Being Ismaili Muslim

Being Ismaili Muslim Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Being Ismaili Muslim, 2323 Allen Pkwy, Houston, TX.
(3)

الحمدُ لله، أنا شيعي إمامي نزّاري إسماعيلي.

أؤمن بالله الواحد، وأشهد أن سيدنا محمداً ﷺ خاتم الأنبياء، وأؤمن بالقرآن الكريم، وأنا عاشقٌ لأهل البيت عليهم السلام.

وعقيدتي أن وجود الإمام ضروريٌ إلى يوم القيامة، وأنه يكون من أهل البيت.

وسيّدنا مولانا شاه

09/07/2026

جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کا اللہ کی جانب سے کوئی امامِ ظاہر نہ ہو، ایسا شخص کفر اور نفاق کی موت مرتا ہے۔ اللہ ایسے شخ...
09/07/2026

جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کا اللہ کی جانب سے کوئی امامِ ظاہر نہ ہو، ایسا شخص کفر اور نفاق کی موت مرتا ہے۔ اللہ ایسے شخص کی عبادت اور مشقت سے بیزار ہے۔
الکافی، کتاب ۴، باب ۸۶، حدیث ۲
علامہ باقر مجلسی مرآۃ العقول فی شرح اخبار آل الرسول (4/213): صحیح
شیخ باقر البہبودی صحیح الکافی (43/1): صحیح See less

Aga Khan III (Sir Sultan Muhammad Shah) نے پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے کئی اہم کام کیےمسلمانوں کے لیے 20 اہم خ...
09/06/2026

Aga Khan III (Sir Sultan Muhammad Shah) نے پاکستان اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے کئی اہم کام کیے

مسلمانوں کے لیے 20 اہم خدمات
1906ء — شملہ مسلم وفد: مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور جداگانہ نمائندگی کے مطالبے کے لیے وفد کی قیادت کی۔
1906ء — مسلم لیگ: آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے ابتدائی دور میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلم سیاسی نمائندگی: برصغیر کے مسلمانوں کے لیے قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی کی وکالت کی۔
علیحدہ انتخابی حلقے: مسلمانوں کے جداگانہ انتخابی حقوق کے مطالبے کی حمایت کی۔
علی گڑھ تحریک کی حمایت: مسلمانوں میں جدید تعلیم کے فروغ کی بھرپور حمایت کی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: یونیورسٹی کے قیام اور ترقی کے لیے مالی و سیاسی حمایت فراہم کی۔
مسلم نوجوانوں کی تعلیم: اعلیٰ تعلیم کو مسلمانوں کی ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔
خواتین کی تعلیم: مسلم معاشرے میں خواتین کی تعلیم اور سماجی ترقی کی حوصلہ افزائی کی۔
مسلم لیگ کی قیادت: آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے صدر رہے۔
لندن میں مسلم نمائندگی: برطانوی حکومت کے سامنے ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی مفادات پیش کیے۔
Round Table Conferences: ہندوستان کے آئینی مستقبل پر ہونے والی اہم کانفرنسوں میں مسلم نقطۂ نظر کی نمائندگی کی۔
تعلیمی وظائف: مسلمانوں کے لیے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور وظائف کی حمایت کی۔
سائنسی و جدید تعلیم: مسلمانوں کو صرف مذہبی تعلیم تک محدود نہ رہنے بلکہ سائنس، طب اور جدید علوم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
مسلم سماجی اصلاح: مسلمانوں میں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور معاشرتی ترقی پر زور دیا۔
معاشی ترقی: مسلمانوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے معاشی طور پر مضبوط ہونے کی ترغیب دی۔
زراعت اور دیہی ترقی: ان کے وسیع تر فلاحی کاموں میں دیہی آبادی کی ترقی بھی شامل تھی۔
صحت کے شعبے میں کام: Aga Khan کے ادارہ جاتی ورثے نے بعد میں پاکستان میں صحت کے متعدد منصوبوں کی بنیاد رکھی۔
پاکستان میں تعلیمی ادارے: Aga Khan کے خاندان اور اداروں کی تعلیمی خدمات نے پاکستان میں بھی نمایاں اثر ڈالا۔
پاکستان کے قیام کے بعد تعلق: پاکستان بننے کے بعد انہوں نے نئی ریاست کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھے۔
مسلمانوں کے مستقبل کا تصور: ان کی بنیادی سوچ یہ تھی کہ مسلمان تعلیم، سیاسی شعور اور معاشی خودمختاری کے ذریعے ترقی کر سکتے ہیں۔
خاص طور پر 1906ء کا شملہ وفد، مسلم لیگ کی قیادت اور علی گڑھ کی حمایت ان کے تاریخی کردار کے اہم ترین حصے ہیں۔

09/06/2026
🥰 لآلئِ معرفت — حضرت موسیٰؑ کے واقعۂ طور میں الٰہی نور اور اسمِ اعظم سوال:کیا یہ محض ایک تمثیل ہے یا حقیقت کہ حضرت موسیٰ...
09/06/2026

🥰 لآلئِ معرفت — حضرت موسیٰؑ کے واقعۂ طور میں الٰہی نور اور اسمِ اعظم

سوال:

کیا یہ محض ایک تمثیل ہے یا حقیقت کہ حضرت موسیٰؑ جب آگ کی تلاش میں گئے تو اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے؟ کیا انہوں نے اللہ کے نور کو ظاہری آنکھ سے دیکھا یا باطنی آنکھ سے؟ اور اگر یہ واقعہ تأویل سے متعلق ہے تو اس درخت کی کیا تأویل ہے جس پر نور ظاہر ہوا؟

اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰؑ کے واقعے کے بارے میں فرماتا ہے:

> ﴿فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَعَلِّي آتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ۝ فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِي الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾
(القصص: 29–30)

