The University Of King Kamboh

The University Of King Kamboh The Director of this University is RAHEEL USMAN KAMBOH.

09/23/2019
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہ...
08/08/2018

عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،
قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔
(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،
اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا
جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.
چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،
اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.
مسئول کو بلایا گیا،
تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟
اس نے کہا،
جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.
بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،
مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.
اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،
چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،
اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"
بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،
معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،
چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.
بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"
اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.
ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.
کچھ وقت گزرا،
"مصاحب کو بلایا،"
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:
"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"
بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،
سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"
تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔
بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،
"تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟
اس نے کہا،
"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،
لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں
"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "
کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں ۔

کہتے ہیں کہ جب جنرل ايوب صاحب پاکستان کے صدر تھے تو ان دنوں جنرل ايوب صاحب کو بھارت میں ایک مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طو...
06/27/2018

کہتے ہیں کہ جب جنرل ايوب صاحب پاکستان کے صدر تھے تو ان دنوں جنرل ايوب صاحب کو بھارت میں ایک مشاعرے میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا جب مشاعرہ سٹارٹ ہوا تو ایک شاعر نے ایک درد بھری غزل سے اپنی شاعری کا آغاز کیا۔
جب وہ شاعر شاعری کر کے فارغ ہوا تو جنرل صاحب اس شاعر کو کہتے ہیں کہ محترم جو غزل آپ نے سٹارٹ میں پڑھی بہت درد بھری غزل تھی یقینن کسی نے خون کے آنسووں سے لکھی ہو گی اور داد دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت پسند آئی ہے تو وہ شاعر بولے جناب عالی اس سے بڑی آپ کے لئے خوشخبری اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غزل کا خالق، اس کو لکھنے والا لکھاری یعنی شاعر آپ کے ملک پاکستان کا ہے، جب جنرل صاحب نے یہ بات سنی تو آپ دھنگ رہ گے اتنا بڑا ہیرہ میرے ملک کے اندر اور مجھے پتہ ہی نہیں جب آپ نے اس شاعر سے اس غزل کے لکھاری یعنی شاعر کا نام پوچھا تو اس نے کہا جناب عالی اس درد بھرے شاعر کو ساغر صدیقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
جب جنرل صاحب پاکستان واپس آئے اور ساغر صدیقی صاحب کا پتہ کیا تو کسی نے بتایا کہ جناب عالی وہ لاہور داتا صاحب کے قریب رہتے ہیں تو جنرل صاحب نے اسی وقت اپنے چند خاص آدمیوں پہ مشتمل وفد تحائف کے ساتھ لاہور بھیجا اور ان کو کہا کہ ساغر صدیقی صاحب کو بڑی عزت و تکریم کے ساتھ میرے پاس لاو اور کہنا کہ جنرل ايوب صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
جب وہ بھیجا ہوا وفد لاہور پہنچا تو انہوں نے اپنا تعارف نہ کرواتے ہوئے داتا دربار کے سامنے کھڑے چند لوگوں سے شاعر ساغر صدیقی کی رہائش گاہ کے متعلق پوچھا تو ان کھڑے چند لوگوں نے طنزیہ لہجوں کے ساتھ ہنستے ہوئے کہا کہ کیسی رہائش؟؟ کون سا شاعر؟؟ ارے آپ اس چرسی اور بھنگی آدمی سے کیا توقع رکھتے ہیں اور پھر کھڑے ان چند لوگوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھیں سامنے پڑا ہے چرسیوں اور بھنگیوں کے جھرمٹ میں، جب وہ ايوب صاحب کا بھیجا ہوا وفد ساغر صدیقی صاحب کے پاس گیا اور ان کو ايوب صاحب کا پیغام دیا تو ساغر صدیقی صاحب کہنے لگے جاو ان سے کہہ دو کہ ساغر کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی اسی لئے ساغر کسی سے نہیں ملتا (جب ساغر صدیقی نے یہ بات کہی تو بشمول ساغر نشے میں مست وہاں موجود ہر نشئی ایک زور دار قہقہے کے ساتھ کچھ دیر کے لئے زندگی کے دیے غموں کو بھول گیا) بہرحال بےپناہ اسرار (ترلوں) کے باوجود وہ وفد واپس چلا گیا اور سارے احوال و حالات سے ايوب صاحب کو آگاہ کیا۔
کہتے ہیں کہ ايوب صاحب پھر خود ساغر صدیقی صاحب سے ملنے کے لئے لاہور آئے اور جب ان کا سامنا ساغر صدیقی صاحب سے ہوا تو ساغر صدیقی صاحب کی حالت زار دیکھ کر جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی اک نہ رکنے والی جھڑی لگ گئ اور پھر انہوں نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے غم سے چور اور نشے میں مست ساغر صدیقی سے جب مصافحہ کرنا چاہا تو ساغر صدیقی صاحب نے یہ کہتے ہوئے ان سے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا
کہ

جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی،،،
اس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

02/13/2018

ایک جنگل میں بندروں کا ایک غول رہتا تھا اس جنگل میں چونکہ بہت زیادہ تعداد میں پھل وغیرہ اُگتے تھے اس لیے وہ سب بندر بہت اطمینان اور خوشی سے رہتے تھے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ ایک سائنسدان اپنی بیٹی کے ساتھ اسی جنگل میں ریسرچ کے لیے آیا۔ خیمہ نصب کرنے کے بعد سائنسدان تو پودوں کے سیمپل اکھٹے کرنے نکل کھڑا ہوا مگر وہ لڑکی اس خیمہ کی تزین و آرائش کے لیے پیچھے رہ گئی۔ اس نے پہلے زمین پر ایک پراناقالین بچھایا۔ پر اس قالین پر بستر لگائے۔خیمے کی درمیانی ٹیک سے برقی لالٹین لٹکائی اور اس کے عین نیچے ایک چھوٹی سی میز اور اس پر سجاوٹی سیبوں سے بھرا ایک پیالہ رکھ دیا۔وہ سیب دیکھنے میں بہت تازہ، خوبصورت اور بڑے لگ رہے تھے۔
تمام بندر درختوں پر بیٹھے ان مصنوعی سیبوں کو لالچ سے دیکھ رہے تھے۔ لڑکی خیمہ کے سامنے کی جگہ صاف کرنے کے لیے زرا باہر نکلی تو ایک بندر نے تیزی سے جھپٹا مارا اور ایک مصنوعی سیب اٹھا لیا اور عین اسی وقت لڑکی کی نظر بھی اس پر پڑ گئی۔ لڑکی نے فوراً بندوق اٹھا کر نشانہ لیا اور فائر داغ دیا۔ مگر تمام بندر اتنی دیر میں وہاں سے بھاگ گئے تھے۔
کافی دیر تک بھاگنے کے بعد تعاقب نہ ہونے کا یقین ہونے پر تمام بندر رک گئے۔ چوربندر نے ہاتھ بلند کرکے سب کو سیب دکھایا۔ سب بندر حیرت سے اس بندر کو دیکھنے لگے اور اس کو خوش قسمت گرداننے لگے کہ اسے ایسا اچھا سیب مل گیا۔ اور کوشش کرنے لگے کہ ایک بار اس مصنوعی سیب کو ہاتھ لگا کر دیکھ سکیں۔
چور بندر نے سب کو جھڑکا اور یہ مصنوعی سیب لے کر ایک درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھااور سیب کو کھانے کے لیے اسے منہ میں لے کر دبایا۔ مگریہ مصنوعی سیب سخت پلاسٹ کا بنا ہوا تھا جسے چبانے سے بندر کے دانتوں میں درد ہونے لگا۔ بندر نے دو تین بار اور کوشش کی مگر ہر بار اسے درد ہونے لگتا۔
وہ دن چور بندرنے اسی اونچی شاخ پر بھوکے رہ کر گزارا۔ اگلے دن وہ نیچے اتر آیا۔ دوسرے تمام بندر اسے احترام سے دیکھنے لگے کیونکہ اس وقت بھی اس کے ہاتھ میں وہ مصنوعی سیب موجود تھا۔ دوسرے بندروں سے ملنے والا احترام دیکھ کر اس بندر نے اس سیب پر اپنی پکڑ اور مضبوط کر دی۔ اب دوسرے بندر پھلوں کی تلاش میں نکل گئے اور تیزی سے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتے ہوئے پھل توڑ توڑ کر کھانے لگے۔
چور بندر کے ایک ہاتھ میں چونکہ مصنوعی سیب تھا اس لیے وہ درختوں پر نہیں چڑھ سکا۔ مگر وہ سیب بھی ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے وہ سارا دن بھوکا پیاسا رہا اور یہی سلسلہ اگے کچھ دنوں تک چلتا رہتا۔ دوسرے بندر اس کے ہاتھ میں مصنوعی سیب ہونے کی وجہ سے عزت کرتے مگر اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتے۔
بھوک سے بے حال وہ بندر اتنا نڈھال ہو چکا تھا کہ اس کو اپنا آخری وقت نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر اس سیب کو کھانے کی کوشش کی مگر اس بار بھی نتیجہ مختلف نہ تھا۔ اس کے دانت اس مرتبہ بھی درد کر رہے تھے۔ چور بندر کو اپنی آنکھوں کے سامنے درختوں سے لٹکے ہوئے پھل نظر آ رہے تھے مگراس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان درختوں پر چڑھ سکتا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔ جان نکلتے ہی اس کی گرفت مصنوعی سیب پر ڈھیلی ہو گئی اور وہ مصنوعی سیب اس کے ہاتھ سے نکل کر لڑکھ گیا۔
شام کو باقی بندر آئےانہوں نے مرے ہوئے بندر کی لاش پر کچھ آنسو بہائے افسوس کیا اور اس کی لاش کو پتوں سےڈھانپ دیا۔ ابھی وہ اتنا کر ہی رہے تھے کہ ایک دوسرے بندر کو وہی مصنوعی سیب ملا۔ اور اس نے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو وہ سیب دکھانا شروع کر دیا
دنیا کی مثال بھی اس پلاسٹک کے سیب کی طرح ھے اس سے حاصل کچھ نہیں ھوتا۔ جب کہ اس کو دیکھنے والے اس سے متاثر ھو رھے ھوتے ھیں اور دنیا کو ھاتھ میں رکھنے کا دعویدار بلا آخر خالی ھاتھ لا حاصل اس دنیا سے چلا جاتا ھے۔ اور اس کی دنیا پر کوئی اور قابض ہو جاتا ہے۔
جھوٹا دکھاوا انسان کو پہلے تھکا دیتا ھے پھر مار ڈالتا ھے۔

