17/05/2026
شہر بھر کے
خداووں کا بہرہ وجود
کہہ رہا تھا
پرستش کرو
ہم
وہ فرعون ہیں
ایسے فرعون
جن کے ٹیبل پے رکھے ہوئے
قلم نے
کتنے
سر
قلم کرنے کی ترغیب دی
ہم مریں گے نہیں
ہم سدا اس شہر پر
قہر بن کے اپنے ارادوں کے
لشکر اتاریں گے
یوں
جیسے
جہنم میں اگنی کا تہوار ہو
اور
تم
حقیر
پاوں کے جوتے سے لپٹی ہوئے خاک ہو
ایک ماضی کی کالی سیاہ راکھ ہو
دوستو
ایسے کم ظرف دشمن کا سامنا ہے ہمیں
جو سمجھتا ہے
کہ
وہ خدا ہے
دیوتا صفت
خالقِ تقدیر
ہے
یہ نخوت زدہ خودپرست شہنشاہ
جانتا ہی نہیں
ایک
"کن "
کے پرے
اسکے سب لاحقے سب سابقے
بکھر جائیں گے
اس کا نام و نشاں تک ملے گا نہیں
ایسے جابر کئی آئے اور مر گئے
لافانی فقط اس کی ہے ذات کریم
باقی سب کھیل ہے
اور اس کھیل کے تم علی ہو ،حسن یا شبیر ہو
یا
پھر
اہریمن صفت
شیطان خُو
سیاہ باطن
بدفطرت
کوئی شخص ہو
وقت لکھے گا سب کچھ قرطاس پر
یاد رکھنا
اے بھولے بھٹکے نحوست زدہ شہنشاہ
بد نصیب اور بے رَحم شہنشاہ
نوید احمد سلہری