس وقت دیر کر دی تھی جب بوائی کا سیزن تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
فصل کے سیزن 2021/22 کے دوران کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 433 کلوگرام فی ہیکٹر سے 33.5 فیصد بڑھ کر 652 کلوگرام فی ہیکٹر تک پہنچ گئی کیونکہ کاشتکاروں نے کپاس کی متوقع زیادہ قیمت کی وجہ سے اضافی خیال رکھا۔
اپٹما نے کہا کہ کپاس کی کم پیداوار کی وجہ سے پاکستان کو براہ راست کم از کم 5 بلین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافے کا براہ راست اثر $1 بلین فی 10 لاکھ گانٹھوں پر پڑے گا اور مالیاتی بہاؤ پر سات گنا زیادہ اثر پڑے گا۔ معیشت
اس دہائی میں کپاس کا رقبہ 2.9 ملین ہیکٹر سے 33 فیصد کم ہو کر 1.9 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے۔ تقریباً 1.5 ملین کاشتکار کپاس کاشت کرتے ہیں، جن میں سے 75 فیصد پنجاب میں کاشت کی جاتی ہے جبکہ باقی سندھ میں کاشت کی جاتی ہے، جبکہ پنجاب میں کپاس کا رقبہ 2012 میں 2.53 ملین ہیکٹر سے 50 فیصد کم ہو کر 2022 میں 1.28 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے۔
پاکستان میں کپاس کی پیداوار گزشتہ 10 سالوں میں 880 کلوگرام فی ہیکٹر سے 26 فیصد کم ہو کر 652 کلوگرام فی ہیکٹر پر آ گئی ہے، جب کہ پنجاب میں یہ کمی زیادہ واضح ہے اور پیداواری صلاحیت 2012 میں 814 کلوگرام فی ہیکٹر سے 36 فیصد کم ہو کر 52 کلو گرام فی ہیکٹر پر آ گئی ہے۔۔

تحریر ، مدبر شاہ

03/07/2021

فن لینڈ کے والدین کو یہ فکر بلکل نہیں ہوتی کہ بچہ اب سکول جانے لائق ہوگیا ہے تو کس سکول میں داخلہ کرائیں. کیونکہ فن لینڈ کے سارے پرائمری سکول ایک جیسے ہیں. عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں، یکساں فنڈ لیتے ہیں. وہاں رزلٹ کارڈ بچوں کیلئے نہیں اساتذہ کیلئے بنتے ہیں. یہ دیکھنے کیلئے کہ اس کی کلاس کا کونسا بچہ مزید محنت مانگ رہا ہے.

ویرا کو پرائمری سکول ٹیچر بننے کا بڑا "شوق" تھا. فن لینڈ میں پرائمری ٹیچر کیلئے اہلیت یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم ہے. ویرا نے وہ امتیازی نمبرز کے ساتھ پاس کی اور فوری ٹیچر کیلئے اپلائی کیا. پہلا ٹیسٹ تھیوری کا تھا. وہ پاس کرلیا. دوسرا گروپ پلاننگ کا تھا. ویرا چونکہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی گروپ ایکٹیویٹی پلان کرتی تھی تو اس نے یہ امتحان بھی پاس کر لیا. تیسرا پینل انٹرویو تھا. جس کا پہلا سوال ہوا آپ ٹیچر کیوں بننا چاہتی ہیں.؟ ویرا نے کہا مجھے بڑا "شوق" ہے.

پینل بورڈ نے پوچھا یہ شوق کیسے ہوا. ویرا نے کہا چونکہ ہماری فیملی میں ٹیچر کافی ہیں تو مجھے بچپن سے ٹیچر بننے کا شوق ہوگیا. اور ویرا کو فیل کر دیا گیا. ویرا فن لینڈ میں ٹیچرز ٹریننگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پاسی سالبرگ کی بھانجی تھی. اس نے اپنے ماموں کو روتے ہوئے فون کیا. ڈاکٹر صاحب نے کہا بیٹا انٹرویو پینل بچوں کا مستقبل کسی کے شوق کے سپرد نہیں کر سکتا. تم ایک سال کسی سکول میں اسسٹنٹ کی جاب کرو. تاکہ تمہیں انٹرویو کرنے والوں کے سوالات کے جوابات مل جائیں. اگلے سال دوبارہ کوشش کر لینا.