02/08/2018

*قوت برداشت*

بند دکان میں کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سانپ گهس آیایہاں سانپ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی اس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیاگهبراہٹ میں سانپ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا سانپ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا اگلی بار سانپ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی دوسرے دن جب دکاندار نے ورکشاپ کهولی تو ایک سانپ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنی طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں کچھ چیزوں کوکچھ لوگوں کوکچھ حوادث کوکچھ کاموں کوکچھ باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے.اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں سب سے بڑی قوت۔۔۔قوتِ برداشت ہےصبر ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی نہ کسی کے قدموں میں..... نہ کسی کی نظروں میں۔

12/29/2017

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا:
1 انصاف کرنے والا بادشاہ،
2 وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا،
3 ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے،
4 دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی (اللہ کے لیے محبت) محبت ہے،
5 وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے (برے ارادہ سے) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں،
6 وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔
7 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور (بے ساختہ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
{صحيح بخاري: 660}
{صحيح مسلم: 2380}

12/29/2017

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضى الله عنه ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺘّﮯ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﺕ ﺑﭽﮯ ﺟﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﯿﻦ ﺑﭽﮯ ﺟﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﮐﺘّﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺣﻼﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺁﺋﮯ ﺭﻭﺯ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺫﺑﺢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﺘّﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ !!
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضى الله عنه ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﯾﮩﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﺮﮐﺖ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺑﺮﮐﺖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﺘّﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ‏( ﻓﺠﺮ ‏) ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﺎﮔﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﮐﺘّﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﻓﺠﺮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﻠﺪ ﺳﻮ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﭨﮭﻮ ﯾﮩﯽ ﺭﺯﻕ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﮯ۔ ...
ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ , ﻭﺍﭨﺲ ﺍﭖ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼّﮯ ﮐﯽ
ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﻮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭھے۔.......؟؟؟؟