❁ جواب:

حضرت موسیٰؑ کے اس واقعے میں تمثیلی اور باطنی پہلو نمایاں ہے۔ یہاں آگ نور کی علامت ہے، جبکہ درخت اسمِ اعظم کی علامت قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں پاکیزہ کلمے اور پاکیزہ درخت کے درمیان مثال بیان کی گئی ہے:

> ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ﴾
(إبراهيم: 24)

حضرت موسیٰؑ کے لیے نور کا مشاہدہ محض ایک اچانک پیش آنے والا ظاہری واقعہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک طویل روحانی تربیت اور معرفت کے سفر کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ روایتی اسماعیلی تعبیر کے مطابق، مصر میں بھی حضرت موسیٰؑ کی روحانی تربیت کا ایک سلسلہ تھا اور ہجرت کے بعد حضرت شعیبؑ سے بھی انہیں روحانی تربیت حاصل ہوئی۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق اللہ کا نور ظاہری جسمانی آنکھ سے نہیں بلکہ باطنی یا روحانی آنکھ سے مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جب ظاہری اور باطنی حواس ایک طرح سے متحد ہو جائیں تو جو چیز ظاہری طور پر محسوس ہوتی ہے، اس کی حقیقت بھی باطنی مشاہدے سے متعلق ہو سکتی ہے۔

یعنی انبیائے کرامؑ اور اولیائے الٰہی کے لیے باطنی حواس کی معرفت اور ادراک ظاہری حواس پر غالب ہو سکتا ہے۔

❤️❤️⚜️ محبت، نور اور برکت سب کے لیے ⚜️❤️❤️

بےحیثیت! ایک اسماعیلی مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے یہ اجازت نہیں کہ میں دوسرے فرقے یا کسی اور مذہب کے لوگوں کو کافر کہوں...
09/06/2026

بےحیثیت! ایک اسماعیلی مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے یہ اجازت نہیں کہ میں دوسرے فرقے یا کسی اور مذہب کے لوگوں کو کافر کہوں یا ہر وقت ان کے مذہب پر بحث کرتا پھروں۔ میرا کسی دوسرے مذہب سے کوئی واسطہ ہی نہیں، اس لیے میں اپنا قیمتی وقت فضول بحثوں میں ضائع نہیں کرتا۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دوسرے فرقوں کے لوگ مجھے بار بار کیوں سکھانے آ جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات انہیں خود بنیادی باتوں کا علم نہیں ہوتا۔ الحمدللہ، میں چوری نہیں کرتا، زنا نہیں کرتا، ناپ تول میں کمی نہیں کرتا، گالی گلوچ سے بات نہیں کرتا، بچوں کو اغوا یا ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا اور نہ عورتوں یا بچوں کی عزت پامال کرتا ہوں۔

جاہل نہیں ہوں، الحمدللہ۔ مجھے اپنے اسماعیلی مسلمان ہونے پر فخر ہے، کیونکہ میں آج بھی آلِ رسول ﷺ کی اطاعت اور اپنے وقت کے امام کی رہنمائی کو اپنی دینی زندگی کا حصہ سمجھتا ہوں۔ اختلاف کرنا ہے تو دلیل اور علم کے ساتھ کریں، الزام اور گالی کے ساتھ نہیں۔

❤️ ہم اسماعیلیوں کی وہ خصوصیات جو ہمیں ممتاز کرتی ہیں ❤️ہم ماضی کے اسیر نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے حال میں زندگی گزارتے ہیں...
09/05/2026

❤️ ہم اسماعیلیوں کی وہ خصوصیات جو ہمیں ممتاز کرتی ہیں ❤️

ہم ماضی کے اسیر نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے حال میں زندگی گزارتے ہیں جسے ماضی نے محدود کر دیا ہو۔ ہم اپنی تاریخ کا احترام کرتے ہیں، اسے پڑھتے ہیں اور اس کی قابلِ فخر اور روشن یادگاروں پر فخر کرتے ہیں، لیکن ہم ماضی کی پرستش یا تقدیس نہیں کرتے۔ بلکہ اس سے سبق حاصل کرتے ہیں اور اسی سبق کو ساتھ لے کر مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر دور کا اپنا زمانہ اور اپنے چیلنجز ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہم امامِ وقت و زمان کی ہدایات پر اپنے موجودہ دور اور حالات کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک دین زندگی سے لاتعلقی کا نام نہیں، بلکہ موجودہ زمانے کو سمجھنے اور اس کے ساتھ مثبت طور پر ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کا نام ہے۔

جیسا کہ اخوان الصفا کے علمی ورثے میں بیان ہوا ہے:

> "اے میرے بھائی! جان لو کہ ہم کسی علم سے دشمنی نہیں رکھتے، نہ کسی مذہب کے بارے میں تعصب کرتے ہیں، اور نہ ہی حکمت و فلسفے کی ان کتابوں کو ترک کرتے ہیں جو اہلِ حکمت و فلسفہ نے مختلف علوم میں تصنیف کیں اور اپنی عقلوں سے ان کے نتائج اخذ کیے۔"

لہٰذا علم، فکر اور مکالمے کے لیے ہماری کشادگی ہماری شناخت سے دستبرداری نہیں، بلکہ یہ ہمارے فکری ورثے کا حصہ ہے۔

ہم ماضی کا احترام کرتے ہیں، مگر اس کے اسیر نہیں ہوتے؛
ہم حال میں زندہ رہتے ہیں اور مستقبل کی طرف نگاہ رکھتے ہیں۔

09/05/2026

First Diddar Moullana Shah Karim Al Hussaini

09/05/2026

😍 🥰

Address

2323 Allen Pkwy
Houston, TX
77019

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Being Ismaili Muslim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share