ہماری تعلیم کا مسئلہ بھی پرائمری لیول سے ہی شروع ہوتا ہے. نہ سکول سسٹم یکساں ہے. نہ کورس یکساں ہے. نہ پرائمری اساتذہ کا اپنا تعلیمی معیار اعلیٰ ہوتا ہے. نہ ان کو شوق ہوتا ہے. نہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کو پڑھانے کی تکنیک کیا ہے. تو آپ خود سوچیں یہ تعلیمی نظام ہمارے کل کو کیا بنیاد فراہم کر رہا ہے.؟

‏مہنگا بھانویں سستا گھنسوں..نواں بھانویں خستہ گھنسوںکنڑکاں کپ تے عاشر بچڑاپہلے تیڈا بستہ گھنسوں..😢
17/05/2021

‏مہنگا بھانویں سستا گھنسوں..
نواں بھانویں خستہ گھنسوں
کنڑکاں کپ تے عاشر بچڑا
پہلے تیڈا بستہ گھنسوں..😢

‏ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا...
11/05/2021

‏ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔
صنعت کار۔ تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟
مچھیرے۔ کیونکہ آج کے دن میں کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔
صنعت کار۔ تو تم مزید کیوں نہیں پکڑ رہے؟
‏مچھیرا۔ میں مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟
صنعت کار۔ تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو، پھر تمہارے پاس موٹر والی کشتی ہوگی جس سے تم گہرے پانیوں میں جاکر مچھلیاں پکڑ سکو گے. تمہارے پاس نائیلون کے جال خریدنے کے لئے کافی پیسے ہوں گے۔ اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے
‏جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ ہوسکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑا ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر ہو جاؤ گے۔
مچھیرا۔ اس کے بعد میں کیا کروں گا؟
صنعت کار۔ پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لُطف اُٹھانا۔
مچھیرا۔ تمہیں کیا لگتا ہے، میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟۔۔،،

02/02/2021

like n share
facebook.com/itislamabad

IT Services in Islamabad and Rawalpindi, Office automation, C++, Web Development

24/09/2020

*مڈل کلاسئیے*
پاکستان میں دو قسم کے لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……
یہ جو درمیان والے *”مڈل کلاسیئے“* ہیں، صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے. یہ رکھ رکھاؤ سے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا.
ہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔
امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔
پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتا ہے. گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔
درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔
*یہ مڈل کلاسیا کون ہوتاہے؟*
*اس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔
*اس کے پاس نسبتاً بہتر گھر ہوتا ہے لیکن کرائے کا۔
*گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔
*گھر میں اے سی ہوتا ہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔
*کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔
* گھر میں یو پی ایس ہوتا ہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔
*اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتا ہے لیکن استعمال شدہ۔
*اس کے گھر میں ہر ہفتے پتلے شوربے والی مُرغی بنتی ہے۔
*یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتا ہے۔
*اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتا ہے لیکن کبھی پانچ سو ہزار سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔
*یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے ہوائی منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔
*اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔
"یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی کے لیے تین کھانوں کا آرڈر دیتا ہے.
* رشتے دار آسے امیر سمجھ اکثر اس سے ادھار مانگنے آجاتے ہیں یا کم از کم تحائف کی توقع ضرور رکھتے ہیں.
*یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔
*اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔
*اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔
پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعداد مڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔
جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔
جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کر لیتا ہے۔
پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتا اور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
رگڑا اُس کو لگتا ہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔
غریبوں کی اکثریت کو یہ *مڈل کلاسیے* ہی پال رہے ہیں۔کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ سب سے زیادہ خوف خدا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔
یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔
آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہو گی۔
لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔
لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔
*عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔
*ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔
،*یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتا ہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔
*یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔
*یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹر کی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔
*یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہو پاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کر دیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔
*ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔
*ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے.
*اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی.
*اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔
*ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگر مختلف گھروں میں بھی کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن " مڈل کلاسئے" پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے، وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے میں ابھی کافی دن باقی ہیں۔
زکوٰۃ غریبوں کو جاتی ہے۔
خیرات کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔
فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔
لیکن غریب یہ سب لے کر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مل جل کر پا لیں۔
بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔
آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں، آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔
لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟
یہ نہ زکوٰۃ مانگتا ہے‘
نہ فطرہ
نہ خیرات
۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے
اور مرتا ہے..

Address

Wanbhachran
4100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mianwali Cotton Factory posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share