منڈی موڑ سے اسلام آباد کی طرف نکل رہا تھا کہ اچانک اس بابا جی پر نظر پڑ گئی ، گاڑی رکوائی اور کیلے لینے لگا ، فروٹ لینے ...
12/23/2017

منڈی موڑ سے اسلام آباد کی طرف نکل رہا تھا کہ اچانک اس بابا جی پر نظر پڑ گئی ، گاڑی رکوائی اور کیلے لینے لگا ، فروٹ لینے کی ضرورت نہیں تھی فقط اس وجہ سے لیا کہ بزرگ بیچ رہے ہیں، یقینا مجبوری نے یہاں بٹھایا ہو گا ،

باتوں باتوں میں پوچھا بابا جی کہاں سے ہو ؟

جواب دیا بونیر سے ہوں ، پھر سوال کیا بیٹے نہیں ہیں جو اس عمر میں یہاں بیٹھے ہو ؟ کہا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ پاگل ہے ،

ذہن میں سوال آیا پوچھوں بیٹیاں کتنی ہیں ؟

مگر بات بیٹیوں کی تھی اس لیے نہ پوچھ سکا ، یہ سوال لبوں سے واپس کیا ، ایک حساس انسان بوڑھے باپ کا جواب سننے کی تاب نہیں رکھ سکتا ، اگر بابا جی کہہ دیتے بیٹیاں جہیز کے انتظار میں ہیں تو قیامت نے آ جانا تھا ، اس سوال کی ہمت ہی نہیں ہوئی ، چپ ہو گیا ،

دیر بعد پوچھا رات کہاں گزارتے ہو ؟

جواب دیا ادھر ہی، کمبل اوڑھ لیا اور سو گئے ، کوئی کمرہ نہیں ، کہا بابا جی اجازت ہو تو ہاتھ چوم لوں ؟ میرا یہ کہنا تھا کہ بابا جی رو پڑے ، میرے بھی آنسو گر گئے ، خود کو سنبھالا ، بابا جی کو گلے لگایا اور چل پڑا ، خیال آیا ان سے فون نمبر لے لوں اور دوستوں سے کہوں اس خودار انسان کی مدد کیجئے ، واپس فون نمبر کے لیے پلٹا تو کہا بیٹا فون استعمال کرنا ہی نہیں آتا شناختی کارڈ دے سکتا ہوں ، ہم نے شناختی کارڈ کا فوٹو لیا اور آپ کے سامنے رکھ دیا ،

ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ کیا آپ بھی اس بزرگ کے ساتھ تعاون کریں، جس دیس کے بوڑھے راتوں کو سڑک پر سوتے ہوں اور دن کے اجالے میں سڑک کنارے کیلے بیچتے ہوں وہاں رحمتیں نہیں اترا کرتیں ، سوچیں اس عمر میں ہمارا والد یہاں بیٹھا ہوتا تو ہم پر کیا گزرتی؟

سچ یہ ہے کہ

میں قادر مطلق کی حکمتیں آج تک نہیں جان پایا ، ایک بیٹا دیا اور وہ بھی پاگل ؟ خود مالک کائنات کہتے ہیں کہ سفید بالوں سے حیا کرنے والے میرا حیا کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ یہ بخت روان بابا جی کا امتحان نہیں اس سوسائٹی کا امتحان ہے ، اس معاشرے کا امتحان ہے ، شاید قدرت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہم اس امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ؟ آئیے ان کی مدد کے لیے قدم اٹھائیے_

نوٹ بابا جی راولپنڈی منڈی موڑ ہی ہوتے ہیں ان کا رابطہ نمبر کوئی نہیں جو دوست ان سے تعاون کرنا چاہتے ہیں وہ خود مل لیں یا کوئی ایک نمائندہ دوست مقرر کر لیں جو ان تک انکی امانت پہنچا دے_

12/23/2017

دجال

دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ،

رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ،

اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا .

۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا، اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے ۔جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے،درختوں پر پھل آجائیں گے،

کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے ۔اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بالوں کی طرح رواں ہو گی، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا، تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔ وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہراداری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا،

اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا ۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے، باہر نکلتے ہیں دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا ۔

آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اورخاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے ،مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال کی ا
جازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے،

،چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا ۔جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا کہ میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہوجائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا درباری فوراً اس کے دو ٹکڑے کردیں گے،

دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردو تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا ۔یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔

دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آگیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اسکی قدرت سلب کر لی جائے گی دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا لیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی،

۔اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے ۔دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا ایک دن ایک سال دوسرا ایک مہینہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے،

امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی،کیونکہ وہ اپنے مادی وافرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میںدھاک بٹھا چکا ہو گا اس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا ۔

حضرت مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے ۔تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے ۔ ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہو گا۔امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے مصلے کی طرف بڑھیں گے،تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا،

نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپاہے ،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔

پھر وہ صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا ۔

(مسلم، ابن ماجہ، ابوداود، ترمذی، طبرانی، حاکم، احمد)

(یادرھے کہ فتنہ دجال سے آگاھی تمام انبیاءعلیھم السلام کی سنت ھے جبکہ آج یہ سنت مٹ چکی ھے
لھٰذااس سنت کوزندہ کرتےھوئے اس پوسٹ کوباربارپڑھیں اوردوسروں تک پہونچائیں )

09/08/2017

تصدیق ضروری ہے

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکرار ہوگئی... تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔۔۔
بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کردی کہ وہ "چور" ہے۔ وہ ہر رہگزر سے یہی بات کرتا۔۔۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کر لیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا۔۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔۔
رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔۔۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔۔
بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ' یہ تو ناممکن سی بات ہے'
سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی۔۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ" کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔۔۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ" کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔
یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔
کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں" پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہم

08/13/2017

کسی گاؤں میں ایک غریب چرواہارہتا تھا وہ روزانہ چندبکریوں کو لے کر قریب پہاڑی پر چلا جاتا جہاں بکریاں چرتی رہتی تھیں۔ چرواہا بہرا تھا مگر اس سے اس کے کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی بیوی اسے کھانادینا بھول گئی اور پھر بچے کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا ہے۔ چرواہے نے سوچا میں گھر جا کر کھانا لے آؤں دن بھر بھوکے رہنا میرے لیے دشوار ہوگا۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک گھسیارا ( گھاس کاٹنے والا) پہاڑ کے کنارے گھاس کاٹ رہا ہے۔ چرواہا اس کے پاس گیا اور کہا بھائی تم ذرا میری بکریوں کا خیال رکھنا میں گاؤں جاکر کھانا لے آؤں۔ میری بیوی آج کھانا دینا بھول گئی ہے اتفاق سے گھسیارا ببی بہراتھاو ہ ایک لفظ بھی نہ سن سکا بلکہ اور الٹا غلط سمجھا۔ وہ بولا میں تم کو اپنی گھاس کیوں دوں ، یہ تو میں اپنے جانوروں کے لیے کاٹ رہاہوں میرے پاس ایک گائے اور دو بھیڑیں ہیں جن کے لیے مجھے دور دور سے گھاس لانا پڑتی ہے۔ نہیں نہیں میرا پیچھا چھوڑو، میں تمہاری طرح کے لوگوں سے دور ہی رہنا چاہتا ہوں، جو دوسروں کی چیزیں ہتھیالیتے ہیں۔ اتنا کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ ہلایا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔ چرواہا اس کی بات نہ سن سکا وہ بولا شکریہ میرے دوست تم نے راضی ہوکر مجھ پر بڑا احسان کیا میں بہت جلد آجاؤں گا یہ کہہ کر وہ تیزی سے گاؤں کی طرف چل دیا۔
اپنی جھونپڑی میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بیوی بخار میں مبتلا ہے اور پڑوس کی ایک عورت اس کی دیکھ بھال کررہی ہے چرواہے نے کھانا کھایااور پھر سیدھا پہاڑی کی طرف روازنہ ہوگیا اس نے اپنی بکریوں کو گنا سب بکریاں موجود تھیں گھسیارا اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چرواہے نے اپنے دل میں کہا یہ گھسیارا کتنا ایمان دار ہے میری بکریوں کی نگرانی کرتا رہا مگر شکریہ کا بھی خواہش مند نہیں ہے لنگڑی بکری اسے دے دینی چاہیے، یوں بھی مجھے اس کو ذبح تو کرنا ہی پڑے گا۔
یہ سوچ کر اس نے لنگڑی بکری کو اپنے کندے پر اٹھایا اور کھسیارے کے پاس پہنچ کر بولا بھائی میری بکریوں کی نگرانی کرنے کے صلہ میں یہ تحفہ قبول کرو اس بکری کو ذبح کرکے اس کاگوشت استعمال کرلینا۔ مگر گھسیارا ایک لفظ بھی نہ سن سکا وہ غصے سے چلایا کرکہا، چرواہے مجھے نہیں معلوم کہ تمہاری غیر حاضری میں کیا ہوا تمہاری بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو میں اس کا ذمہ دار نہیں میں تو گھاس کاٹ رہاتھا چلے جاؤ ورنہ نہ ماردوں گا۔ چرواہا سمجھ نہیں سکا کہ گھسیارا ناراض کیوں ہورہا ہے اس نے ایک آدمی کو آواز دی جو گھوڑے پر سوار تھا۔ اور کہنے لگا جناب عالمی مہربانی کرکے مجھے یہ بتائیے کہ یہ گھسیارا کیا کہہ رہا ہے۔ میں بہرا ہوں میری سمجھ نہیں آتا کہ یہ میرا تحفہ قبول کیوں نہیں کررہا اس کے بعد چرواھا اور گھسیارا دونوں چلا چلا کر اس مسافر سے باتیں کرنے لگے وہ سوار گھوڑے سے اترکراُن کے قریب آگیا۔
یہ سوار گھوڑے چرایا کرتا تھا اور یہ بھی بہراتھا لہٰذا وہ بھی نہیں سمجھ سکا کہ یہ دونوں کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ ان دونوں سے اس جگہ کا نام پوچھنا چاہتا تھا لیکن جب اس نے ان دونوں کو ناراض ہوکر چلاتے دیکھا تو گھبرا کربولا ہاں بھائی میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ گھوڑا میں نے چرایا ہے مگر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ تمہارا ہے، مجھے معاف کردو۔
اتنے میں گھسیارا چلایا، بکری کے لنگڑے ہونے میں میرا کوئی قصور نہیں۔چرواہا چلایا اس سے پوچھو کہ یہ میری تحفہ قبول کیوں نہیں کرتا، میں تو شکریہ کے طور پر اس کو یہ دے رہا ہوں۔ اس پر جور بولا۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ گھوڑا میں نے چرایا ہے مگر میں بہرا ہوں اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ تم دونوں میں سے یہ گھوڑا کس کا ہے۔
اسی اثناء میں ایک بوڑھا وہاں آگیا۔ گھسیارا دوڑ کر اس کے پاس پہنچا اور بولا محترم بزرگ میں بہرا ہوں اس لیے میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ دونوں کیا کہہ رہے ہیں۔ مہربانی کرکے آپ بتائیے کہ یہ کیوں چلارہے ہیں۔
دل چسپ بات یہ ہوئی کہ بوڑھا گونگا تھا لہٰذا وہ انہیں کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا ، بہرحال وہ ان سب کے قریب آیااور ان تینوں کے چہرے غور سے دیکھنے لگا اس وقت تک تینوں بہرے خاموش ہوچکے تھے بوڑھا اتنی دیر تک ان کے چہروں کو گھورتا رہا کہ وہ گھبراگئے اس کی چمکدار سیاہ آنکھیں تھیں۔ وہ دراصل گھور کر اصل حقیقت کا پتا چلانا چاہتا تھا۔ لیکن یہ تینوں ڈرنے لگے کہ یہ بوڑھا ان پر کہیں جادو نہ کردے، چنانچہ چور فوراََ گھوڑے پر سوار ہوکر تیزی سے بھاگ گیا چرواہا نے جلدی جلدی اپنی بکریوں کو جمع کیا اور انہیں بھگا کر ااپنے گھر کی طرف تیزی سے روانہ ہوگیا۔ گھسیارے نے اپنی نظریں نیچی کرلیں اورگھاس کا گھٹرا اپنے کندھے پر اٹھا کر تیزی سے اپنے گھر کی طرف چلا دیا․․․․․․․․ بوڑھا انہیں جاتے دیکھتا رہا، چند منٹ بعد وہ بھی چلا گیا ۔

08/05/2017

Very touching.

کچھ دن پہلے ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ میانوالی ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﻮﺍ ﭼﻨﺎﭼﮧ بندیال ﮐﯽ ﻣﯿﭩﺮﻭ ﮐﯿﺮﯼ ﺳﺮﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ گیا.
ﺟﻮﻧﮩﯽ سرگودھا ﮐﮯ پہاڑوں کی ﻣﻮﮌﻭﺍﻟﯽ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺩﻝ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺭﻭﮈ ﺑﻼﮎ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﮔﺌﯽ .
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ لوﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻟﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﺮ ﺗﮭﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ .
ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﻓﺎﺭﻣﺰ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﺎﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺭﻧﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮑﮍﺍ ﮔﯿﺎ .
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ تھیلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﮭﯿﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﺩﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ .
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ .
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﺖ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ .
ﺑﻶﺧﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﻣﺸﺘﻌﻞ ﮨﺠﻮﻡ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ .
ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ .
ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﻋﻤﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﻢ کافی ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﮯ .
ﻟﻮ ﺟﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮈﺳﮑﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﻌﻦ ﻃﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ سرگودھا ہوٹل ﻣﯿﮟ ﺑﮑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺯﺑﺢ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻮ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ . خوشاب ﻣﯿﮟ .
ﮐﭽﮫ ﻧﮯ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺎ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﯾﮧ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﮐﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﭘﯿﺴﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ؟
ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ سرائیکی ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ ﺳﻨﺎﺅ ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺩﻭ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ .
ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺷﺸﺪﺭ ﮨﻮﺍ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ ﺑﻨﺎ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﺳﻨﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻭﺍﻭﯾﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ .
ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻭﺭ ﮐﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮐﮧ " ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﮍﺍ ﺁﯾﺎ ﺳﯿﺎﻧا "
ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﻠﺰﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺑﻨﺪﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﺍﮦ ﺭﮨﻨﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮕﺎ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﻧﮕﮯ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﺎ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﮨﻮﮔﺎ ۔۔۔
میں حضور اکرم (ص) کو شکوہ کروں گا ۔۔ آپکے ﺍﻣﺘﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻨﺎ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺑﻨﺎ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺌﮯ ﺻﺮﻑ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭼﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﺍ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯼ .
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮ ! ﻣﯿﮟ جوہر آباد ﮐﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﻮﺭﻭﻡ ﺗﮭﺎ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﮉ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﻋﻼﺝ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻣﮩﻨﮯ ﺩﻭ ﺑﻮﺗﻞ ﺧﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺩﻭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﭼﺎﺭ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﻗﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ .
ﭼﺎﺭ مہینے ﺳﮯ سرگودھا ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﻟﻌﻨﺖ ﮨﮯ .
ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ .
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺴﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﺎﮞ ﺟﺐ ﺳﮯ سرگودھا ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﮨﯿﮟ
" ککڑ گھن آؤ ابا سائیں ککڑ پکاسوں "
ﺍﺑﻮ ﺁﺝ ﮔﻮﺷﺖ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺁﺝ ﻣﺮﻏﯽ ﭘﮑﺎﺋﯿﮟ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﻓﺎﺭﻡ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭘﮭﻨﮑﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﻮﭼﺎ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﺑﺲ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ .
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ .
ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ .
ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺟﮭﻮﻟﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﺍﻭﺭﮈﺍﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯿﺎﮞ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ .
ﻻﺭﯼ ﺍﮈﺍ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺩﮮ ﻣﺎﺭﺍ .
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ
ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﻣﺬﮨﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ .
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﯾﺌﮯ ﺟﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭧ ﮔﮭﭧ ﮐﺮ ﺟﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﻞ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ(ص) ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍے اس کا اصل مطلب مجھے آج سمجھ آیا کہ جب سننے والا سن کر ۔۔۔ دیکھنے والا دیکھ کر ۔۔۔ اور سہنے والا سہہ کر خاموش ہوجائے تو سمجھ لو !!
اس کا معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ گیا

Address

London, CA
58000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The University Of King Kamboh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share